رفیع نعمانی مہراجگنج یوپی

اردو زبان کی افادیت اور اہمیت سے کسے انکار ہوسکتا ہے ۔اردو باشندگانِ ہندو پاک کے ساتھ برِّاعظم ایشیاء کی سب سے شیریں زبان ہے اس نے آزادئ ہند میں مجاہدین آزادی کے شانہ بشانہ چل کر کافی قربانیاں پیش کیں البلاغ اور الہلال کی بات ہی کیا ہزاروں اخبارات ورسائل کے بوسیدہ اوراق اردو زبان کے جذبہ آزادی کے شاہد ہیں۔ مگر آزادی کے بعد یہ زبان بھی تقسیم کی نذر ہوکر غم کی ماری بن کر جینے پر مجبور ہے۔ اور کیوں نہ ہو جب اس سے محبت کے دعوے دار ہر خرد وکلاں، مردوزن انگریزی زبان کے دلدادہ اور اس پر فریفتہ ہوگئے ہوں۔ بیگم جب وائف اور زندگی جب لائف ہوجائے ۔موضع ویلیج اور برائے مہربانی پلیز ہوجائے۔ باورچی خانہ کچن ،گوشت مٹن اور چکن ہوجائے ۔پانی واٹر، غسل خانہ باتھ روم ہوجائے۔ غرض کہ ضروریات زندگی کو بیان کرنے والے الفاظ جب انگریزی زبان میں بولی جانے لگیں تو سمجھ لیجئے کہ اب اردو واقعی مظلوم ہے ۔
شعرا وادبا کی اکثریت تو خاص طور پر اردو کی آڑ میں دیونا گری کی روٹی کھانے میں مست ہے اب تو ادبی نشستوں میں بھی شعرا کے ساتھ کوی و کوتری بھی شامل ہونے لگے ہیں۔ اب تو مشاعروں کے اشتہار پر "کل ہند” کے بجائے” آل انڈیا” ہی چھپتے ہیں مشاعروں سے اردو کی ترویج نہیں بلکہ زرق برق لباسوں کی نمائش ہورہی ہے۔ مشاعروں سے زیادہ اردو کی ترویج دینی مدارس و مکاتب سے ہی ہوتی ہے صحیح معنوں میں مدارس کے اساتذہ کرام ہی اردو کی خدمت کررہے ہیں۔ کالجوں یونیورسٹیوں میں جہاں اردو شعبہ قائم ہیں وہ بھی اردو کو زندگی بخش رہے ہیں۔ ایسے ہی اردو اخبارات و دینی و اصلاحی ماہناموں سے اردو آباد ہے مگر رونا اس بات پر ہے کہ اردو اکیڈمیاں اب اردو کے خادموں کو نہیں بلکہ دیوناگری کے متوالوں کو انعام واکرام سے نوازتی ہیں۔ آج اردو پڑھا لکھا طبقہ بھی ہندی اخبارات سے ہی اپنے میزوں کو زینت دیتا ہے۔ اب مالدار طبقہ اپنے بچوں کو اردو کے بجائے ہندی انگریزی کی تعلیم پر زیادہ زور دیتا ہے اسی لیے اردو کا حال افسوس ناک ہے اگر اردو کے ساتھ یہی سوتیلاپن برتا گیا تو سمجھ لیجئے کہ مستقبل کربناک ہو سکتا ہے لہذا اردو بولیں، اردو لکھیں، اردو پڑھیں اور پڑھائیں تبھی نئی نسلوں کو اردو کا دلدادہ بناسکتے ہیں صرف عالمی یوم اردو منانے سے اردو زندہ نہیں ہو سکتی ہے۔
اردو کی موجودہ صورت حال کا نقشہ کھینچتے ہوئے سندر مالیگاؤں نے بہت ہی خوبصورت شعر کہا ہے کہ

مجھ کو لیتے نہیں ہیں کباڑی بھی اب
جیسے اردو زباں کا رسالہ ہوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے