ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج، بارہ بنکی
مجھ کو محشر کی ندامت سے بچا لو آقا
بحرِ ظلمت میں ، میں ڈوبا ہوں نکالوآقا
حشر کی دھوپ بدن چھیل رہی ہے میرا
اب تو کملی میں مجھے اپنی چھپالو آقا
گردشِ وقت کی یلغار بڑھی جاتی ہے
یہ مٹا دے نہ کہیں مجھ کو سنبھالو آقا
میرا جینا بھی وہاں آکے سوارت ہوجاٸے
اپنے در پر فقط اک بار بلالو آقا
دشمنوں کو مجھے سینے سے لگانا آجاٸے
مجھ کو بھی اسوہء حسنات میں ڈھالو آقا
آپ کے قدموں سے لپٹا ہے نہ جانے کب سے
اس گنہگار کو سینے سے لگالو آقا
