سلمان کبیرنگری
ایڈیٹر، سہ ماہی میگزین ’’نئی روشنی‘‘، برینیاں، سنت کبیر نگر، اتر پردیش
موت نے چپکے سے آ کر کچھ کہا
زندگی خاموش ہو کر رہ گئی
جناب علیم اللہ ندوی صاحب کے ذریعے یہ اندوہناک خبر موصول ہوئی کہ حضرت ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ کر گئے ہیں تو دل پر غم و اندوہ کی ایک گہری کیفیت طاری ہوگئی۔ کچھ دیر کے لیے ذہن و دماغ ماؤف ہوگئے اور زبان پر بے اختیار یہ کلمات جاری ہوگئے: إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ بلاشبہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، جس سے کسی کو مفر نہیں، لیکن بعض شخصیات کا دنیا سے رخصت ہوجانا محض ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتا، بلکہ علم و ادب، دین و ملت اور معاشرے کے ایک پورے عہد کا اختتام محسوس ہوتا ہے۔
حضرت ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ بھی ایسی ہی باوقار، ہمہ جہت اور صاحبِ کمال شخصیت کے مالک تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم و تحقیق، دعوت و تبلیغ، درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ صرف ایک عالمِ دین یا صاحبِ قلم نہیں تھے، بلکہ اپنی ذات میں ایک انجمن، ایک علمی مرکز اور ایک متحرک کارواں کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت میں علم کی گہرائی، فکر کی پختگی، کردار کی بلندی، مزاج کی شائستگی اور اخلاق کی دل آویزی اس خوب صورتی سے جمع تھی کہ ان سے ملاقات کرنے والا شخص ان کے علمی مقام کے ساتھ ان کے اخلاق و کردار سے بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی علمی و ادبی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ دینی علوم پر گہری نظر رکھتے تھے اور عصری حالات سے بھی پوری طرح باخبر رہتے تھے۔ ان کی گفتگو میں سنجیدگی، تحریر میں متانت، تقریر میں اثر انگیزی اور طرزِ عمل میں وقار نمایاں تھا۔ وہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے، اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے اور نہایت سلیقے سے اپنی بات پیش کرتے تھے۔ ان کے نزدیک علم محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ انسان کی فکری و عملی تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ تھا۔
ان کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو اخلاص و للہیت تھا۔ علمی مقام، شہرت اور ذمہ داریوں کے باوجود ان کے مزاج میں خود پسندی اور بڑائی کا کوئی عنصر دکھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ نہایت متواضع، منکسرالمزاج، نرم خو اور خلیق انسان تھے۔ چھوٹوں کے ساتھ شفقت، بڑوں کا احترام، ہم عصروں کے ساتھ محبت اور طلبہ کے ساتھ خیر خواہی ان کی طبیعت کا حصہ تھی۔ وہ لوگوں سے تعلقات نبھانے کا ہنر جانتے تھے اور اپنے خلوص و محبت سے دلوں میں جگہ بنا لیتے تھے۔
حضرت ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ کی علمی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی تدریسی و تربیتی خدمات بھی تھیں۔ انہوں نے اپنے علم کو محض ذاتی تشخص اور علمی برتری کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اسے نئی نسل کی ذہنی و فکری تعمیر کے لیے استعمال کیا۔ ان کے نزدیک ایک عالم کی حقیقی کامیابی یہ تھی کہ اس کے علم سے دوسرے لوگ مستفید ہوں، معاشرے میں دینی شعور بیدار ہو اور نئی نسل صحیح فکر و نظریہ کے ساتھ آگے بڑھے۔
تحریر و تصنیف کے میدان میں بھی ان کی خدمات بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ وہ صاحبِ مطالعہ، صاحبِ فکر اور صاحبِ قلم شخصیت تھے۔ متعدد کتابوں کی تصنیف کے علاوہ مختلف علمی، دینی اور ادبی موضوعات پر ان کی تحریریں اہلِ علم کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتی رہیں۔ ان کے قلم میں سنجیدگی، استدلال اور مقصدیت پائی جاتی تھی۔ وہ محض لکھنے کے لیے نہیں لکھتے تھے، بلکہ ان کی تحریروں کے پس منظر میں اصلاحِ فکر، بیداریِ شعور اور ملت کی فلاح و بہبود کا جذبہ کارفرما ہوتا تھا۔
ماہنامہ ’’البعث الاسلامی‘‘ سے ان کی وابستگی اور چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے ان کی صحافتی خدمات بھی ان کے علمی سفر کا ایک اہم باب ہیں۔ انہوں نے اس پلیٹ فارم کے ذریعے علمی و دینی افکار کی ترجمانی کی اور اپنے اداریوں و مضامین کے ذریعے امت کے فکری، تہذیبی اور معاشرتی مسائل پر اظہارِ خیال کیا۔ ان کی صحافتی تحریروں میں سنجیدگی، بصیرت اور حالات کے گہرے مطالعے کی جھلک نمایاں نظر آتی تھی۔ صحافت کو وہ محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ اور تعمیرِ فکر کا ایک مؤثر وسیلہ سمجھتے تھے۔
ان کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو کسی ایک میدان تک محدود نہیں رکھا۔ علم و تحقیق، دعوت و اصلاح، قلم و قرطاس اور صحافت و ادب، ہر شعبے میں اپنی بساط کے مطابق خدمات انجام دیں۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اگر انسان کے اندر اخلاص، محنت، استقامت اور خدمت کا جذبہ موجود ہو تو وہ اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے نفع بخش بنا سکتا ہے۔
آج جبکہ علمی و دینی ادارے مختلف النوع مسائل اور چیلنجز سے دوچار ہیں، ایسے اہلِ علم کا دنیا سے رخصت ہوجانا یقیناً ایک بڑا علمی خسارہ ہے۔ ان کی جدائی سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پُر کرنا آسان نہیں۔ ایسے لوگ اپنی زندگی میں صرف اپنے شاگردوں اور متعلقین کی رہنمائی نہیں کرتے بلکہ اپنے علمی ورثے کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے بھی چراغِ راہ بن جاتے ہیں۔
یہ امر نہایت خوش آئند اور قابلِ تحسین ہے کہ ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ کی حیات و خدمات کو محفوظ کرنے کے لیے ایک تاریخی دستاویز کی اشاعت کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ کسی علمی و دینی شخصیت کی زندگی، افکار، تصانیف، خدمات اور جدوجہد کو یکجا کرکے کتابی صورت میں محفوظ کرنا ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ اس طرح کی کوششیں نہ صرف ماضی کے علمی سرمایہ کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ مستقبل کی نسلوں کو اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کا حوصلہ بھی فراہم کرتی ہیں۔
میری نظر میں یہ کام محض ایک شخصیت کے حالات و واقعات کو جمع کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ ایک علمی عہد کی تاریخ کو محفوظ کرنے کی قابلِ قدر کاوش ہے۔ اس کے ذریعے قارئین کو یہ جاننے کا موقع ملے گا کہ ایک صاحبِ علم نے کن مراحل سے گزر کر اپنی شناخت قائم کی، کس طرح اپنی صلاحیتوں کو دین و ملت کے لیے وقف کیا اور کس انداز سے اپنے اخلاق و کردار کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔
میں اس اہم علمی و تحقیقی منصوبے سے وابستہ تمام متعلقین، مرتبین اور معاونین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک ایسی شخصیت کی یادوں اور خدمات کو محفوظ کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے، جس کی زندگی اہلِ علم و قلم کے لیے یقیناً مشعلِ راہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کوشش کو بارآور فرمائے اور اسے مرحوم کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
آج ہماری نئی نسل کو اپنے اکابر، اسلاف، علماء، ادباء اور مخلص خادمین کی زندگیوں سے واقف کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ افسوس کہ ہم اپنے علمی و ادبی سرمایہ کو محفوظ کرنے اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے میں وہ اہتمام نہیں کر پاتے جس کا وہ مستحق ہے۔ ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ جیسی شخصیات کی حیات و خدمات کو منظر عام پر لانا اسی ضرورت کی ایک اہم کڑی ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کی عظمت کا معیار اس کا عہدہ، منصب یا شہرت نہیں، بلکہ اس کا علم، اخلاص، کردار، تواضع اور انسانیت کے لیے اس کی خدمات ہیں۔
مرحوم کی وفات پر ان کے اہلِ خانہ، متعلقین، شاگردوں، احباب، قارئین اور تمام علمی و ادبی حلقوں سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ حضرت ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور ان کے تمام پسماندگان و متعلقین کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔آمین یا رب العلمین!
آخر میں مرحوم کی یاد میں یہ شعر بے اختیار زبان پر آتا ہے:۔
ہمارے بعد محفل میں افسانے بیاں ہوں گے
بہاریں ہم کو ڈھونڈیں گی، نہ جانے ہم کہاں ہوں گے
بلاشبہ ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن ان کی علمی و قلمی خدمات، ان کے افکار و نظریات، ان کا حسنِ اخلاق اور ان کی مخلصانہ جدوجہد مدتوں یاد رکھی جائے گی۔ جسمانی طور پر انسان دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے، لیکن اس کے نیک اعمال، علمی آثار اور خدمت کے نقوش اسے لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتے ہیں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اس کی یاد کو باقی رکھتا ہے۔
