مکاتب ومدارس جدید طریقہ تدریس کو اپناتے ہوئے معیار تعلیم کو بلند کریں : ہاتف کلیم چودھری

ڈومریا گنج (سدھارتھ نگر): نونہال قوم و ملت کی صحت مند خطوط پر تعلیم وتربیت میں جدید وسائل و ذرائع کا استعمال کرنے، اور جدید منہج تدریس اَختیار کرنے، تعلیم کے لیے بہتر نظام الاوقات، معیاری ڈریس،نصاب میں ریاستی حکومت کے مضامین کی شمولیت، زکوٰۃ و صدقات کے علاوہ استحکام مدارس و مکاتب ، مناسب فیس کا تعین، اور مسلم بچوں کو غلط عقائد و افکار کے حامل تعلیم گاہوں سے بچانے وغیرہ جیسے امور پر غور و فکر کرنے کے لیے جامعہ مصباح العلوم چوکونیاں میں ذمہ داران مدارس و مکاتب کا ایک تعلیمی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس کا اغاز مولانا قمر الزماں قاسمی کی تذکیر بالقران سے ہوا جس میں اتحاد و اتفاق کی اہمیت اور اس کے ثمرات کو شر ح و بسط سے بیان کیا گیا۔ بعد ازاں افتتاحی گفتگو میں کارگزار ناظم جامعہ ہاتف کلیم چودھری نے ٹیچر ٹریننگ مدارس و مکاتب کے لیے سرکاری ضروری دستاویز کی تیاری ، منہج تدریس ، مناسب فیس کا تعین، اہم و بنیادی مسائل اور اس کا تدارک ، غیر اسلامی افکار و نظریات کے حامل اداروں ودانش گاہوں سے مسلم بچوں کے بچانے کی تدابیر، مدارس کے امتیازات اس کے اہداف ، نظام الاوقات ، درجات کی بہتری ذمہ داروں کی عدم توجہی اور اس کی اصلاح کی صورتوں ، مدارس و مکاتب کی فوری ضروریات اور ترقی کی مناسب طویل مدتی و قلیل مدتی منصوبہ بندی کی طرف ذمہ داران مکاتب و مدارس کی توجہ مبذول کرائی اور یہ بات پر زور انداز میں کہی کہ ہمیں آخرت کی جواب دہی کے احساس اور نئی نسل کو اسلامی افکار و نظریات سے لیس کرکے ملک و ملت کی صحت مند تعمیر کے لیے فکر مند ہونا چاہیے اور اس پر سنجیدہ غور فکر کرکےمناسب لائحہ عمل بناکر اسے عمل میں لانا چاہیے۔ اگر ایسا ہوا تو یقینا ایک مدت کے بعد ہم ایک انقلابی اور خوشگوار تبدیلی کا مشاہدہ کریں گے۔ اس موقع پر جملہ ذمہ داران مکاتب مدارس کی ایک لمبی نشست ہوئی جس میں یہ طے پایا کہ تمام ہی مسائل کا تدارک طریقہ استدراج پر منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جائے گا سر دست یہ طے پایا کہ رواں تعلیمی سال میں ٹیچر ٹریننگ منعقد کیا جائے اور ذمہ داران مدارس و مکاتب کی ایک نشست ہونے کے ساتھ ساتھ حسب ضرورت و حسب موقع بین المدارس مقابلے کا انعقاد کیا جائے۔

اس تعلیمی اجلاس میں فیض القران بیواں چوراہا سے ابرار اللہ مدرسہ، مدرسہ عربیہ اتحاد المسلمین ببھنی معافی سے مولانا محمد بشیر ندوی ، مدرسہ جامعہ للبنات الاسلامیہ، کمہریاں پچھم سے مولانا سراج اللہ قاسمی، مدرسہ ضیاء الاسلام موتی گنج سے محمد غانم، مدرسہ اسلامیہ تعلیم الدین بڑھیا بھولا ناتھ سے فخر الدین قاسمی، مدرسہ فیض عام السلفیہ پکری سے سراج احمد سلفی جامعہ قاسم العلوم ریواں مشہور سے ڈاکٹر عبدالرؤف حمیدی، مدرسہ نور العلوم السلفیہ اہرا ڈی سے نیاز احمد ریاضی انجمن عربیہ تعلیم اسلام مالی منہا سے مقصود احمد مدرسہ سلفییہ دارلعلوم کھرگولا سے عبدالغنی، مدرسہ عربیہ ضیاء العلوم پپرا رام لالسے مولانامحمد شیث سلفی، مدرسہ جامعۃالتوحید سے مولانامحمود الحسن ریاضی، مدرسہ مفتاح العلوم ٹکریا سے ظہیر رحمانی، مدرسہ الہدایہ مہو خورد سے حافظ محمد مصطفی، درسگاہ جامع العلوم سنہٹی سے حافظ نہال احمد کے علاوہ قرب و جوار کے تقریبا ساٹھ مدارس و مکاتب کے ذمہ داران و اساتذہ نے شرکت کی۔

تمام مہمانوں کا صدر جامعہ مصباح العلوم چوکونیاں محمد شریف فلاحی نے والہانہ استقبال کیا اور بعض سوالات کا جواب دیتے ہوئے آئندہ بھی باہمی تعاون سے تعلیم و تربیت کے کاز کو آگے بڑھانے کی گزارش کی ۔ دعا کے ذریعے پروگرام کا اختتام ہوا۔ پروگرام کو کامیاب میں حافظ مستقیم احمد ، ظفر احمد فلاحی ، ماسٹر توقیر عالم، مولانا احمد علی فلاحی ، قاری مشتاق احمد اور مولانا عبدالرؤف فلاحی نے نمایاں رول ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے