محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
موبائل :9141815923
۱۔ توقعات
فرزند AIکے ٹیٹرھے کام سے نمٹ رہاتھااور والد محترم قوم کی بے راہ روی سے نبرد آزماتھے۔ ایک بیٹا اور ایک باپ کی اتنی سی کہانی تھی۔ ایک دن باپ بیٹا گھر کے لان میں بیٹھے اپنے اپنے میدان میں ہورہی سرگرمیوں پرفتح وشکست کاذکر کررہے تھے۔ فرزند نے کہا’’ابو!مصنوعی ذہانت (AI)جیسی ایجاد انسان پرفتح پانے کی ایک ناکام سعی ہے ۔ مجھے امید ہے کہ انسان خود اس مصنوعی مخلوق پرہمیشہ فتح یاب رہے گا۔کیوں کہ کوئی بھی مخلوق اپنے خالق کو شکست نہیں دے سکتی‘‘
بیٹے کی مثبت بات سن کر والداچھل پڑے ، انھوں نے کہا’’بیٹا!توقعات ہی سے زندگی ہے۔ جیسی توقع رکھوگے ویساہی ہوگا‘‘پھرانھوں نے ایک گہری سانس لی اور کہا’’میں انسانوں کے درمیان جاتاہوں ، انھیں دیکھتااوران کی مجبوریاں سمجھنے کی کوشش کرتاہوں ، لیکن میں اس انسان کی درندگی کے باوجود اس سے مایوس نہیں ہوں ۔ مجھے یہ سمجھ میں آتاہے کہ رب جوچاہتاہے وہی ہوتاہے اورربِ کریم اپنی مخلوق کے حق میں غلط نہیں سوچتا۔ عین ممکن ہے کہ انسان سدھر جائے۔اسلام کے بڑے بڑے مخالف اسلام کے تائیدی بن جائیں ‘‘
بیٹے نے والد کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا’’ابو! آپ کی باتیں دل کولگتی ہیں ، آپ واقعی سچ کہہ رہے ہیں، دیکھنا یہ دنیا ایک دن اسلام کوقبول کرلے گی اور امن وامان کا دوردورہ شروع ہوگا ‘‘
کچن روم سے سے سلیمہ بیگم کہہ رہی تھیں۔’’ناشتہ لگادیاگیا ہے ، فوراً دونوں ناشتہ پربیٹھ جائیں ‘‘ناشتہ کرنے کیلئے دونوں باپ بیٹا اٹھ گئے ۔
۲۔ ملاقاتِ شام
اس نے کہاتھا’’شام کوملتے ہیں ‘‘
وہ شام کبھی نہیں آئی۔ تب سے شام کاوعدہ بہت کھلتاہے۔ شب کاوعدہ کرلیتاہوں لیکن شام کانہیں۔ کوئی ایسے چھوڑ کرچلاجاتاہے کیا؟شام کو دوستسے ملنے آنے کے بجائے اپنی زندگی ہی کی شام کربیٹھے۔
۳۔ بے مزا نہ ہوا
بلال کاکہناتھاکہ عورتیں گالیاں نہیں دیتیں ۔ صرف مرد ہی گالی بکتے ہیںلیکن جب ریڈلائٹ ائریا پہنچ کرعورتوں کی گالیاں سنیں تو بلال نے واجد اختر سے کہا’’یار، حیرت ہے کہ عورتیں بھی گالیاں دیتی ہیں ‘‘
واجد اختر ہنس پڑا۔اور پھر پوچھا’’گالیاں سن کر کیسالگ رہاہے تجھے ؟‘‘بلال نے شرماتے ہوئے کہا’’یار عورتیں گالیاں دیتی ہوئیں واقعی اچھی لگتی ہیں ‘‘
وہ دن ہے اور آ ج کادِن ، بلال کو ’’گالی پسند‘‘کے نام سے یاد کیاجاتاہے۔ جس کاوہ برابھی نہیں مانتا۔
۴۔ تری زلف
شاعرصاحب کی روح پرواز کرچکی تھی۔ جنہیں عالمی مشاعرہ پڑھنا تھا ، ان کو پروردگار نے اپنے پاس بلالیاتھا۔ کیاعجب کہ عالم برزخ میں کوئی مشاعرہ ہورہاہو اوراس میں یہ شاعرموصوف مہمان خصوصی کی حیثیت سے طلب کرلئے گئے ہوں ۔ اس لئے ان کاوہاں جاناضروری ٹہرا۔ اوروہ چلے گئے ۔ ویسے کوئی صاحب کہہ رہے تھے جس وقت شاعر صاحب نے دنیا سے کوچ کیاتو ان کی زبان پر یہ مصرع تھا ۔ ع۔
کون جیتاہے تری زلف کے سرہونے تک
۵۔ ٹولہ
رشوت خوروالد کی کمائی میں سے اس کوبھی حصہ ملاتھا۔ ا س حصہ کو لے کر اس نے اپنے لئے ایک گھر اور کاروبارکیلئے اعلیٰ کوالٹی کی ایک فیکٹری لگوائی تھی۔ساتھ ہی ساتھ وہ ایک مذہبی جماعت میں سرگرم بھی تھا۔ جوانی سے جب ادھیڑ عمر کو پہنچاتو معلوم ہواکہ مذہبی جماعت کے عہدوں ہی نہیں رقومات میں بھی بڑی گڑبڑدیکھنے کوملی ہے۔ ایک معصوم چہرا مولانا تو کروڑوں روپئے جائیداد کے مالک ہیں۔
اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ایک اجتماع میں معصوم چہرا مولانا سے ملاقات ہو ئی اورکسی پرانے مسئلہ پر تلخ کلامی بڑھی تو اس نے پوچھ لیاکہ’’مسٹر ! میں نے تو میرے کرپٹ فادر کی کمائی پر اپناکاروبارکھڑا کیاہے ، آ پ کس طرح کروڑپتی بن گئے ؟ضرور آپ نے جماعت کے وسائل کو استعمال کیاہوگا؟‘‘
آوازیں اونچی ہوئیں تو لوگ بیچ بچاؤکیلئے دوڑ پڑے۔ اِن دِنوں دونوں کے درمیان بات چیت بند ہے۔ تاہم اسکوافسوس ہے کہ مذہبی جماعت مادہ پرستوں ہی نہیں لوٹ مار کرنے والوں کاٹولہ بنتی جارہی ہے۔
