ابو احمد مہراج گنج
بھارت میں ہر مذہب اور دھرم کے پیروکار ہیں اور صدیوں سے اس سرزمین پر امن وسلامتی کے ساتھ گھل مل کر زندگی گزار رہے ہیں، یہاں کےامن وامان میل محبت اور بھائی چارگی کو مزید مضبوطی اور پائیداری بخشتے ہیں ہمارے تہوار اور رسم ورواج ۔عید الفطر کی سیویئوں کی خوشبو ادھوری رہ جاتی ہے جب تک کہ کوئی شیام لال اور کرشن کمار اسے چکھ نہ لے۔ اسی طرح ہولی کی گوجیا اور دیوالی کی مٹھائی انتظار میں رہتی ہے کہ کوئی عبدالکلام اور عبدالسلام آکر ان کو زندگی بخش دے۔
اسی طرح ولادت سے لیکر شادی بیاہ تک اور قبرستان سے لیکر شمشان گھاٹ تک ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلنے والے موجود ہیں اور یہی اس بھارت کی طاقت وقوت رہی ہے اسی طاقت کے دم سے انگریز جیسے عیار،مکار،اورجال ساز کو بھی بھارت سے بھگانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ برادران وطن کے تہوار جو امن وآشتی اور برائی پر اچھائی کی جیت کے یادگار کے طور پر مناے جاتے ہیں ۔اب وہ منافرت پھیلانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہورہے ہیں ۔
ابھی گزشتہ دنوں درگا پوجا کا تہوار روایتی جوش و خروش سے منایا گیا ۔اور کوئی ناخوش گوار واقعہ بھی سامنے نہیں آیا ۔لیکن اسی درگا پوجا کے وسرجن کے وقت جس قدر بے ہنگم اور بے ہودہ قسم کے نعروں سے ماحول کو متعفن کیا گیا وہ یہ بتانے اور سمجھانے کے لئے کافی ہے کہ اب مذہبی تہوار بھی سیاسی مقاصد کی تکمیل کے آلہ کے بطور استعمال کیے جارہے ہیں۔
اتفاق سے وسرجن کرنے جارہی ایک بھیڑ کے ہمراہ رات کے چند لمحے میرے بھی گزرے ہوا یوں کہ میں ٹریفک جام میں پھنس گیا اور وسرجن کرنے جانے والی بھیڑ میں چند لمحے پھنسا رہا ،وہاں پر ڈی جے کی وائبریشن والی گونج اور کان کے پردوں کو پریشان کرنے والے ردھم پر یہ بجا کر سنایا جارہا تھا کہ "بھارت میں گر رہنا ہو تو وندے ماترم کہنا سیکھو”
,”چمک رہی تلواریں سب کی چمک رہا ترشول ہے”
"ہندو کو کمزور سمجھنا یہ دشمن کی بھول ہے ”
"چپا چپا کردیں گے شری رام کے ادھیکار میں ”
"ہندو شیروں کو روک سکے وہ دم نہیں غدار میں ”
ظاہر ہے کہ اس نعرے کے مخاطب وہ بھیڑ نہیں بلکہ وہ قوم ہے جو اس بھیڑ کا حصہ نہیں ہے مطلب کہ مسلمان ،عیسائی سکھ اور بدھسٹ ۔
مزے کی بات تو یہ کہ یہ ساری نعرے بازی حفاظتی دستوں اور اعلیٰ حکومتی ذمہ داروں کی موجودگی میں انجام پذیر ہوتا ہے گویا کہ وہاں سے ہم کو”غدار” کہنے کا سرٹیفیکیٹ لیا جاتا ہے اور وہ سہو ایا عمدا سرٹیفکیٹ دے بھی رہے ہیں۔
ہمارے ایک غیر مسلم غیر سیاسی پس منظر والے دوست ہیں وہ کہتے ہیں کہ "ہندو مذہب کے تیج تہواروں کو بھی سیاسی لیڈروں نے ہائی جیک کرلیا ہے۔اب عام آدمی جو سیاسی نہیں سماجی اقدار پر یقین رکھتا ہے وہ ان ہائی جیکرو کے ہاتھوں یرغمال بنتے جارہا ہے” جو بھارت کے مستقبل اور غیر ہندو قوموں کے صحت کے لئے نیک فال نہیں ہے۔
اگر وقت رہتے اس طرف دھیان نہیں دیا گیا تو گاوں اور دیہاتوں میں بچی کھچی رواداری اور آپسی بھائی چارگی بھی ایک تاریخ بن جائے گی ۔
