محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
موبائل :9141815923 
ا۔ دُکھ کا ڈھنڈورا
’’لوگوں میں نظم وضبط لانا ایک پتہ ماروکام ہے۔ اسی طرح شعراء اورادیبوں کونظم وضبط کے تحت رکھناخود کو ماردینے کے مترادف ہے ‘‘ میں نے کہاتو وہ مجھ پر برہم ہوگیا۔اور بولا’’بیچارے شاعراور ادیب تو ہمارے سچے رہنماہوتے ہیں ‘‘
میں نے اقرار کرتے ہوئے فوراً اس کاجملہ اچک لیااور کہا’’شاعراور ادیب بلاشبہ سماج کے سچے رہنما ہوتے ہیں لیکن ہرمیدان کے رہنما کو تربیت کی ضرورت یقینا ہوتی ہے ، اور شعراء اور ادباء کو اس لئے زائد تربیت کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ذراسی تکلیف پر بلبلااٹھتے ہیںاور کاغذقلم لے کر لکھنے بیٹھ جاتے ہیں ‘‘ میں نے توقف کیااور آگے کہا’’ دنیا میں لوگ بہت زیادہ پریشان اور حالات کے مارے ہیں لیکن انہیں شعراء اور ادیبوں کے مقابلے سلیقہ سے اپنادُکھ بیان کرنانہیں آتا، جب کہ شعراء ، ادباء اور اس میدان کے دیگر افراد میرے خیال میں اپنے دُکھ کا ڈھنڈورا بہت پیٹتے ہیں۔ اگر وہ ایساکرنے میں چالیس فیصدتک کمی کردیں تو عین ممکن ہے کہ لوگ انہیںمزید پسند کریں کیوں کہ ان کے دکھ سے کہیں زیادہ معصوم عوام کادکھ ہے ‘‘
وہ کچھ نہ بولا ۔سونف چباتے ہوئے جانے کیاسوچ رہاتھا۔
۲۔ دلی سکون ؟! 
’’مولانا جی، آپ آجائیں ہمارے اسکول، ان شاء اللہ آپ ہمارے طلبہ کو پڑھا کر دلی سکون محسوس کریں گے ‘‘ مولانانے دیڑھ ہزار کیلومیٹر کافاصلہ طئے کیااور اسکول پہنچ گئے۔ تقریباً 7ماہ تک انھوں نے اس معروف اسکول کے طلبہ کوپڑھا یا ۔واقعی طلبہ کو پڑھا کرانھوں نے دلی سکون محسوس کیالیکن اسکول انتظامیہ کارویہ تحکمانہ اور اولیائے طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کوبھی بے عزت کرنے والاتھا۔
7ماہ  بعد اپنے وطن واپس جاتے ہوئے ایک سوال ان کے سامنے آن کھڑاتھاکہ حکم دینے اور بے عزت کرنے والی اسکول انتظامیہ آیا طلبہ کی تعلیم اورا س کی تربیت کے ساتھ انصاف کرسکتی ہے ؟جواب بھی خود انہیں دیناتھا۔
۳۔ فرزند
”بابا… بابا…” بچہ کے چیخنے کی آواز کانوں میں جیسے ہی پڑی، باپ نے پلٹ کر دیکھا. ریل گاڑی چل پڑی تھی. وہ فوراً ریل گاڑی پکڑنے بھاگ کھڑا ہوا. اورتیزی سے گاڑی میں داخل ہوگیا
بچہ کی آواز توسنائی دی تھی لیکن اس کو بچہ نظر نہیں آرہا تھا. وہ بدحواسی کے ساتھ ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے اپنی سیٹ تک پہنچا…… کیا دیکھتا ہیکہ اس کا 9/سالہ لڑکاسیٹ پر سو رہا ہے….
جانے کیوں اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے
۴۔ خراب ناٹک 
ناٹک دیکھ کر باہر نکل آئے تو سرد ہوائیں چلتی محسوس ہورہی تھیں۔ تقریباً دوڑتے ہوئے جاکر میںگاڑی میں بیٹھ گیا۔میرے تینوں ساتھی آہستہ آہستہ آکر وہ بھی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا’’کدھر جائیں گے ہم ـ‘‘
ایک دوست نے جھلائے ہوئے لہجے میں کہا’’جہنم میں ‘‘ دراصل اس کو ناٹک پسند نہیں آئی تھی۔کیوں کہ اس کو نئی فنکارہ جوتشنا پسند آئی تھی ۔ ناٹک کے فوری بعد ناٹک کے شائقین اپنے اپنے پسندیدہ کرداروں سے مل رہے تھے۔ وہ بھی قطارمیں کھڑا ہوکر جوتشنا سے ملنے پہنچاتو جوتشنا نے کہلابھیجا میں ملنا نہیں چاہتی۔
رزاق ساہو منہ بناتے ہوئے بولا’’بھائی ، ایسا کہیں ہوتاہے کیا، کوئی نہ ملے تو سبھی کو جہنم میں بھیج دیںیاجہنم واصل ہونے کی ترغیب دیں ؟ ‘‘ گاڑی میں قہقہے گونج رہے تھے اور گاڑی تیزرفتاری سے منزل کی طرف رواں دواں تھی ۔ اور میں سوچ رہاتھاکہ’’ خراب ناٹک تو ہم اپنی زندگی میں بھی کرلیتے ہیں جوہمیں خود پسند نہیں آتی ۔بہرحال ۔۔۔‘‘
۵۔ خداملے گا
ماں نے بڑے دلارسے کہا’’پھر میں اپنے فرزند کے لئے انڈا بنادیتی ہوں‘‘ فرزند نے انکار کرتے ہوئے کہا’’میں انڈا نہیں کھاؤں گا‘‘
ماں کی سمجھ میں نہ آسکاکہ بات کیاہے ؟ قریب آکر ماں نے جاننے کی کوشش کی کہ اکلوتے فرزند کو بھوک کیوں نہیں ہے ؟ باتوں ہی باتوں میں مقیم سونو نے بتایاکہ اس نے ملاقات کا وقت دِیاتھا، پھر بھی نتاشہ ملنے نہیں آئی۔ ماں کے منہ سے نکلا’’اچھا۔۔۔تو عشق چل رہاہے ؟ ، یہ تو ایک روگ ہے بیٹے ، ابھی سوچ لے،اس راستے سے واپس آئے گا تو خدا ملے گاورنہ صنم سے بھی ہاتھ دھوبیٹھوگے‘‘۔
وقت نے ثابت کردیاکہ ماں نے درست پیشین گوئی کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے