شاعر: صفی الرحمن صفی

پپرا مرغہوا اٹوا بازار سدھارتھنگر یوپی 

کسی کی ہو بیٹی ستانا نہیں

اسے طعنہ دے کر رلانا نہیں

ہے ماں کی دعاؤں کا پیارا ثمر

وہ والد کی آنکھوں کا نیارا قمر

وہ جب گھر سے نکلے تو ماں بے قرار

دعائیں کرے رب سے ماں بار بار

کبھی اس کی عزت پہ آئے نہ آنچ

نہ پتھر ہوں راہوں میں، کانٹے نہ کانچ

ذرا سوچ تیری بھی بیٹی ہو کل

ضروری ہے تو راہ ٹیڑھی نہ چل

رکھو اپنی بیٹی کی عزت سنبھال

دکھاؤ نہ پھر دوسروں پر جلال

کسی ماں کی آنکھوں میں آنسو نہ ہو

نہ یوں ہو کہ کچھ دل پہ قابو نہ ہوں

صفی کی حکایت نصیحت بھری

ہر اک بیٹی ماں باپ کی ہےپری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے