اسماعیل قمر بستوی
اے وطن اے وطن اے وطن اے وطن
تجھ پہ قربان گھر بارہے جان وتن
یوں مہکتا ہماری ہے سانسوں میں تو
جیسے مہکے چمیلی گلاب وسمن
خون سے ہے شہیدوں نے سینچا تجھے
سرفروشوں کاہے تو چمن اے چمن
جن کے دم سے یہ آزاد گلشن ہوا
ان کا ہے تذکرہ انجمن انجمن
ہوکے رسوا فرنگی کو جانا پڑا
مل گئے خاک میں اس کے تیرو تفن
آنچ آنے نہ دیں گے محافظ ہیں ہم
گر ضرورت پڑی اوڑھ لیں گے کفن
ہاتھ میں ہے ہمارے ترنگا قمر
اس کی تہذیب ہے مثلِ گنگ وجمن
