محمد طارق بدایونی
یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصابِرُوا وَرابِطُوا وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّکمْ تُفْلِحُونَ (آل عمران: ۲۰۰)
(اے ایمان والو! صبر کرو، ثابت قدم رہو،(صبر میں دشمنوں سے آگے رہو) مورچہ پر ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو، امید ہے کہ تم فلاح پا جاؤ گے۔)
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں مسلمانانِ عالم کے لیے چار اہم نصیحتیں/ہدایات فرمائی ہیں، جن کے ذریعہ انسان سعادت اور فوز و فلاح کی منزلیں طے کر سکتا ہے۔ یہ چاروں ہدایتیں شریعت کے حقوق کی ادائی میں بڑی مؤثر اور جامع ہیں، اگر انسان ان چاروں کو مضبوطی کے ساتھ تھام لے تو جہاں وہ آخرت میں کامیاب انسان کا ٹیگ پائے گا وہیں دنیا میں اس کی زندگی قابل رشک ہوگی۔ ذیل میں وہ چاروں ہدایات نقل کی جاتی ہیں:
(۱) پہلی ہدایت ہے ’’صبر‘‘: صبر کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے آپ کو ایسے اعمال و افعال سے روکے رکھے جو شرعی اور عقلی اعتبار سےنا پسندیدہ ہوں۔ جیسے معاصیات سے باز رہنا، ناگہانی مصیبتوں کے وقت صبر سے کام لینا، غرض یہ کہ کوئی بھی مشقت یا مزاحمت پیش آئے اس کے باوجود حق پر ڈٹے رہنا، طاعات اختیار کرنا اور شہوات و لذات سے رکے رہنا۔
مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں :
’’اس لفظ کی اصل روح کسی حق پر اپنے آپ کو مزاحمتوں کے مقابل میں جمائے رکھنا ہے۔ عام اس سے کہ یہ مزاحمتیں خود اپنے اندر سے سر اٹھائیں یا خارج سے حملہ آور ہوں اس خصلت کو پختہ کیے بغیر کوئی شخص کسی چھوٹے سے چھوٹے حق کا بھی حق ادا نہیں کر سکتا‘‘۔
(۲) دوسری ہدایت ہے ’’مصابرہ‘‘: علامہ سعدی کہتے ہیں کہ ’’المصابرۃ أي الملازمۃ و الإستمرار علیٰ ذلک‘‘ مصابرۃ، صبر کے دائمی اور مسلسل التزام کا نام ہے۔
پتہ یہ چلا کہ یہ صبر کی سخت ترین صورت ہے اس لیے اسے الگ سے بیان کیا گیا۔یعنی جنگ کی شدت ہو یا دشمنوں کی طعنہ بازیاں ہوں، اس صورت میں بھی خود بھی صبر سے کام لیں اور اپنے ساتھیوں کو صبر کی تلقین کرتے ہیں اور ان کی ڈھارس بندھاتے رہیں، غرض یہ کہ اسلام کی راہ میں جو بھی مشکلات آئیں ہیں، ثابت قدم رہیں اور ثبات قدمی کو فروغ دیں۔
’تفسیرخازن‘ میں لکھا ہے کہ ’’مصابرہ‘‘ میں گھر والوں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی ’مصابرہ‘ میں داخل ہے ۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے ضمن میں مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ اقتباس نقل کر دیا جائے کہ ’’قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے۔ دوسری قسم گناہوں کے لیے اپنی خواہشات کو دبانا ہے۔ اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے۔ یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے‘‘۔
(۳) تیسری ہدایت’’مرابطہ‘‘ ہے: ’رابطوا‘سے مراد ملک کی سرحدوں کی حفاظت ہے، اس میں جغرافی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی شامل ہے۔
تفسیر السعدی میں یہ الفاظ نقل ہیں کہ ’’رباط سے مراد اس مقام پر جمے رہنا ہے جہاں سے دشمن کے آنے کا خطرہ ہو‘‘۔ ایسے لوگوں کے بارے میں جو مرابطہ کا عمل انجام دیتے ہیں احادیث نبویہؐ میں بہت فضیلتیں آئی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک رات بارڈر پہ پہرہ دینا ایک ماہ کے روزے اور ایک ماہ کے قیام اللیل کے مساوی ہے اور ایک روایت میں ہزار راتوں کی عبادت سے افضل بتایا گیا، اسی طرح ایک حدیث میں ایک دن سرحد کی حفاظت کو دنیا و ما علیہا سے بہتر بتایا گیا۔
مولانا امین احسن اصلاحی رقم طراز ہیں: ’’مصابرت کی ہدایت کے بعد یہ مرابطت کی ہدایت دشمن کے مقابلے کے لیے اخلاقی تیاری کے ساتھ مادی تیاری کی ہدایت ہے‘‘۔
مولانا کا یہ اشارہ سورۃ الانفال کی آیت ۶۰ /کی طرف ہے وہاں ’رباط الخیل‘ کے الفاظ آئے ہیں، چوں کہ اس سورہ کے اندر معرکۂ حق و باطل کے ذریعہ مسلمانانِ عالم کی ایمانی، دعوتی اور جہادی تربیت کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ جاننا چاہیے کہ’’رابطوا‘‘ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اپنے عقیدے کی سرحدوں پر جم جانا۔ یعنی اسلامی شعائر، جانِ انسانی، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا، دین پر قائم رہنا وغیرہ۔ مسلمانوں کو اپنے عقیدے پر اس طور پر جمنا ہوگا کہ حکومتیں بدل جائیں، سکہ و زبان بدل جائے، آندھی طوفان آئے، طاقت و قوت بدل جائے، غذا ہو یا نہ ہو، چاہے کچھ بھی ہو جائے حتی کہ دنیا بدل جائے۔ ہمیں اپنے عقیدۂ توحید پر جمے رہنا ہے، اللہ اور اس کے رسول کے لیے مخلص رہنا ہے، کبھی ان سے بغاوت نہیں کرنی ہے’’ألا لہ الخلق والأمر‘‘ بلاشبہ تخلیق، انتظام و انصرام اور حکم دینا صرف اور صرف اللہ ہی کا کام ہے۔
(۴) چوتھی ہدایت تقویٰ اختیار کرنے دی گئی ہے: تقویٰ کے معنی ڈرنا اور بچنے کے آتے ہیں۔
یہ دل کی ایک ایسی کیفیت کا نام ہے، جو اگر کسی کو حاصل ہو جائے تو وہ گناہوں سے بچ جاتا ہے اور نیک کاموں کی بے تابانہ تڑپ پیدا ہو جاتی ہے۔
صاحبِ تدبر لکھتے ہیں:
’’خدا کے مقرر کردہ تمام حدود و قیود کی اخلاص و خشیت کے ساتھ نگرانی کرنا تقویٰ ہے، یہی چیز تمام دین کا خلاصہ اور مقصود ہے‘‘۔
اسی بات کو تھانویؒ صاحب نے یوں لکھا:
’’ان سب (مذکورہ) اعمال کی روح تقویٰ ہے۔ تقویٰ کے باعث ہی یہ اعمال فلاح کا سبب بن سکتے ہیں‘‘۔
استاد محترم ڈاکٹر محمد طارق ایوبی نے لکھا ہے کہ:
’’اللہ کا استحضار و خیال اور اس کا خوف ہی انسان کو احکامِ شریعت پہ چلاتا ہے اور حقوقِ شریعت کا لحاظ کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس اعتبار سے یہ آیت کریمہ انفرادی و اجتماعی کامیابی کے لیے شاہِ کلید کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس پر عمل کر کے فرد و ملت دونوں کو دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے‘‘۔
***
