(افسانہ)
از رفیع نعمانی مہراجگنج
فوزیہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہے وہ ایک نادار باپ کی بیٹی ہے۔ مگر بڑی ہمتی دلیر، محنتی ہے ۔جفاکشی اس کے انگ انگ میں موجزن ہے۔ پڑھائی لکھائی میں اپنے اسکول کی ایک مثالی طالبہ ہے مگر وہ بیچاری غربت کی ماری ہونے کے ساتھ ساتھ قسمت کی بھی ماری ہے ایک دن اسکول سے شام کو واپس آرہی تھی دورسے اپنے گھر کے دروازے پر لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر دنگ رہ گئی لوگ تیز تیز آواز میں کہہ رہے تھے۔” یہ تو بغیر دوا کے ہی مرگیا”۔ یہ صدا اس کے کانوں میں گونجنے لگی فوزیہ تیزگام لڑکھڑائی قدموں سے لرزتے تن ہانپتے کانپتے گھر پہنچ کر دیکھتی ہے کہ اس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا ہے۔ فوزیہ کے اوسان خطا ہوگئے بالکل بت کی طرح ایک کونے میں کھڑی ہوکر مردہ باپ کی لاش پر ٹکٹکی باندھے نظریں جمائے دیکھ رہی تھی۔ آخرکار لوگوں نے اس کے باپ کو شہر خموشاں تک پہنچا دیا۔
باپ کی وفات کے بعد فوزیہ کو اپنے تعلیم کی فکر ستانے لگی۔ ماں بیچاری محنت مزدوری کرکے لوگوں کے جھوٹے برتن صاف کرکے بیٹی کی تعلیم مکمل کرانے کی ٹھان لی تھی ۔وقت کا بے رحم پہیا بڑی تیزی کے ساتھ چلتا رہا اور فوزیہ اس بے رحم پہیے کے پیچھے ڈوڑتی رہی یہاں تک کہ تعلیم مکمل کرکے گھر بیٹھ گئی۔ادھر فوزیہ کی ماں کے ہڈیوں کے گودے خشک پگھل چکے تھے تو دوسری طرف فوزیہ کی شادی کا مسئلہ بھی درپیش تھا۔ ٹوٹے چھپر میں بمشکل گزر بسر ہورہا تھا ، اچانک شب غم کا سنہرا سحر رونما ہوتاہےفوزیہ جج کے لیے دیئے گئے انٹر ویو میں پاس ہوجاتی ہے مگر ٹریننگ کے لیے درکار پیسوں کی قلت سے وہ بہت مایوس اور پریشان ہوتی ہے ۔فوزیہ کے اس کامیابی کی خبر جب گاؤں کے ایک غریب کسان کو ملتی ہے اور پیسوں کی کمی سے یہ موقع بھی ہاتھ سے جاتا دیکھ کر وہ کسان اپنی زمین کا کچھ حصہ بیچ کر فوزیہ کی مدد کرتے ہوئے دعائیں بھی دیتا ہے ۔
فوزیہ کی محنت رنگ لائی وہ جج کے عہدے پر فائز ہوکر اپنے ماں کی خدمت کے ساتھ ساتھ اس غریب کسان کو بھی بڑی عزت اور عظمت کی نظر سے دیکھتی ہے۔اگر آج فوزیہ کے باپ زندہ ہوتے تو اسے اپنی خوش بختی پھولے نہیں سماتے مگر وہ تو اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھنے سے پہلے ہی اس دنیا سے چل بسے تھے بس فوزیہ کی ماں ہی سنہرے خوابوں کی سنہری تعبیر دیکھ کر پھولے نہیں سماتی ہے اور جج بیٹی کی شام سویرے بلائیں لیتی ہے اور یہ ہونا بھی طے تھا۔
