محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
موبائل :9141815923
۱۔ تن ڈھانکنا
’’تن کاعیب ڈھانکنے کے لئے کپڑے پہنے جاتے ہیں ‘‘ اس نے کہاتو مجھے حیرت ہوئی۔ میں نے کہا’’بھائی صاحب ، تن کوعیب نہیں کہتے ۔ تن کادوسرانام چلتا پھرتا جسم یاچلتی پھرتی زندگی ہوسکتاہے ‘‘
اس نے ضد پکڑلی اور کہا’’آپ چاہیں جو کہیں لیکن تن دراصل ایک عیب ہے ۔ اس عیب کو دوسرے کے سامنے ظاہر نہ کرنے کے لئے جسم پر کپڑے زیب تن کئے جاتے ہیں ‘‘
میں نے اس سے پوچھا’’پانی کیوں پیا جاتاہے ‘‘ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور کہا’’اٹس ویری سمپل ، پیاس بجھانے کے لئے پانی پیاجاتاہے ‘‘
میں نے فوراً کہا’’بالکل ، پانی اور پیاس کے رشتے ہی کی طرح تن کوڈھانکنے کیلئے کپڑے پہنے جاتے ہیں، تن کاعیب ڈھانکناوالی کوئی بات اس میں نہیں ہوتی ‘‘ وہ میرے اس اٹیک پر کچھ بول نہ سکا۔
۲۔ بے ذائقہ
جنگ ہورہی ہے۔ قبلہ اول کے حصول کی جنگ میں ہزاروں لوگ جامِ شہادت نوش فرمارہے ہیں اور میں۔۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے کاروبار میں مصروف ہوں ۔ صبح گھرسے ناشتہ کرکے نکل جاتاہوں اور 150کیلومیٹرسفر کرکے ملک کے معروف شہر پہنچتاہوں۔ مختلف سائٹس کامعائنہ کرتاہوں۔ دوپہر کاکھانا کسی اچھے سے ہوٹل میں کھانے کے بعد ظہر کی نمازتنہا پڑھ کر دوبارہ سائٹس کا معائنہ کرنے
لگ جاتاہوں ۔ شام ہونے سے پہلے پہلے گھرواپس ہونے کے لئے نکل کھڑا ہوتاہوں ۔ 80کیلومیٹر فاصلہ طئے کرنے کے بعد ایک ڈھابہ میں 400روپئے کی بریانی کھاکر رات 11بجے تک واپس گھر پہنچناروزکامعمول ہے ۔ لیکن جب سے قبلہ ء اول کے حصول کی جنگ اُدھر ہورہی ہے،اِدھر معاش کے حصول کی جدوجہد میں لطف نہیں رہا۔میری پسندیدہ ڈش بریانی بھی اپنے ذائقہ کو الوداع کہہ رہی ہے۔اور بھی باتیں آپ سب سے کہنی ہیں لیکن فی الحال غذا کے بے ذائقہ ہونے کامسئلہ سامنے ہے۔
۳۔ایک کہانی۔ نقشِ قدم
ہم اپنے والد کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے والد نے بھی کبھی ہمیں کسی کام کاج سے نہیں روکا۔ ہم سمجھتے تھے کہ ہمارے والد نے اس طرح ہم پر مہربانی فرمائی ہے لیکن وہ توحد درجہ چالاک نکلے۔ آج انھوں نے وہی بات کہی۔ جب ہم نے ان کے لائف اسٹائل اور ان کی روزانہ کی مصروفیات پر اعتراض کیاتو انھوں نے پیاربھرے لہجے میں تینوں بھائیوں سے کہا’’ پیارے لڑکو! تم ذہین وفطین ہو۔ اورکسی بھی معاملے کو جج کرنے کی صلاحیت بھی تم میں بدرجہ ٔ اتم موجودہے۔جب تم چھوٹے تھے ، تب سے لے کر اس عمرتک میں نے کبھی تمہیں روکاٹوکا ہے ؟‘‘
کوئی کچھ نہ بولا۔ میں کچھ کہناچاہتاتھالیکن بڑے بھائی نے اشارے سے خاموش رہنے کوکہہ دیا۔ والد صاحب کہنے لگے ’’میں نے جب تم تینوں بھائیوں کوکبھی روکاٹوکا نہیں ہے تو پھر میرے لائف اسٹائل یامیری روزمرہ کی مصروفیات پرتمہارا اعتراض کرنا کہاں تک درست ہوسکتاہے ؟‘‘
والد صاحب نے سوال تو صدفیصد درست کیاتھاجس کاجواب ہمارے پاس نہیں تھا۔ مجھے لگاکہ کاش ! ہمارے والد ہم تینوں بھائیوں کوروکتے ٹوکتے ، ہمیں ہمارے غلط کام پر سزا دیتے ۔ اگر ایساہوتاتو آج میں بھی والد صاحب سے کہہ پاتاکہ موبائل پر خواتین سے رابطہ رکھنا، یا وقت بے وقت گندی گندی فلمیں دیکھنا مناسب بات نہیں ہے ۔۔۔۔پڑوس کی آنٹی کی جوان بیٹی کی قربت کیلئے بے وقت آوک جاوک سے ہمارا گھر متاثر ہورہاہے ۔ والدہ بستر سے لگ چکی ہیں ۔ابو جی ! ان سب چیزوں کو چھوڑ دیں۔ واقعی والد کی جانب سے دی گئی آزادی نے ایک دوسرے کو نصیحت کرنے کے حق سے ہمیں محروم کردیا ہے۔ میری آنکھوں میں آنسو ہیں لیکن جانے کیوں میرے دونوں بھائیوں کو یہ آنسو نظر نہیں آتے؟ ۔ میر اخیال ہے وہ بھی والد کے نقش ِ قدم پر چل رہے ہیں۔
۴۔ بہنے والے
اس نے اعتراض کیاتھا، ’’یہ کیاطول طویل کہانیاں لکھاکرتے ہو؟ زیادہ وقت ہے کیا؟‘‘ اس دن کے بعد اس نے طویل افسانے اورطویل کہانیاں لکھنا ترک کردیا۔ افسانچے لکھنے شروع کردئے۔ افسانچے لکھتے ہوئے بھی 10سال کاعرصہ گزر گیا۔ اس دوران زندگی میں کئی اتارچڑھاؤ آئے لیکن اس کاقلم صفحہ ء قرطاس پر کبھی نہیں رُکا۔
دس سال بعد وہ پھرملی ہے۔ اورپھر سے اعتراض جڑ دیا، کہاکہ ’’یہ کیا، مختصر مختصر کہانیاں لکھتے رہتے ہو، بہت جلدی میں ہوکیا؟کبھی ٹہرٹہر کر طویل کہانیاں بھی لکھاکرو‘‘ پھر وہ چلی گئی۔ اس نے اُس کو جاتے ہوئے دیکھااور جیسے اسی سے کہہ رہاہو’’میڈم، جلدی میں تو آپ ہیں۔ میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں ، جہاں آپ چھو ڑ کر گئیں تھیں، بہتی ندی کے پل کے پاس۔یہی تو وہ مقام ہے اور میں آج بھی اسی مقام پر کھڑا سوچ رہاہوں کہ بعض انسان بلاشبہ پانی کی طرح ہوتے ہیں، وہ صرف بہناجانتے ہیں‘‘
۵۔ پابند ِقرآن
’’نمازیں پڑھتارہتاہوں۔ بس قرآن پڑھ نہیں پارہاہوں۔ عرصہ ہوگیا،قرآن کو پڑھے ہوئے ۔ تلاوت تو جمعہ کو جمعہ کرلیتاہوں لیکن قرآن کوسمجھ کرپڑھنا مجھ سے نہیں ہوپاتاہے، جانے کیوں ؟‘‘اس نے اپنے امیر کے سامنے صاف صاف کہہ دیاتو امیرصاحب بولے ’’قرآن بھی ایک معجزہ ہے۔ یہی دیکھ لو ، تمہیں قرآن پڑھنے کی خواہش ہے لیکن قرآن کو ایسی کوئی خواہش نہیں ہے کہ وہ تمہارے دماغ میں گھس کر تمہاری تربیت کرے ، صحیح کہہ رہاہوں نا؟‘‘
امیرصاحب کی بات اس کو بہت بُری معلوم ہوئی۔ وہ فوری اٹھ کرچلاگیا۔ دماغ میں امیرصاحب کی وہی ایک بات گونج رہی تھی کہ ’’قرآن کو ایسی کوئی خواہش نہیں ہے کہ وہ تمہارے دماغ میں گھس کر تمہاری تربیت کرے‘‘ ایساکیوں ، آخر ایسا کیوں ؟کیامیں مسلمان نہیں ہوں، کیامیں قرآن پر ظلم کرتاہوں ؟خود اسی کی آوازاس تک پہنچ رہی ہے۔ کوئی جواب موصول نہیں ہوتاہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قرآن کاترجمہ سے پڑھنا گزشتہ پانچ سال سے ا ب اس کے معمول میں شامل ہے۔ وہ اب کافی بدل چکاہے۔ زکوٰۃ بھی پابندی سے ہرسال نکالاکرتاہے لیکن جب قرآنی نکات کے ذریعہ سماجی حل کی بات آتی ہے تو شہر کے 5 چنندہ افراد میں اس کابھی نام آتاہے۔
