محمدیوسف رحیم بیدری ، کرناٹک
۱۔ حماقت سے دور
وہ پلٹنا نہیں چاہتاہے ۔ پلٹے گاتو پتھرکا ہوکہ نہ ہولیکن سمت سفر بدل جائے گی۔ پھر عمر بھر یہی ایک دُکھ ستائے گاکہ پلٹنے میں جلدی کی۔ عقب سے آوازیں تو اُسے آج پچیس سال بعد بھی بہت سی آتی رہتی ہیں ۔ ہرآواز یہی کہتی ہے کہ پلٹ کردیکھاکرو، یوں راستہ چلوگے تو گمراہ ہوجاؤگے ۔ اس نے سلورجوبلی سال کے درمیان کبھی پلٹنے کی ایک دفعہ بھی حماقت نہیں کی۔
۲۔ یادیں اور جواز
اس نے اپنے والدین، دادادادی اور عزیزواقارب کویادکیا۔ یہ سب تو دنیاسے جاچکے تھے ۔ پھر میرے رہنے کاجواز ؟۔وہ چوں کہ پہاڑی کے اوپر کھڑا تھا۔ اس نے زور سے آواز لگائی ’’میرے رہنے کاجواز کیاہے ؟‘‘ جواباً یہی آوازاُسے سنائی دی کہ میرے رہنے کاجواز کیاہے ؟اس نے اسی پہاڑی پرواقع گیسٹ ہاؤز میں رات گزاری۔ دیر تک موبائل پر فضول کی ویڈیو اوردھماکے دار خبریں دیکھتارہا۔اورپھر رات کے آخری پہر سوگیا۔ صبح اٹھا تو پھر وہی سوال ذہن پرسوار تھاکہ ’’میرے رہنے کاجوازکیاہے ؟‘‘اس کو کل ہی آگے کے ہل اسٹیشن پر پہنچناتھا ، شام ہوچکی تھی اسلئے شام کو آگے جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔اسلئے اسی پہاڑی پر رک جاناپڑاتھا۔
اچانک چوکیدار نے آوازلگائی ، کہاکہ’’ شاب ! گرم پانی دس بجے کے بعد نوہی ملے گا۔ اس لئے اب کہ اب نہالیں ‘‘ اس نے چوکیدار کو نیچے سے اوپر تک دیکھااور اس سے ایسے ہی پوچھ لیا۔ ’’میرے ہونے کاجواز کیاہے ؟‘‘چوکیدار کھلکھلا کرہنس پڑا اور بولا’’شاب!تمہارا جندگی ہے ، اس لئے تم جندہ ہے ۔ اور بوش‘‘
’’یہ زندگی کب تک ہے ؟‘‘وہ ایک اور سوال کربیٹھا۔ چوکیدار پھر کھلکھلاکر ہنستے ہوئے بولا ’’شاب ہم سے کیا پوچھتا ؟ اوپروالا جب تک چاہے گا آپ کاجندگی ہے ‘‘ پھر چوکیدار چلاگیا۔ اسے لگاکہ چوکیدار نے اس سے اپناہاتھ چھڑایاہے اوراپنی ہنسی کو منہ ہی منہ میں دَبائے جارہاہے۔
۳۔ مخلوط مجلس
مردو خواتین کی علیحدہ علیحدہ قطاریں تھیں۔ پہلی آدھی صف مردوں کی تھی اور باقی آدھی صف میں خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔مردوخواتین کی ایسی ہی ترتیب آخرتک رکھی گئی تھی۔ مسلمانوں کاجلسہ تھا۔ خواتین برقعہ میں بیٹھی تھیں اور بازو کی قطار میں بیٹھے تمام مردانہیں دیکھ سکتے تھے اور وہ بھی مردوں کودیکھ سکتی تھیں، کوئی پردہ ان کے درمیان حائل نہیں تھا۔ شہ نشین سے اسلامی تعلیمات کی بات کی جارہی تھی۔ چاندپرپہنچنے کا خیال پیش کیاجارہاتھا۔ سابقہ روش چھوڑ کر آئندہ کے منصوبوں پر کام کرنے کی مقررین تلقین کر رہے تھے تاکہ اسلام کو دنیا پر غالب کرسکیں۔
پھر جلسہ ختم ہوا۔ سب کھانے دانے کے لئے نکل پڑے ۔ کھاناکھاتے ہوئے احساس ہواکہ اس دفعہ تقریروں سے رہنمائی چاند پر پہنچنے کی ملی ضرور لیکن مسلمان مردوخواتین کاملاجلایہ جلسہ ایک آنکھ نہ بھایا۔ نہ بھانے والی ایک آنکھ تواس پر رونہ سکی لیکن دل تھاکہ مسلسل روئے جارہاتھا۔ کیوں کہ نوجوانوں کے مستقبل کاخیال تو ہے لیکن مسلم مردوخواتین کی مجلس کس طرح ہو، اس کی ترتیب لوگ بھو ل گئے۔مسلمانوں کی ترقی کاراز اختلاط مردوزن میں ہرگز نہیں ہے۔اس ایک نکتہ کوکون سمجھائے گا؟
۴۔اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان
موضوع سے متعلق جتنی آیات یاد تھیں، موصوف نے پیش کیں اور کہاکہ اٹھواور دنیا پر چھاجاؤ۔ اپنی غریبی کا ناٹک نہ کرو۔ شادی بیاہ اور ولیمہ میں 10افراد کافی ہوتے ہیں۔ اس رقم کو بچاکروہ رقم اداروں کے حوالے کردیں اور ان اداروں سے ریکویسٹ کریں کہ ہمارے بچوں کو سائنسدان بنائیں، اچھامقرر بنائیں، ایک ڈاکٹر اورعمدہ انجینئر بنائیں۔
پھر کیا تھا ، لوگوں نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دینی شروع کردی اور اس کے لئے اپنے پاس جو بھی جمع پونجی تھی وہ اداروں کے پاس جمع کردی ۔ پانسات سال میں معلوم ہواکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکے شہر میں بیکار گھوم رہے ہیں۔ فی نوجوان سات تا 10ہزار روپیوں کی نوکری تو ہے لیکن وہ لڑکے اس نوکری کو عار سمجھتے ہیں ۔ا گر قریب کے میٹروپالٹین شہر جاتے ہیں تو وہاں 20تا25ہزار ملیں گے۔ میٹروپالٹین شہروں میں رہنے کاخر چ زیادہ تھا۔ بچ وچ کچھ نہیں رہاتھا۔ نوجوان واپس اپنے چھوٹے سے شہر آکر چھوٹی نوکریاں کرنے لگے اور کچھ بیکار گھومنے لگے۔ تقریر کرنے والے آج بھی پورے یقین سے تقریرکرنے میں لگے ہوئے ہیں اوراپیل کر رہے ہیںکہ اپنی پوری رقم اداروں کو دے دیں وہ آپ کی اولادوں کی قسمت بدل دیں گے۔ مگرسروے کی رپورٹ یہی آئی تھی کہ نوجوانوں کی کوئی قسمت نہیں بدلی ۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی آن لائن گیم کی لت میں مصروف ہے۔وہ دیگر ایسے شغل اور کام میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں جس پر پولیس کو تشویش ہے۔
۵۔ شہ نشینی
جب موصوف کو شہ نشین پربلالیاگیاتب انہیں سکون ملا۔ ورنہ نیچے بیٹھے ہوئے بار بار اشارے کرتے رہے کہ مجھے اوپر بلاؤ یار۔فون بھی کیااور کہاکہ یہ کیابات ہوئی کہ مجھے نیچے بٹھادِیاگیاہے۔ ان کے اشاروں اور فون نے آخرکار کام کیااور انہیں اوپر آنے کی دعوت دے دی گئی۔
موصوف نے ناظم جلسہ کے قریب بیٹھتے ہوئے اُن کی پسند کا پان اُن کے حوالے کرتے ہوئے کہا’’ناظم صاحب ، اگر آپ مجھے شہ نشین پر مدعونہ کرتے تو مجھے عمر بھر آپ سے شکویٰ رہ جاتا‘‘ناظم جلسہ نے دانت باہر نکال کر ہنستے ہوئے دبی زبان میں کہا’’ایسا کیسا ہوسکتاہے سیٹھ صاحب ، آپ شہ نشین پر نہ ہوں ،یہ ممکن ہی نہیں ہے ‘‘۔
