✍️:حبیب اللہ التیمیؔ

دینی اجلاس اور اصلاح معاشرہ پر مشتمل کانفرنس کی اہمیت و افادیت سے کوئی بھی فرد بشر انکار نہیں کر سکتا، کیونکہ ہمارے اسلاف نے انہی مجالس و محافل کے توسط سے دین کی نشر واشاعت کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا تھا۔آج انہی اسلاف عظام کے طرز دعوت کو بروئے کار لاتے ہوئے جا بہ جا دینی اجلاس کا انعقاد کیا جاتا ہے، تاکہ جہالت و ناخواندگی اور علمی پسماندگی کے شکار عوام کو دین حنیف کی صداقت و حقانیت اور اس کی عالمگیریت و آفاقیت سے روشناس کرایا جا سکے۔انہی نیک مقاصد اور پاکیزہ جذبات کے تحت جامعہ دار الہدی السلفیہ للبنات بھیڑیہاری کے زیر اشراف یکشبی اصلاح معاشرہ کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا جس کی تفصیل مندرجہ ذیل سطور میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ عوام الناس کو اور بالخصوص ان احباب کو جو کسی عذر معقول کے سبب شریک اجلاس نہ ہو سکے ان تک اس پروگرام کی تفصیلات پہنچ جائیں۔واضح رہے کہ اس بزم کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت، حمد باری تعالی اور نعت نبی سے عمل میں آیا، بعد ازاں شیخ سمیع اللہ التیمیؔ حفظہ اللہ صدر المدرسین جامعہ ھذا نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، خطبہ استقبالیہ پر مشتمل اپنی گفتگو میں شیخ نے بھیڑیہاری کی تاریخ پر مختصر روشنی ڈالتے ہوئے یہاں کی مٹی سے وابستہ با وقار علمائے عظام کا ذکر خیر کیا جن میں سر فہرست محمد حسن فیضیؔ ،حافظ عبد العزیز صاحب اور کئی کتابوں کے مصنف اور اداروں کے مؤسس شیخ رضوان ریاضیؔ صاحب کا نام سر فہرست ہے۔ شیخ نے خطاب میں دور دراز سے تشریف لائے ہوئے مہمانان ذی وقار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بزم میں ان کی والہانہ شرکت پر اظہار مسرت فرمایا۔

اس بزم میں پہلا خطاب ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود التیمیؔ صاحب کا ہوا جو علم کی اہمیت و افادیت پر مشتمل تھا، اس خطاب میں شیخ نے دلائل و شواہد اور براہین کی روشنی میں علم کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے کی امکانی حد تک کوشش کی۔ دوران خطاب آپ نے نسل نو کو حصول علم کی ترغیب دی اور علم ہی کو معرفت الہی کی وجہ بتایا۔حصول علم کے میدان میں اسلاف کی کیا کار کردگی اور سرگرمیاں رہی ہیں اس پر بھی خطیب موصوف نے سیر حاصل گفتگو کی۔آپ کا اسلوب خطاب اور طرز ادا نہایت ہی دلآویز و جاذب قلب تھا، دوران خطاب تمام سامعین گوش بر آواز رہے اور ان کے نورانی بیانات سے اپنے اذہان و قلوب کو منور کرتے رہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مجلس کی صدارت شیخ محمد علی مدنیؔ امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار نے فرمائی جنہوں نے اپنے صدارتی کلمات میں تعلیم نسواں کی اہمیت پر زور دیا اور دار البنات کے قیام اور اس میں ہاسٹل کی توسیع پر خصوصی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیا۔آپ نے دین کے معاملے میں خواتین کی ثبات قدمی کو بیان کرتے ہوئے مثال کے طور پر فرعون کی زوجہ نیک حضرت آسیہؑ اور حضرت مریمؑ کا ذکر کیا۔آپ کے خطاب کا اہم عنصر خواتین کی تعلیم و تربیت، بچیوں کو دینی تعلیم سے آگاہی، ان کی دینی رہنمائی اور ان کی ذہنی و اخلاقی تربیت پر حاصل ہونے والے ثواب پر مشتمل تھا۔

اس کے بعد شیخ عنایت اللہ جوہر اصلاحیؔ صاحب ناظم معھد السلام التعلیمی،باڑھ سمیلا دربھنگہ کا خطاب ہوا، آپ نے پردے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور خواتین کو باحجاب رہنے کی نصیحت کی، کیونکہ اسی میں ان کی عفت و عصمت اور عزت کی حفاظت ممکن ہے۔آپ نے کہا کہ عورتوں کو گھریلو ذمہ داریوں کا مکلف بنایا گیا ہے، اسی لیے انہیں اپنی ذمے داریوں کو باپردہ رہ کر انجام دینے کی سعی کرنی چاہیے، جبکہ مردوں کو گھروں سے باہر کی ذمے داریاں دی گئی ہیں، تاکہ وہ شرح صدر کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی کر سکیں۔آپ نے مغربی طرز معاشرت اور اصول زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ثقافت میں برہنگی روز افزوں بڑھتی جا رہی ہے جس سے مسلم خواتین بھی متاثر ہوتی نظر آ رہی ہیں، لہذا انہیں اس طرز حیات سے خود کو باہر نکالنا چاہیے اور اسلامی اقدار حیات اور آداب معاشرت کی روشنی میں اپنا سفر حیات طے کرنا چاہیے۔دوران خطاب آپ نے گاہے بہ گاہے مترنم اسلوب کو اپنانے کی کوشش کی اور نصوص و متون کی روشنی میں اپنی گفتگو کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔آپ نے عورتوں کے حدود اربعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی حد اور دائرے میں رہنا چاہیے اور شریعت نے ان کے لیے جو حدود متعین کیے ہیں ان کا خاطر خواہ خیال رکھنا چاہیے۔

آپ کے پرکشش اسلوب پر عوام الناس بھی گوش بر آواز رہے اور اس طرح آپ کی پر تاثیر تقریر سے خواتین میں ایک طرح کی بیداری محسوس کی گئی۔اس کے بعد ناصحانہ کلمات پر مبنی شیخ ہاشم فیضیؔ ناظم ضلعی جمعیت اہل حدیث مغربی چمپارن کی گفتگو ہوئی، آپ نے خصوصیت کے ساتھ دعوت دین کی اہمیت پر زور دی اور ہر ہفتے خواتین کے لیے پروگرام کے انعقاد پر ابھارا، تاکہ ان کے اندر دینی بیداری پیدا ہو اور وہ دین کی بنیادی اور اساسی معلومات سے آشنا ہو سکیں۔

اس کے بعد اس بزم کے ہر دلعزیز خطیب، میرے ہم سبق ساتھی اور جامعہ امام ابن تیمیہ کے قابل رشک پروردہ شیخ نیاز احمد تیمی المدنیؔ کا خطاب ہوا جو پرکشش اسلوب کا حامل تھا۔ سب سے پہلے آپ نے دینی مجلس کی اہمیت کو لوگوں کے دلوں میں جاگزیں کیا اور منتشر لوگوں کو اپنے خطاب کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی، اس کے بعد سود کے موضوع پر ایک جامع خطاب فرمایا۔آپ نے اپنے ترنم آمیز اور سحر انگیز خطاب میں لوگوں کو سود کی قباحت و شناعت سے آگاہ کیا، دلائل و شواہد اور براہین کی روشنی میں اس کی حرمت کو ثابت کرتے ہوئے لوگوں کو اس سے بچنے کی نصیحت کی،آپ نے دوران خطاب ان لوگوں کی بھی سرزنش کی جو سود کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کے لیے سود کی راہ ہموار کرتے ہیں۔انہیں سود لینے پر ابھارتے ہیں، سودی لین دین میں ان کی مدد کرتے ہیں، خواہ گواہ کی شکل میں ہو، یا ضامن کی شکل میں ہو، یا پھر کفیل کی شکل میں۔آپ نے مختلف واقعات و حکایات اور مثالوں کے ذریعے سودی کاروبار کو دشمن انسانیت بتلایا اور جم غفیر کو اس سے امکانی حد تک بچنے کی پر خلوص گزارش کی۔آپ کا اسلوب خطاب نہایت ہی اثر انگیز اور جاذب قلب تھا، سامعین بھی ہمہ تن متوجہ تھے، لوگوں پر ان کے خطاب کا سحر طاری تھا اور لوگوں کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوتا رہا، حتی کہ آپ نے اپنی گفتگو ختم کر دی۔

مذکورہ بالا خطبا کے علاوہ مقامی علما بھی موجود تھے جو حمد و نعت کے ذریعے سامعین کے اذہان و قلوب کو منور کرتے رہے اور مجلس میں نورانی ماحول پیدا کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بزم کے اخیر میں اس کانفرنس کے مہمان خصوصی شیخ رضوان ریاضی صاحب کے چند وجوہات کے پیش نظر موجود نہ ہونے کے سبب ان کے صوتی پیغامات کو لاؤڈ-اسپیکر کے توسط سے سنایا گیا، جس میں انہوں نے اپنی عدم موجودگی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے لوگوں کا اس بزم میں شریک ہونے پر شکریہ ادا کیا، آپ نے کہا کہ یہ دنیا چند روزہ ہے، فانی ہے، اس کا زوال یقینی ہے، لہذا اس کو حرز جاں بنانے کی بجائے فکر آخرت کو اپنے دلوں میں جاگزیں کرنے کی کوشش کریں، ایک دوسرے کی غیبت سے بچیں، ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے اور زیر کرنے کے سفلی جذبات سے خود کو بچائے رکھیں اور امن و آشتی کے ساتھ رہ کر بھیڑیہاری کی ترقی میں قابل رشک کردار ادا کریں،کیونکہ اس بستی کے لوگ محنتی ہیں، جفا کش ہیں، علم دوست اور ادب نواز ہیں،اور کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ہیں۔اور اس طرح شیخ شمس الحق فیضیؔ کے ناصحانہ کلمات اور دعائیہ جملوں کے ساتھ اس بزم کا اختتام عمل میں آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے