نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال شیخ ارشاد احمد مدنی رحمہ اللہ 

پرویز یعقوب مدنی

استاذ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال 

کچھ لوگ دنیا میں آتے ہیں زندگی گزارتے ہیں اور وقت کی گرد میں گم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ نفوس ایسے ہوتے ہیں جن کی جدائی صرف ایک خاندان کا غم نہیں بلکہ ایک جماعت کا المیہ اور ایک حلقۂ علم کا نقصان نیز ایک عہد کی یادوں کا درد بن جاتی ہے۔ ان کے جانے سے محفلیں ویران، مجلسیں اداس اور یادوں کے چراغ آنسوؤں کی نمی سے روشن رہ جاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کی یاد میں بے اختیار زبان پر یہ شعر آتا ہے:

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے

یاد رکھے گا زمانہ تیرا افسانہ تجھے

شیخ ارشاد احمد بن عبدالمعید مدنی رحمہ اللہ (ساکن جنگڑوا، ضلع روتہٹ نیپال) کی یاد بھی اسی درد و الم کی کیفیت کو تازہ کرتی ہے۔ ان کی شخصیت سے وابستہ یادیں، ان کی دینی و جماعتی شناخت اور مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے نائب امیر کی حیثیت سے ان کا مقام، ان سے محبت رکھنے والوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ کسی شخصیت کی حقیقی عظمت محض اس کے منصب سے نہیں بلکہ اس مقصد سے وابستگی سے متعین ہوتی ہے جس کے لیے وہ اپنی زندگی صرف کرتی ہے۔

ایک نام، ایک نسبت، ایک یاد

علماء و اہل دین کی زندگی کا اصل حسن یہ ہے کہ وہ اپنی ذات سے بلند ہو کر دین و ملت اور معاشرے کی فکر کو اپنا مقصد بناتے ہیں۔ ان کی زندگی کا حاصل صرف چند یادگار تقریریں، چند علمی نشستیں یا چند تنظیمی ذمہ داریاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ فکر و دعوت کا ایک ایسا سلسلہ چھوڑ جاتے ہیں جس سے آنے والی نسلیں روشنی حاصل کرتی ہیں۔

ممدوح محترم شیخ ارشاد احمد مدنی رحمہ اللہ کا نام مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کی جماعتی شناخت کے ساتھ وابستہ رہا۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے قیام سے لے کر وفات تک آپ کی جماعت سے وابستگی رہی۔ نائب امیر جیسے عظیم اور کلیدی منصب کی اہمیت اس ذمہ داری سے عبارت ہے جو دینی و دعوتی اور جماعتی نظم حتی کہ اہل علم کے باہمی تعاون کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ ایسے منصب کی حقیقی قدر اسی وقت سامنے آتی ہے جب انسان اپنی صلاحیتوں کو ذاتی نام و نمود کے بجائے دین و ملت کے اجتماعی مفاد کے لیے استعمال کرے۔

کسی دینی شخصیت کی یاد منانے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اس کی زندگی سے وابستہ خیر کو زندہ رکھا جائے۔ اس کے اچھے کاموں کو آگے بڑھایا جائے اور اس کے چھوڑے ہوئے دینی و دعوتی مقاصد کو اخلاص کے ساتھ جاری رکھا جائے۔

جدائی کا کرب اور یادوں کی امانت

موت انسانی زندگی کی وہ اٹل حقیقت ہے جس کے سامنے دنیا کی تمام رونقیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ منصب، شہرت، تعلقات اور ظاہری وجاہت سب یہیں رہ جاتے ہیں اور انسان کے ساتھ اگر کچھ جاتا ہے تو اس کا ایمان اور اس کے اعمال۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (آل عمران: 185)

ترجمہ: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔

یہ حقیقت ہمیں صرف رونے کے لیے نہیں بلکہ زندگی کا محاسبہ کرنے اور اپنے اعمال درست کرنے کے لیے بھی پکارتی ہے۔ کسی عزیز یا وقار عالم یا جماعتی رہنما کی جدائی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی کی مہلت محدود ہے اس لیے خیر کے کاموں میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور اپنے بعد ایسی نیک یادیں چھوڑنی چاہیے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔

نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال شیخ محترم ارشاد احمد مدنی رحمہ اللہ سے وابستہ محبت اور احترام کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ان کی یاد کو محض جذباتی خراج عقیدت تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے دین سے وابستگی، اخلاص عمل، اتحاد جماعت اور خدمت خلق کے جذبے میں تبدیل کیا جائے۔

خراج عقیدت اور پیغام عمل

آج جب ہم کسی دینی شخصیت کی یاد میں قلم اٹھاتے ہیں تو دراصل اپنے عہد سے بھی سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم نے علم و دعوت کے چراغوں کی حفاظت کی؟ کیا ہم نے اہل علم کی کما حقہ قدر کی؟ کیا ہم نے اختلافات سے بلند ہو کر دین کے اجتماعی مفاد کو ترجیح دی؟ اور کیا ہم اپنی آئندہ نسلوں کے لیے ایسی روشن مثالیں چھوڑ رہے ہیں جن پر وہ فخر کر سکیں؟

یہ سوالات محض کسی ایک فرد کے نہیں بلکہ پوری جماعت اور پورے معاشرے کے ہیں۔ اہل علم کی عزت ان کی خدمات کا اعتراف ان کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے نیک مشن کو آگے بڑھانا ہماری اخلاقی و دینی ذمہ داری ہے۔

کسی انسان کی زندگی کا سب سے خوب صورت اختتام یہ ہے کہ اس کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی اس کی یاد خیر کا سبب بنے۔ اس کے ذکر سے دلوں میں نیکی کی رغبت پیدا ہو اور اس کی زندگی سے وابستہ اچھے پہلو دوسروں کے لیے مشعل راہ بنیں۔

اے اللہ! اپنے بندوں پر رحم فرمانے والے شیخ ارشاد احمد مدنی رحمہ اللہ کی مغفرت فرما اور آپ کی لغزشوں سے درگزر فرما کر نیکیوں کو قبول کرلے۔ آپ کی قبر کو نور و راحت سے بھر دے اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرما۔ آپ کے اہل و عیال عزیز و اقارب اور ہمارے ہم سبق ساتھی برادر مکرم آپ کے خلف الصدق شیخ وسیم اختر ریاضی اور آپ کے پورے خانوادے نیز متعلقین اور جماعتی رفقاء کار خصوصا مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے بے لوث خادموں کو صبر جمیل عطا فرما۔ آمین۔

بلاشبہ انسان رخصت ہو جاتا ہے مگر اس کی یادیں اس سے وابستہ محبتیں اور اس کے نیک کاموں کے اثرات دیر تک باقی رہتے ہیں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو وقت کی گردشوں کے باوجود دلوں میں زندہ رہتا ہے۔

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے

یاد رکھے گا زمانہ تیرا افسانہ تجھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے