محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ منزل شناس:۔ 
اُس کو خوف بہت تھا، دنیا کی بدزبانی ، بے باکی ، چالاکی اور حرام خوری سے ہمیشہ وہ خوف کھایاکرتاتھا۔اسلئے اُس نے ساری زندگی خوف کی گودی میں گزاردی۔ اورجب اس کی موت واقع ہوگئی تواس کا چہراپوری طرح پرسکون ہوگیاتھا۔ جیسے اس کو اس کی منزل مل گئی ہو۔
۲۔ آخری منصف:۔ 
اس نے معافی مانگ لی تو عدالت نے معاف کردِیا۔ ہم حیرت زدہ رہ گئے۔ آخر عدالت اتنی ہمدرد کس طرح ہو گئی ہے۔ جب وکیل صاحب سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایاکہ مقدمہ میں آپشن کئی تھے ۔ منصف نے معافی کے آپشن کو استعمال کیا۔ ہم تینوں دوست سوچ رہے ہیں کہ ایک عدالت کا منصف اس قدر رحم کرسکتاہے تو پھر اُخروی عدالت کاآخری منصف کس قدر رحم دل ہوگا۔ کیاو ہ اس لائق نہیں ہے کہ اس کی عبادت کی جائے ؟
۳۔ شاندارمستقبل والے :۔ 
’’ گاؤں سے تعلق رکھنے والے سیاسی معاملات کے ماہرہوتے ہیں۔ ان کالیڈر جیسے ہی راجدھانی پہنچتا ہے یا سیاسی دورے پر ہوتا ہے وہ فوری طورپر اپنے سیاست دان کی تصویر اپنے اسٹاٹس پر رکھ دیتے ہیں۔ وہاں سے چل کرراستے میں کہیں کھاناکھارہاہوتاہے تو وہ تصویر فیس بک پراپلوڈ کردیتے ہیں، وزراء اور وزیراعلیٰ سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ لوگ انسٹاگرام کااستعمال کرتے ہیں۔ آج کل Xپربھی یہ گاؤں کے لوگ نظر آرہے ہیں۔ ان کی سیاسی سرگرمی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے‘‘ میرے غیرمسلم دوست وسنت جونیکر نے کہااور پھراچانک ہی اس نے مجھ سے پوچھا ’’تم مسلمانوں کے لیڈروں کاکیاحال ہے ؟‘‘ حال تو براتھا، ان کی کوئی خیر خبر مجھے ہوتی نہیں تھی ۔ پھر بھی میں نے کہا’’مسلمان ایک پسماندہ قوم ہے۔ ہندوستان میں سیاسی زندگی جینے کی کوشش ہورہی ہے ۔ مستقبل شاندار ہے ‘‘ اس کے علاوہ مجھے کچھ اورکہنا نہ سوجھا۔
۴۔ کڑیاں :۔   
شوہر کے مطالبات کو پوراکرنے سے قاصر نوشابہ اِرم نے شوہر کے لئے دوسری بیگم کاانتظام کرنا مناسب سمجھا۔ بہنوں اور رشتہ داروں نے، یہاں تک کہ اس کی سہیلیوں نے بھی کہاکہ یہ ایک غلط فیصلہ ہے۔ تاہم وہی جانتی تھی کہ اس کایہ فیصلہ صد فیصد درست ہے ۔ شوہر کے علاوہ اپنی روحانی زندگی میں بھی سکون ضروری ہے، روحانی ترقی نہ ہوگی تو اللہ سے محبت کی کڑیاں خود بخود چکناچور ہوسکتی ہیں مگر وہ یہ بات کسی سے کہنا نہیں چاہتی تھی۔
۵۔ راستہ ناپاگیا:۔ 
وہ دنیا کو متحد کرنے کاخواب دیکھ رہاتھا۔ بابے کو پتہ چلاتوا نھوں نے اس کو طلب کیااور نہایت ہی سنجیدگی سے کہا’’دنیا کا اتحاد ضرور ی نہیں لیکن انسانوں کااتحاد لازمی ہے، اس کے لئے تم کوشش کرو ‘‘
وہ نوجوان تھا،اورعزائم بھی جوان رکھتاتھا۔ اس نے کہا’’جو سوچا ہے اس پر عمل کروں گا‘‘ بابے کچھ اور سمجھانا چاہتاتھالیکن اس نے محسوس کیاکہ اس کے بول آنے والے کسی سچ کا پتہ دے رہے ہیں۔ بابے نے اپناراستہ ناپنے میں عافیت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے