بیدر۔ 23؍نومبر (محمدیوسف رحیم بیدری): میلور ایک زمانے میں بیدر کے مضافات میں شامل تھا۔ لیکن اب بیدر شہر میں میلورکاشمار ہونے لگاہے۔ یہاں تک کہ میلور قدیم تک بھی بنیادی سہولیات جیسے نل ، لائٹ، نالیاں وغیرہ پہنچ چکی ہیں۔ افسوس صرف اس بات کا ہے کہ نئے میلور کے گوئل لے آؤٹ تا چدری روڈ پر برقی کھمبے نصب نہیں کئے گئے ہیں۔ اس وجہ سے پوراعلاقہ اندھیرے میں ڈوبا رہتاہے۔ اوپر ی میلور کی مندر کے پاس واقع چوراہے پر ہائی ماسٹ لگا کر چکاچوند کردیاگیاہے۔ لیکن مغرب کی طرف واقع گوئل لے آؤٹ کا راستہ پوری طرح اندھیرے میںہے ۔ حالاں کہ اس کے دائیں اور بائیں جانب آبادی ہی نہیں اسکول ، (شری رام بہادر مہابلیشور گرکل ہائرپرائمری اسکول، ڈاکٹر ٹونتد سدلنگا ہائی اسکول ،) ہاسٹل ( شاہین کالج اور ہاسٹل) ، گوئل لے آؤٹ کے علاوہ سوریہ لے آؤٹ بھی موجود ہے۔ مسجد ہے لیکن برقی کھمبے ندار دہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سڑک پر ڈیوائڈر بھی ہے۔ اس کے باوجود یہاں برقی کھمبے اور برقی کا نہ ہونا معنی خیز ہے۔ شہر کے ارباب مجاز کو اس طرف فوری توجہ دینا چاہیے، یہاں کے رہائشی برقی پول کی تنصیب کامطالبہ کررہے ہیں۔ گوئل لے آؤٹ ختم ہونے کے بعد چدری کے روحی سرکل جاتے ہوئے راستے میں وزیر بلدی نظم ونسق جناب رحیم خان کافارم ہاؤز بھی ہے جہاں کی دوسری سڑک پر برقی کے کھمبے نصب ہیں اور لائٹ کابھی اہتمام ہے۔ پھر کیوں ہماراعلاقہ برقی کھمبوں اور لائٹ سے محروم کردیاگیا ہے؟ یہ سوال گوئل لے آؤٹ کے رہائشیوں کاہے۔ انھوں نے اس علاقے کے اندھیرے کو دیکھنے آنے کے لئے انصاف پسند عوام کو بھی دعوت دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے