اسماعیل قمر بستوی

 

ملت کے غم گسار تھے گلزار اعظمی 

میداں کے شہسوار تھے گلزار اعظمی 

مظلوم قیدیوں کو دلائیں رہائیاں 

بیکس کی اک گہار تھے گلزار اعظمی 

مردم شناس صاحبِ فضل وکمال تھے 

حق کے وہ پاسدار تھے گلزار اعظمی 

نباض تھے وہ دوستو ! حالات کے بڑے

گلشن کے نگہ دار تھے گلزار اعظمی 

اک معتبر چراغ تھے ظلمت کدے میں وہ 

روشن سا اک منار تھے گلزار اعظمی 

خود میں وہ انجمن تھے مسیحا کہیں جسے

قدرت کا شاہکار تھے گلزار اعظمی 

ان کی لحد پہ رحمتِ رحماں کا ہو نزول 

پچھلوں کی یاد گار تھے گلزار اعظمی 

دنیا کرے گی یاد ہمیشہ جسے قمر

وہ ایسے کامگار تھے گلزار اعظمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے