فلاح انسانیت ایجوکیشنل ٹرسٹ اٹوا بازار سدھارتھ نگر یوپی کے زیر اہتمام مدھواپور کلاں مصرولیا میں دینی و دعوتی پروگرام کا انعقاد
اٹوا(سدھارتھ نگر): انسانی جسم میں دل کی بہت ہی اہمیت ہے اگر وہ اس میں اللہ کی یاد بستی ہے تو اس سے دل منور رہتا ہے جبکہ اگر انسان برائیاں کرتا ہے تو دل میں پژمردگی چھاجاتی ہے جیسے جیسے اس کی برائیوں میں اضافہ ہوتا اس کا دل بھی سیاہ ہوتا رہتا ہے حتی پورا دل ہی سیاہ ہو جاتا ہے پھر ایک دن آتا ہے کہ دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتا ہے سمجھنے بوجھنے کی صلاحیت ہی کھو دیتا ہے لیکن جب بندہ اللہ سے لو لگاتا ہے اس سے روتا گڑگڑاتا ہے تو اللہ اس کے دل کو دھل دیتا ہے۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ جب انسان دینی کاموں، نماز ،روزہ، تلاوت کلام پاک سے دوری اختیار کرے اور حسد کرنے لگے اور برائیوں میں زیادہ جی لگنے لگے تو سمجھو ہمارا دل بیمار ہوچکا ہے اس کے علاج کی ضرورت ہے۔ اور جب دل بگڑتا ہے تو سب بگڑ جاتا ہے اس لئے ہر شخص پر یہ لازم ہے کہ اپنے قلب کی نگرا نی کرے۔
بعدہ فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن ریانی نوری حفظہ اللہ نے مسلمانوں کی زبوں حالی پر اچھی گفتگو کی اور بتایا کہ دنیا میں سب سے زیادہ پریشان مسلمان ہی ہیں اور یہ سب ان کے اعمال کا ہی نتیجہ ہے۔جب تک بنی اسرائیل اللہ کے فرامین کی اتباع کرتے رہے تو اللہ انھیں آسمان سے من و سلوی بھیجتا رہا مگر یہی جب قوم اللہ کی نافرمان ہوئی تو ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور آج حالت یہ کہ ہم ہر نماز میں اللہ سے پناہ مانگتے ہوئے کہتے ہیں ٫٫غیرا لمغضوب علیھم ،، کہ اللہ اس رستے پے نہ چلا جن پر تیرا غضب نازل ہوا ہے۔ مسلمانوں پے تباہی آنے کے اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ ہم امر بالمعروف والنہی عن المنکر سے دور ہوگئے۔غرض یہ کہ ہماری زبوں حالی ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔ سچ کسی شاعر نے کہا ہے:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا۔
بعدہ فضیلۃ الشیخ عبدالحسیب سنابلی حفظہ اللہ نے توبہ و استغفار کے عنوان پر ایک پر مغز خطاب کیا آپ نے اپنے خطاب میں سامعین کو توبہ و استغفار کی تعریف و فضیلت سے روشناس کرایا اور ترغیب دلائی کہ ہمیں ہمیشہ اللہ سے توبہ و استغفار کرتے رہنا چاہیے کیونکہ توبہ کرنے والوں سے اللہ بہت خوش ہوتا ہے، ان سے عذاب اٹھا لیتا ہے، آل اولاد میں برکت دیتا ہے، قحط سالی کو دور کردیتا ہے اور مرنے کے بعد انھیں جنت نصیب کرتا ہے۔ہمارے نبی دن بھر میں ستر سے زیادہ سو سو مرتبہ استغفار کرتھے تھے، آپ تو معصوم عن الخطا تھے پھر بھی توبہ و اِستغفار کثرت سے کرتے تھے اور ہم سب تو سراپا خطا کار تھے اسی لئے ہمیں اللہ سے زیادہ سے زیادہ استغفار کرنا چاہیے۔
یہ پروگرام 23 نومبر بروز جمعرات کو مغرب سے عشاء تک چلا پروگرام کی صدارت ایم پی اے سے تشریف لائے فضیلۃ الشیخ عبیداللہ عمری حفظہ اللہ نے انجام دیا حافظ عبدالرحمن ریانی نے قرآن کی تلاوت پیش کی۔ پروگرام میں سعی محمد، انعام الدین، حاتم علی، قطب اللہ ، عبداللطیف ، جمال احمد، علیم ماسٹر ، علی حسن وغیرہ مسجد میں موجود رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے