وفاق المداس الاسلامیہ کا سہ روزہ تربیتی بین المدارس اجتماع اختتام پذیر
پٹنہ٩/ دسمبر (پریس ریلیز): امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ کے وفاق المداس کا بین المدارس اجتماع کا باوقار اختتام ہوگیا ، آخری نشست کی صدارت مولانا نظام الدین اسامہ ندوی صدر مدرس دارالملت رام پور سگھری بلبھدر پور مظفر پور نے فرمائ ، انہوں نے اپنے خطاب میں اجتماع میں تشریف لانے والے اساتذہ ، محاضرین ، طلبہ اور مدرسہ کی انتظامیہ کا اس پروگرام کے انعقاد میں تعاون کے لئے شکریہ ادا کیا، انہوں نے وفاق المداس کے ناظم مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کو یقین دلایا کہ اس قسم کے پروگرام کی میزبانی کے لئے دارالملت اپنے وسائل کے ساتھ ہمیشہ حاضر رہے گا اور مدرسہ کے سکریٹری جناب امتیاز احمد کریمی رکن بہار پبلک سروس کمیشن کی اجازت اور تعاون سے کام کو آگے بڑھایا جاۓ گا ، آخری نشست کی نظامت کرتے ہوۓ ناظم وفاق نے بھی اس سہ روزہ تربیتی پروگرام کے کامیاب انعقاد پر دلی مسرت کا اظہار کیا اور مدرسہ کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا ، اس آخری نشست میں تین محاضرین تشریف لاءے، قیمتی خطاب اور عملی تدریس کے نمونے پیش کیے ، مولانا عبد الوالی منانی استاذ مدرسہ امدادیہ اشرفیہ طیب نگر راجوپٹی سیتا مڑھی نے قرآن کریم کی عملی تدریس اور اذان واقامت کے سنت طریقوں پر روشنی ڈالی اور اسے کرکے دکھایا اور مدارس کے اساتذہ سے بھی اس کی تکرار کرائ ، امارت شرعیہ کے قاضئ شریعت مولانا قاضی انظار عالم نے فرمایاکہ صلاحیت کے ساتھ صالحیت طلبہ میں پیدا کرنے کے لیے ان کی اخلاقی تربیت ضروری ہے ، انہوں نے ان امور کی طرف بھی توجہ دلائی ، جس پر تربیت کی جانی چاہیے ، محاضرہ انتہائی قیمتی اور قرآن وحدیث سے ماخوذ تھا ، مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی مفتی امارت شرعیہ نے فرمایاکہ لوگ فرائض کو بھاری سمجھتے ہیں اور سراجی کو مشکل قرار دیتے ہیں،حالانکہ یہ درس نظامی کی دوچار جگہوں کو چھوڑ کر انتہائی آسان کتاب ہے، طلبہ کے ذہن میں یہ بات بیٹھانی چاہیے، انہوں نے وھائٹ بورڈ کی مدد سے عملی تدریس کے طریقے بھی بتاۓ، امارت شرعیہ کے شعبۂ تعلیم کے مفتش مولانا منت اللہ حیدری نے اس تربیتی نظام کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی، انہوں نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا کہ وہ بڑی مستعدی سے اس کام میں مشغول رہے، مولانا قاضی انظار عالم کی رقت آمیز دعا پر یہ نششت اختتام پذیر ہوئ۔
اس تربیتی اجتماع میں کشن گنج ، ویشالی ، مظفر پور ، دربھنگہ مدھوبنی ، مشرقی چمپارن ، سیتا مڑھی اور سارن کے اٹھاسی(٨٨) اساتذہ کرام نے شرکت کیا، مستفید ہونے والے طلبہ کی تعداد پینتالیس (٤٥) رہی، تربیت دینے والوں میں حضرت امیر شریعت ، نائب امیر شریعت ، قاضی، نائب قاضی، نائب ناظم اور مفتی امارت شرعیہ کے علاوہ مولانا اختر امام عادل ، مفتی خالد حسین نیموی، دارالعلوم دیوبند کے مؤقر استاذ مولانا مفتی اشرف عباس قاسمی ، جامعہ رحمانی موگیر کے مولانا مفتی نورالدین ندوی، ازہری، مولانا عبد العلیم رحمانی ندوی ازہری، دار العلوم الاسلامیہ کے مولانا مفتی شکیل احمد قاسمی ، مولانا حماد کریمی ندوی مسقط عمان ، مولانا خالد ضیاء ندوی سابق ڈائریکٹر جامعۃ الامام بخاری علی گڈھ، قاری دلنواز صاحب دلکش، مولانا عبد الوالی منانی کے اسماء گرامی خاص طور پر قابل ذکر ہیں، پروگرام کو کامیاب کرنے میں بہار بپلک سروس کمیشن کے رکن جناب امتیاز احمد کریمی ، دارالملت کے صدر مدرس مولانا نظام الدین اسامہ ندوی ، امارت شرعیہ کے مولانا منت اللہ حیدری ، سعید کریمی، مدرسہ کے اساتذہ ، حافظ عتیق الرحمٰن ، ماسٹر ثاقب ندیم، مولانا الطاف ندوی ، طلبہ عزیز میں محمد عمیر ، محمد تابش، عبد الصمد ، محمد جامی وغیرہ پیش پیش رہے، شرکاء کا احساس تھا کہ اس قسم کے پروگرام کی افادیت کو دیکھتے ہوۓ اسے پابندی سے ہر سال کرانا چاہیے۔
ناظم وفاق المداس مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے فرمایا کہ اگلا تربیتی اجتماع ان شاءاللہ حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم العالیہ کی اجازت اور تاریخ مقررکرنےپر مدرسہ مظفریہ آسنسول مفربی بنگال میں ان شاءاللہ ہوگا، ہماری کوشش ہوگی کہ اس نظام کو مزید مفید بنا سکیں۔
