سوشل ویلفیئر فاؤنڈیشن "نئی آواز” کی 157ویں ماہانہ شعری نشست کا انعقاد
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر
سوشل ویلفیئر فاؤنڈیشن "نئی آواز” کی 157ویں ماہانہ شعری نشست کا انعقاد ڈاکٹر جاوید کمال کے رہایش گاہ پر سنیچر کی شام کو ہوا جس میں قرب و جوار کے کہنہ مشق شاعروں کی موجودگی قابل دید رہی۔
نشست کا آغاز مولانا نور قاسمی کی نعت پاک سے ہوا ۔ نشست میں شامل شعراء کے کچھ منتخب اشعار
مندرجہ ذیل ہیں۔
آنکھیں میری یار نے کھولی
میں تو اندھا دیکھ رہا تھا۔
( سنگھ شیل جھلک)
حقیقت کو چھپایا جا رہا ہے غلط نقشہ دکھایا جا رہا ہے
جنہیں اعزاز ملنا چاہیے تھا انہیں قاتل بتایا جا رہا ہے۔
( ڈاکٹر نوشاد اعظمی)
ہم نے ہی خون پسینے سے بنائی لیکن
آپ کہتے ہیں عمارت میں ہمارا کیا ہے۔
(شیو ساگر سحر)
گم ترے خیالوں میں ہیں ملول بیٹھے ہیں
ہم تری محبت میں خود کو بھول بیٹھے ہیں۔
( ریاض قاصد)
بزم اشعار میں شاعروں نے کہا
خوب مونس شاعری ہے آپ کی۔
(مونس فیضی)
کون کہتا ہے چراغوں سے جہاں روشن ہے
ہم نے دیکھا ہے چراغوں کو تیرگی کرتے۔
(نور قاسمی)
پھر وہی خواب پھر وہی قصے
کیا کوئی جا کے لوٹ آیا ہے-
(ایڈوکیٹ شاداب شبیری)
میں جب بھی تیرے بارے میں کتاب لکھوں گا
ہر لفظ کو میٹھا سا اک خواب لکھوں گا۔
(محمد افھام)
میرا سایہ بھی ضرورت پہ مجھے چھوڑ گیا
ہو نہ ہو آج ہی ہنگامہ محشر تو نہیں-
(ڈاکٹر فضل الرحمن یاس)
جھیل ہیں جام ہیں ساغر بھی پیمانہ بھی
خالق حسن کا شہکار ہیں تیری آنکھیں
( ڈاکٹر جاوید کمال)
میں جس کو چاہتا تھا میری ماں ہے
مگر اب تو میرا خالی مکاں ہے
پتہ اس کو بتا دو میرے گھر کا
کھلاآنگن ہے اوپر آسماں ہے-
(نجمی کمال خان گونڈوی )
نشست کی صدارت نجمی کمال خان گونڈو ی اور نظامت ڈاکٹر جاوید کمال نے کیا۔
