سنت کبیر نگر (رفیع نعمانی) 17/نومبر :

ملک کے مشہور شاعر جناب ڈاکٹر عرشی بستوی کے اعزاز میں مولانا مجیب بستوی کے دولت کدہ پر دفتر انجمن افکار ادب سمریاواں بازار میں 17/نومبر بروز جمعہ ایک ادبی شعری نشست منعقد ہوئی ۔عبد اللہ مجیب نے بارگاہ رسالت میں نذرانۂ عقیدت پیش کرکے نشست کا آغاز کیا ۔مجیب بستوی نے مہمان شاعر اور زینت مجلس عرشی کے متعلق فرمایا کہ عرشی بستوی صاحب ملک بھر میں اپنے کلام سے پہچانے جاتے ہیں ملک کے بڑے بڑے کل ہند مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں ان کا کلام ملک کے معیاری اخبار ورسائل میں شائع ہوتا رہتا ہے ۔اس نشست کے کچھ منتخب اشعار قارئین کی نذر ہیں ۔

دیش میں برپا ہے پھر ہنگامۂ شر چار سو

لوٹ لی ہے شر پسندیدوں نے وطن کی آبرو

آج مہنگا ہے ہراک سودا سر بازار دیکھ

ہے نگاہوں میں اگر سستا تو انساں کا لہو

 (مجیب بستوی)

کبھی تلاش سکوں ہے کبھی سکوں سے گریز

بدلتی رہتی ہے سرخی مرے فسانے کی

جہان فانی سے رشتے کو استوار نہ کر

سوا خدا کے کسی پر بھی اعتبار نہ کر

(عرشی بستوی)

ساری دنیا مجھے ویران نظر آتی ہے

ماں مری جب بھی پریشان نظر آتی ہے

(اسعد بستوی)

دھرتی کراہتی ہے گناہوں کے بوجھ سے

ہر شخص کہہ رہا ہے کہ میں بے گناہ ہوں

(گھائل بستوی)

تیرگی میں آج کا ڈوبا ہوا یہ دور ہے

اب اجالے کی ضرورت ہر جگہ فی الفور ہے

(رفیع نعمانی مہراجگنج )

ان کے علاوہ عارف ندوی لطفی بستوی وغیرہ نے بھی کلام پیش کیا۔

اخیر میں مگہر کے مشہور عالم دین مولانا محمد احمد قاسمی ابن مولانا زاہد القاسمی مرحوم مگہری کی یاد میں دعائیہ مجلس ہوئی جس میں مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی گئی مرحوم بڑے نیک اور دیندار تھے حیدرآباد دکن کے ایک مسجد میں امامت کرتے تھے پسماندگان میں تین لڑکی اور ایک لڑکا ہے اللہ تعالی خیر کا معاملہ فرمائے نشست میں کافی تعداد میں سامعین موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے