سہارنپور( احمد رضا): فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف دنیا بھر میں عوامی سطح پر ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن کچھ عرب اور اسلامی ممالک کی خاموشی آج بھی حیران کن ہے، اسلامک تعلیم کے مطابق مظلوم فلسطین کی مدد مسلمانوں پر فرض ہے تمام مسلم ممالک کی دینی، ایمانی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فلسطین کے مظلوم عوام کی بھرپور مدد کریں اور اس مسئلہ پر تمام مسلم ممالک اور عالمی سطح پرعوام کا بیک آواز بلند کرنا انتہائی ضروری ہے، اسرائیل کی دہشت گردی ان دنوں سبھی پرعیاں ہو چکی ہے سبھی کھلی آنکھوں سے اسرائیلی فوجی اور سرکار کا اجتماعی قتل عام کا کھیل دیکھ رہے ہیں ظالمین نے غازہ پٹی کو مسلم بچوں اور عورتوں کی قبر گاہ بنا دیا ہے اس ضمن میں کل دیر شام اخبارات سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر قائد ڈاکٹراسلم باشا نے کہا کہ لگاتار  پچہلے 30 دنوں سے معصوم مسلم آبادی پر اسرائیل کی دہشت گرد ی جاری ہے۔  آپ نے اسرائیلی فوجی کاروائی کو دہشت گردی قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ فوری طور سے رک نی چاہئے یہ ہٹلر سے بھی بڑا اجتماعی قتل عام ہے اپنے کہا کہ اس وقت اسرائیل کے زندانوں میں ہزاروں معصوم فلسطینی اور بے گناہ قیدی موجود ہیں غازہ پٹی مسلسل چار ہفتوں سے جابر اسرائیلی فوج کے محاصرے میں ہیں، آسکول , ایمبو لینس، اسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں پر بمباری کی جارہی ہے،بچے، بوڑھے اور عورتیں مسلسل حملوں کا شکار  بن کر شہید ہو رہے ہیں مجروحین اور مریضوں کے لئے ادویات۔پانی اور جناس کی شدید قلت ہے، افسوس کا مقام ہے کہ اس اجتماعی قتل عام ، تباہی اور بربادی پر کچھ عرب حکمراں اسرائیل کے خلاف کسی طرح کا جوابی قدم اٹھانے کے بجائے اپنے روز کے معمولات اور سرگرمیوں میں مصروف ہیں!

آل انڈیا کانگریس کمیٹی رہبر اور اقلیتی شعبہ تامل ناڈو کے نگراں ڈاکٹر اسلم باشا نے اسرائیل کے فلسطینیوں پر اندوہناک مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کاروائی کو دہشت گرد ی قرار دیا اور فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عالمی برادری سے انکی مدد کی درخواست کی اسلم باشا نے کہا کہ جلد ہی اسرائیل کو انسانی اقدار سے عاری درندگی اور سفاکیت کے لئے جواب دہ ہونا پڑے گا، ضروری ہے کہ علمائے کرام اور ملی تنظیموں کے سربراہان عربی ممالک پر زور دیں کہ وہ اپنی صفوں کو متحرک کریں اور مظلوم فلسطینیوں کے خلاف ہونے والی اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنے کے لئے طاقت کے ساتھ آواز اٹھائیں اور فلسطینیوں کی مدد کریں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے