اسد انصاری 221 مارکس حاصل کر کے اپنے والدین کریمین اور اساتذہ کرام کے ساتھ اسکول و سماج و معاشرے کا بھی نام روشن کیا۔

بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری): کہتے ہیں کہ بچوں کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوا کرتی ہے اور یہیں سے وہ اپنے حصول علم کی شروعات کرتے ہیں۔ یقینا اس درسگاہ کے اصول وضابطے اگر عمدہ ہوں تو پھر اس کی بھٹی میں پکنے والی شئی بھی تپ کر کندن ضرور بن جائے گی۔ اس کی ایک قوی اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں مادری زبان میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کے بہترین مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔آج جس قدر آپ کامیاب اور ناکام افراد کی کہانیاں اور قصے پڑھتے و سنتے ہیں اس کے پیچھے ان کی اپنی محنت و مشقت کے ساتھ ساتھ اس کے اول ترین درسگاہ کی خوبیوں اور خامیوں کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔ مذہب اسلام نے بھی اپنے ماننے والوں کو حصول علم کی بڑی تاکید کی ہے۔ قرآن کریم کی پہلی آیت کریمہ ہی میں جس قدر پْرکشش پیرائے میں قوم مسلم کی توجہ علمی خاک چھاننے کی طرف مبذول کرائی گئی ہے وہ صرف اور صرف مذہب اسلام ہی کا خاصہ ہے۔ اب چاہے وہ دینی علم ہو یا دنیاوی علم، ہاں! دینی علم کی تحصیل اس قدر فرض ہے کہ آپ اپنے عقائد و نظریات کی حفاظت کر سکیں۔
بارہ بنکی کے قصبہ شہاب پور کے باشندہ محمد احمد انصاری(سی اے) کے بیٹے کپڑے کے بڑے صنعت کار حاجی فخرالدین انصاری کے پوتے محمد اسد انصاری سی اے فائنل کا امتحان پاس کرکے سی اے بن گئے ہے، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے کامیابی کی یہ اونچائی اپنی شادی سے قبل ہی فتح کر لی ہے۔مشکل امتحان سمجھے جانے والے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا کے ایگزام میں اسد احمد نے کامیابی حاصل کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ اسد انصاری نے 400 میں سے 221مارکس حاصل کئے ہے، مذکورہ بالا اطلاع سماجوادی پارٹی کے پردیش سکریٹر مولانا محمد اسلم قاسمی نے دی ہے۔ اسد کی کامیابی پر خاندان سمیت پورے ضلع میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لوگ جوق درجوق مبارکباد پیش کررہے ہیں، اور مٹھائیاں تقسیم کی جارہی ہیں۔ اس شاندار کامیابی پر اطمینان ومسرت کا اظہارکرتے ہوئے اسد انصاری نے کہا کہ الحمد للہ !اس معاملے میں مجھے ہمیشہ اپنے گھر والوں خصوصاً دادا جان حاجی فخر الدین،والد محمد احمد، والدہ،استاد سمیت خاندان کے دیگر افراد کا مکمل تعاون حاصل رہا۔ان لوگوں نے ہمیشہ حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی۔ محمد اسد انصاری نے مزید کہا کہ کسی بھی امتحان میں کامیابی کیلئے جہدمسلسل اولین شرط ہے۔ جس طرح اعلیٰ سرکاری عہدوں پر پہنچنے کیلئے سول سروس امتحان ملک کا مشکل ترین امتحان ہے اسی طرح نجی شعبوں میں سی اے کو مشکل کورس مانا جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں دسویں، بارہویں کے مارکس یا گریجویشن کے گریڈسے زیادہ فائونڈیشن، انٹر اور فائنل امتحانات کے پرچوں میں مارکس کی اہمیت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں سی اے کی مانگ آج بھی بہت زیادہ ہے جبکہ ان کی تعداد بہت کم ہے اس کے علاوہ بیرون ملک میں ہندوستان سے کامیاب ہونے والے سی اے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس شعبہ میں وسیع مواقع ہیں اور ہمارے طلبہ کو خواہ کسی بھی میڈیم کے ہوں اگر ان کا رجحان کامرس شعبہ کا ہو تو ضرور چارٹرڈ اکائونٹنٹسی کا رخ کرنا چاہیے۔ سی اے کورس میں کامیابی کی ایک ہی شرط ہے کہ طالب علم سخت محنت کو اپنا وطیرہ بنالے۔ اس موقع پر ان کے اہل خانہ کے علاوہ قصبہ کی معزز شخصیت نے مبارک باد پیش کرتے ہوئے مزید کامیابی کی دعائیں دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے