ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ، حکومت کو نفرت پر روک لگانا چاہیے
لکھنؤ: جماعت اسلامی ہند یوپی مشرق کے امیر حلقہ ڈاکٹر ملک فیصل نے آر پی ایف کے کانسٹیبل کے ذریعہ چلتی ٹرین میں ۳/ مسلم مسافروں اور آر پی ایف کے ایک افسر کو گولی مارنے کی شدید مذمت کی ہے۔
میڈیا کو جاری ایک بیان میں امیر حلقہ ڈاکٹر ملک فیصل نے کہا کہ آر پی ایف کے ایک کانسٹیبل کے ذریعہ چلتی ٹرین میں ۳/ مسلم مسافروں اور آر پی ایف کے ایک افسر کو ٹارگٹ بنا کر گولی مارنے کی جماعت اسلامی ہند شدید الفاظ میںمذمت کرتی ہے۔ قتل کے اس گھناؤنے انداز سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک نفرت انگیز جرم تھا جس میں ملزم نے مسلمانوں کو پہچان کر کے شکار بنایا اور گولیوں سے ہلاک کر دیا۔
اس حملہ سے یہ بات صاف طور پر واضح ہو رہی ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد کے مسلسل حملوں کا ایک اور باب ہے جو کہ ملک میں یہ ایک نیا معمول بنتا جا رہا ہے۔ حکومتوں کی جانب سے ہونے والی بنیاد پرستی اور پولرائزیشن کی سیاست کے نتیجے میں یہ افسوسناک صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
ڈاکٹر ملک فیصل نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ نفرت انگیز جرائم کے مرتکب افراد کو خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف ذہنی طور پر جرم کرنے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ یہ واقعہ مزید یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ اس طرح کے ذہنی طور پر فرقہ پرستی اور نفرت میں ڈوبے ہوئے افراد کے ہاتھوں میں بندوقیں تھما کر انہیں شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری کیسے سونپی جا سکتی ہے۔ وزیر اعظم اور یوپی کے وزیر اعلیٰ کی تعریف نہ کرنے کے جرم میں قتل کر دینے کی خبریں انتہائی پریشان کن ہیں۔ میڈیا کی مسلسل نفرت انگیزی آپسی منافرت کو فروغ دینے میں بنیادی کردار اداکر رہی ہے۔ اس لیے میڈیا کو ملک میں امن و امان کی بہتری اور بحالی کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے، غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
جماعت اسلامی ہند حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ قصور وار کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہو اور ساتھ ہی کوئی ایسا نظم بنایا جائے جس سے نفرت کا بازار گرم کرنے والوں اور ایسے میڈیا چینلوں پر لگام کسی جاسکے جو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرین کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے اور مناسب روزگار فراہم کیا جائے۔ ساتھ ہی اس واقعہ کی آزادانہ اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔
