منااکھیلی ۔ 11؍جنوری (محمد عبدالقدیر لشکری): چٹگوپہ تعلقہ کے نرنہ واڑی دیہات میں کل 10؍جنوری کی سہ پہر 3:30اور 4بجے کے درمیان ملپا راجگیری(48سالہ) کسان کااسی کے کھیت میں کئی افراد نے مل کر مبینہ طورپر قتل کردیا۔جس کی ایف آئی آردرج کرتے ہوئے جملہ 10افراد کے نام شامل کئے گئے ہیں ۔ ملزم نمبر ایک لنگ راج بسونپا نمبورے نرنہ واڑی ، نمبر 2جگدیش کاشی ناتھ نمبورے ، نمبر 3ویرشٹی ننگ راج نمبورے ، دھنراج نمبورے ، پون شنکر نمبورے ، چنپا شنکر نمبورے، کاشی ناتھ ویرشٹی نمبورے ، شنکر ویرشٹی نمبورے ، ستیش کاشی ناتھ نمبورے اور کاشی ناتھ مندکنلی کا نام شامل ہے ۔ پولیس ذرائع کے بموجب 6افراد گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ لیکن باقی افراد کی گرفتاری تک ملپاراجگیری کی نعش حاصل نہ کرنے اور نہ دفنانے کافیصلہ کرتے ہوئے آج منااکھیلی کے امبیڈکر سرکل پر مقتول کے بھائیوںاور رشتہ داروں نے دھرنا دیا۔ جس کو دیکھتے ہوئے رکن اسمبلی بیدر جنوب ڈاکٹرشیلندربیلداڑے اور دھنگر سماج کے قائد اور سابق وزیر بنڈپاقاسم پور نے بھی دھرنے میں حصہ لیا۔ بعدازاں بنڈپاقاسم پورنے تیقن دیاکہ پولیس نے اگر24گھنٹہ میں باقی افراد کو گرفتار نہیںکیاتو وہ وزیراعلیٰ سے شکایت کریں گے۔ رکن اسمبلی ڈاکٹر شیلندر بیلداڑے نے کہا کہ جن خاطی ہیں انہیں سزاملنی چاہیے ، بھلے ان کی ذات پات کچھ بھی ہو۔ میری ہمدردی مقتول کے گھرانے کے ساتھ ہے۔ ان دونوں قائدین کے تیقنات کو دیکھتے ہوئے دھرنااحتجاج ختم کردیاگیا۔
واضح رہے کہ اس قتل کی تفتیش کے لئے ایڈیشنل ایس پی مہیش میگھناور، ڈی ایس پی ہمناآبادنیامے گوڈا ، چٹگوپہ سرکل مہیش گوڈا پاٹل ، ڈی ایس پی بیدرچندرکانت پجاری ، پی ایس آئی منااکھیلی اورچٹگوپہ بالترتیب بسواراج چٹ کوٹے اور پاشومیاں کے علاوہ خود ایس پی بیدر جناب چن بسونا ایس ایل بھی جائے حادثہ اور دھرنے کے مقام پر آئے تھے۔واضح رہے کہ مقتول ملپاراجگیری کے پسماندگان میں اہلیہ، 3لڑکے اور ایک لڑکی شامل ہیں ۔ تمام بچے نابالغ ہیں۔ اس بات کی اطلاع عبدالقدیرلشکری نے دی ہے۔
