شاعر: صفی الرحمن صفی۔

پپرا مرغہوا اٹوا بازار سدھارتھنگر یوپی

بیٹی ہے گھر کی رونق بیٹی ہے گھر کی شان

بیٹی سے گھر میں خوشیاں بیٹی سے گھر کی آن

اللہ کی ہے نعمت اللہ کی عطا ہے

دم سے اسی کے گھر میں ہر سمت ہی ضیا ہے

بیٹی کی مسکراہٹ گھر کا حسیں نظارہ

اس کی ہنسی سے روشن گھر کا ہر اک کنارہ

ماں کی ہے جان بیٹی اور باپ کی ہے دھڑکن

اس سے مہک رہا ہے گھر کا ہمارا آنگن

بیٹی کو اپنی ہرگز تم بوجھ مت سمجھنا

گھر کی یہی ہے زینت تم اس کی قدر کرنا

بیٹی کو علم دو تم عزت بھی پیار بھی دو

اچھے عمل سکھاؤ اخلاقی معیار بھی دو

بیٹی کی تربیت سے نسلیں سنور رہی ہیں

اچھے عمل سے گھر کی خوشیاں نکھر رہی ہیں

بیٹی کے خواب سارے پورے بھی ہونے دینا

محنت کی راہ پر تم آگے اسے بڑھانا

بیٹی کا دل نہ توڑو اور نہ اسے ستاؤ

پھولوں کی طرح اس کو، آنکھوں میں تم سماؤ

باہر نہ جاۓ بیٹی تنہا نہ اس کو چھوڑو

عزت کرو ہمیشہ نہ اس سے منہ کو موڑو

بیٹی کو پیار دو تم عزت دوام دو تم

علم و ہنر سکھاؤ اچھا مقام دو تم

بیٹی ہے گھر کی زینت بیٹی ہے گھر کا نور

اس کی خوشی سے گھر میں خوشیاں رہیں ضرور

گھر میں صفی تمہارے بیٹی اگر ہو نعمت

پھر تو سمجھ لو سارا گھر ہے تمہارا جنت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے