ابواحمد مہراج گنج
جدید آلات اور نئے ایجادات کو اگر صحیح مصرف میں استعمال نہ کیا جائے تو اس کے منافع سے زیادہ اس سے خسارے پیدا ہوجاتے ہیں ۔بطور مثال موبائل فون ہی دیکھ لیجیۓ کہ اس کا صد فیصد فائدہ کتنے لوگ لے رہے ہیں مگر اس سے ہونے والا خسارہ خواہ وہ وقت کا ہو مال کا ہو جسم کا ہو سب کے حصے میں کچھ نہ کچھ ضرور ہے ۔
اسی طرح آجکل الیکٹرک آٹو رکشہ ہے جو ہر نگر کے گلی چوراہے سے لیکر گاؤں دیہات کے گلی کوچوں پر مل جاتا ہے جس نے آمد و رفت کی دشواریوں کوآسان بنادیا ہے ۔
لیکن اس کا ایک تاریک پہلو یہ ہے کہ اس نے جہاں آمد و رفت کی سہولت فراہم کیا ہے وہیں پر اس نے بے راہ روی کو فروغ دینا شروع کر دیا ہے ۔بے غیرتی اور حیا باختگی کے رجحان میں اضافے کا باعث بن رہا ہے ۔
أئیے میں أپ کو دکھاتا ہوں کہ آج سے سال بھر پہلے جب ان آٹورکشوں کا دور نہیں تھا تو بیشتر علاقوں میں عورتیں بہت ہی ضروری ہونے پرگھروں سے اپنے گارجین اور ذمہ داروں کے ساتھ ہی نکلا کرتی تھی ۔ لیکن آٹورکشہ کلچر نے عام گھریلو عورتوں کو بازار میں پہچانے میں بڑا رول ادا کیا ہے ۔جب دل کیا کوئی ضرورت ہونہ ہو فورآ گاؤں کے روڈ پر ،گاوں کے کنارے واقع سڑک پر آٹورکشہ موجود ہے ڈھڑلے سے اس پر سوار ہوکر کر مارکیٹ میں گھومتے اور رنگ برنگے ملبوسات اور فیشن ایبل نقاب میں ہر شہر ،قصبے ،دیہات کے چوراہوں ،شاپنگ سینٹروں اور بازاروں میں اپنی حاضری درج کراتی ہماری اسلامی مائیں بہنیں دیکھی جاسکتی ہیں ۔حیا باختگی کا عالم یہ ہے کہ ڈرائیور کے بغل والی سیٹ پر شانہ سے شانہ ملاکر بیٹھنے میں اب ان کو کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی میں نے بارہا اس منظر کو دیکھا اور کف افسوس ملنے کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہاۓ اس روز پشیماں کا پشیماں ہونا ۔
