رفیع نعمانى مہراجگنج یوپی

 

مُحبّت کا دیا کرتی سدا پیغام اُردو ہے

جو دل کو موہ لیتی ہے وہی گلفام اُردو ہے

دلاری ہے ادیبوں، شاعروں، نغمہ نگاروں کی

سبھی اہلِ سخن کے واسطے انعام اُردو ہے

لہو سے اپنے غالب نے مُزیّن کردیا اِس کو

ہر اک میخوار کى خاطرچھلکتا جام اُردو ہے

یہ ہے آزاد ، تفتہ، شیفتہ کے درد کا درماں

لٹاتى انجمن میں پیار صبح وشام اُردو ہے

سنوارا ہے اِسے اقبال ،حالى اور شبلى نے

فدا کاروں کو اپنے دے رہی اکرام اُردو ہے

رہى شانہ بشانہ ملک کو آزاد کرنے میں

وطن کے واسطے قرباں ہوئی ہر گام اُردو ہے

کوئی اُردو اگربولےتولب سے پھول جھڑتے ہیں

مہذّب کےلیے تہذیب، فیضِ عام اُردو ہے

رفیع ہے دھوم دنیا میں جدھر بھی دیکھئے اکثر

کسى بھی حال میں ہوتى نہیں ناکام اُردو ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے