سدھارتھ نگر: گزشتہ دنوں مشہور و معروف شاعر ڈاکٹر علامہ اقبال کی یوم پیدائش کے موقع پر منائے جانے والے یوم اردو کے سلسلے میں ایک شعری نشست ڈاکٹر جاوید کمال کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔ جس میں علامہ اقبال کے مشہور ترانہ ‘سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا’ پر بات کرتے ہوئے ان کی دیگر غزلوں اور نظموں پر تبصرہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں ایک شعری نشست کا انعقاد بھی کیا گیا ۔جس میں مقامی شاعروں اور کویوں نے حصہ لیا۔

نشست کا آ غاز ڈاکٹر نوشاد اعظمی نے اپنی غزل کے اس شعر سے کیا ۔

” تجھے خود سے جدا کر کے میں زندہ رہ نہیں سکتا ،

 تجھے دل سے بھلا کر کے میں زندہ رہ نہیں سکتا "۔

سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کوی سنگھ شیل جھلک نے کہا

"یادوں کا سلسلہ امڑتا چلا گیا،

جتنا میں ڈوبا ان میں ابھرتا چلا گیا”.

شیو ساگر سحر کا کہنا تھا:

” دل پہ سکہ جما نہیں پایا ،

 اتنی ہمت جٹا نہیں پایا "

سوشل ورکر دھیرج گپتا نے اپنی ایک نظم سے سب کو متاثر کیا:

” تم میری پریمیکا ہو، کلپنا نہیں، جو تمہیں پریبھاشت کر سکوں، تم گیت ہو، تم پریت ہو، من میت ہو، سنگیت ہو، تم ہار کے بھی جیت ہو، تم بنا ریت میں میت ہو”۔

اسی سلسلے میں ڈاکٹر فضل الرحمن شاد نے کہا:

” آج کہتے ہو فلاں شخص بہت اچھا ہے,

 مر گیا ہوں تو مری یاد تجھے آتی ہے”۔

ایڈوکیٹ شاداب شبیری نے کہا:

” بیوہ کے حسرتیں ہیں یتیموں کے خواب میں،

 شاداب مفلسوں کا نوالہ غزل میں ہے”.

ڈاکٹر جاوید کمال یوں گویا ہوئے:

” بکھرے بکھرے ہوئے خوابوں کو سجایا جائے,

 یہی دستور وفا ہے تو نبھایا جائے”۔

 نشست کی صدارت کرتے ہوئے اسسٹنٹ سیل ٹیکس کمشنر علیم الدین نے اردو کی اہمیت پر اپنے تاثرات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کسی ایک قوم کی زبان نہیں ہے۔ یہ پورے ہندوستان کی زبان ہے۔ اردو کی خاصیت رہی ہے کہ وہ سنسکرت اور دیگر زبانوں کے اچھے الفاظ کو ملا کر بنائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ برسوں پہلے سے اردو شاعری میں مسلم شاعروں کے ساتھ غیر مسلم شاعروں کا بھی دبدبہ رہا ہے۔ جنہیں لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ مہمان خصوصی کے طور پر جناب اشرف عالم موجود رہے۔

نشست کی نظامت ڈاکٹر جاوید کمال نے کی۔ آخر میں انہوں نے سبھی شاعروں اور کویوں کا شکریہ ادا کیا اور ہر ماہ ہونے والی اس شعری نشست کو اگلے ماہ تک کے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے