محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک
آج 26؍اگست کو جماعت اسلامی کا 83واں یوم تاسیس منایاجارہاہے۔ ہندوپاک اور بنگلہ دیش میں موجود جماعت اسلامی کی بنیاد دراصل برصغیرکی آزادی سے قبل 26؍اگست 1941 مطابق 3؍شعبان المعظم 1360ہجری کوبرطانیہ ہند میں سید ابوالاعلیٰ مودودی علیہ الرحمتہ کی قیادت میں بشمول مولانا مودودی 75افراد نے لاہور میںرکھی تھی ۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی جماعت اسلامی کے پہلے امیر بھی تھے اور بانی بھی ۔ وہ ٣٠ سال تک جماعت اسلامی ، بعدازاں جماعت اسلامی پاکستان کے امیررہے۔ انگریزوں کے ہندوستان چھوڑجانے کے بعد یعنی آزاد ہندوستان میں 1948 میں جماعت اسلامی ہند کی تشکیل نو عمل میں آئی۔ جس کے پہلے امیر جماعت مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی منتخب ہوئے۔ ان کے بعد مولانا محمدیوسف صاحب ، مولانا محمد سراج الحسن، مولوی عبدالحق انصاری، مولانا سید جلال الدین انصرعمری کے بعد سید سعادت اللہ حسینی جماعت اسلامی ہند کے امیر منتخب ہوئے ۔ جناب حسینی موجودہ امیرجماعت اسلامی ہند ہیں۔ ملک محمد اعظم نے اپنے ایک مضمون میں لکھاہے ’’جماعت اسلامی محض سیاسی یامذہبی تنظیم نہیں ہے بلکہ یہ احیائے اسلام کی عالمی تحریک ہے۔ دنیا بھر کی اسلامی تحریکات مولانا سید ابوالااعلیٰ مودودی کو اپنافکری رہنما اور قائد سمجھتی ہیں اور وہ سید مودودی کے لٹریچر سے استفادہ کرتی ہیں۔ سید مودودی کی کتابوں کے تراجم دنیا کی بڑی بڑی زبانوں میں ہوچکے ہیں اوریہ سلسلہ بڑی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کوسمجھنے اور جاننے کے حوالے سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی دنیا بھرمیں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے عالم ِ دین ہیں۔ مختلف ممالک کی یونیورسٹیوں میں سید مودودی ـؒ کی کتابیں نصاب میں بھی شامل ہیں‘‘۔ گویا مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے بغیر جماعت اسلامی کا تصورناممکن ہے۔ پاکستان میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ جماعت اسلامی برصغیر کی وہ پہلی جماعت ہے جس نے اسلام کو بطور جدید سیاسی نظام کے متعارف کرایا۔
جماعت اسلامی ہند کا نصب العین اقامت دین ہے ۔ یعنی اسلام کو قائم کرنا ہے۔ جس کے حصول کے لئے دعوتی ، تربیتی ،تنظیمی ، خدمتی، اور ادارہ جاتی طریقے جماعت اسلامی ہند استعمال کرتی ہے۔ فسادفی الارض اور زیر زمین کام سے بچتی ہے۔اس کے سارے کام زمین کے اوپر اور اللہ کے بنائے ہوئے انسانوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند کی ساری کوششوں کامقصد رضائے الٰہی اور فکرِ آخرت ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق جماعت اسلامی ہند سے ڈیڑھ لاکھ افراد وابستہ ہیں۔فتنہ وفساد، سیلاب اور دیگر آفات کے موقع پر جماعت اسلامی ہند بلالحاظ مذہب وملت اپناہاتھ بڑھاتی ہے۔ جماعت اسلامی ہند کی 30کے قریب ذیلی تنظیمیں ہیں۔
