سلمان کبیرنگری

ایڈیٹر نئی روشنی برینیاں سنت کبیر نگر یوپی 
نئی دہلی سے لے کر ملک کے مختلف حصوں تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو لے کر سیاسی و عوامی بحث تیز ہوتی جارہی ہے۔ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے معاملے نے اس بحث کو مزید گہرا کردیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور بعض شہری گروہوں کی جانب سے انتخابی فہرستوں، ووٹروں کے ناموں اور کمیشن کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن اور حکمراں جماعت کی جانب سے ان اعتراضات کو مسترد کیا گیا ہے۔
گزشتہ دنوں اس معاملے میں نوجوانوں کی تنظیم سی جے پی نے بھی چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا۔ تنظیم نے ایس آئی آر اور انتخابی فہرستوں سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔
اس پوری صورتِ حال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد جمہوریت کی بنیادی ضرورت ہے۔ ووٹر لسٹ میں کسی شہری کا نام موجود ہونا یا نہ ہونا محض ایک انتظامی معاملہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق شہری کے آئینی حقِ رائے دہی سے بھی ہے۔ اسی لیے انتخابی فہرستوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں شفاف وضاحت، قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور مؤثر شکایتی نظام کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اندر بعض معاملات پر اختلافِ رائے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
ایسے ماحول میں کسی بھی شخصیت کے لیے بڑے اعزاز کا مطالبہ کرنا بھی سیاسی بحث کا حصہ بن سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں گیانیش کمار کو بھارت رتن دینے اور صدر بنانے سے متعلق بیان بھی سامنے آیا، جسے سیاسی طنز کے طور پر بھی دیکھا گیا۔  تاہم کسی بھی قومی اعزاز کا فیصلہ سیاسی جذبات کے بجائے واضح معیار، دستاویزی کارکردگی اور وسیع عوامی و قومی مفاد کے تناظر میں ہونا چاہیے۔
آج کی نوجوان نسل پہلے کے مقابلے میں زیادہ سوال پوچھ رہی ہے۔ وہ انتخابی عمل، تعلیم، روزگار، صحت اور شہری حقوق جیسے موضوعات پر اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔ احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن احتجاج کے ساتھ دلیل، ثبوت، آئینی طریقۂ کار اور قانون کی پاسداری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
صحافت کا بنیادی کام بھی یہی ہے کہ وہ اقتدار ہو یا اپوزیشن، کسی بھی فریق کے دعوے کو بلا تحقیق حتمی حقیقت نہ بنائے بلکہ سوالات اٹھائے، دستاویزات سامنے لائے اور عوام کو مختلف موقف سے آگاہ کرے۔ اگر کسی صحافی یا شہری نے انتخابی عمل سے متعلق کوئی ثبوت پیش کیا ہے تو اس کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے؛ اسی طرح اگر الیکشن کمیشن ان الزامات کو غلط قرار دیتا ہے تو اسے بھی شفاف اعداد و شمار اور دستاویزی وضاحت کے ذریعے اپنا موقف عوام کے سامنے رکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔
ملک کے موجودہ سیاسی ماحول میں اصل ضرورت کسی ایک شخصیت کے حق یا مخالفت میں جذباتی نعرے سے زیادہ شفافیت، جواب دہی اور عوام کے اعتماد کی ہے۔ انتخابی ادارے جتنے مضبوط اور شفاف ہوں گے، جمہوری نظام پر عوام کا اعتماد اتنا ہی مستحکم ہوگا۔
آنے والے دنوں میں یہ معاملہ کس رخ پر جاتا ہے، اس کا فیصلہ احتجاج، عدالت، پارلیمان اور متعلقہ آئینی اداروں کے اقدامات سے ہوگا۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ جمہوریت میں سوال اٹھانا بھی ضروری ہے اور سوال کا جواب دینا بھی۔ عوام کو صرف سیاسی بیانات نہیں بلکہ قابلِ تصدیق حقائق، مکمل معلومات اور شفاف کارروائی درکار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے