مفتی ہمایوں اقبال ندوی 

نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 

وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری

 

پچھلے تین مہینے سے صہیونی افواج کی غزہ پر بمباری، عام شہریوں کی گرفتاری، دکان ومکان کی مسماری اور ہسپتال کی تباہی کی خبریں مستقل موصول ہو رہی ہیں لیکن یہ خبر پہلی بار مل رہی ہے کہ فلسطین کے قبرستان پر بھی اسرائیلی کارروائی شروع ہوگئی ہے۔ اس وقت جبکہ غزہ شہر سنسان پڑا ہے، انسانی آبادی ملبہ کے نیچے دبی ہوئی ہے، شہر بھی قبرستان کا منظر پیش کررہا ہے۔ اس سے بھی درندوں کو سکون نہیں ملا تو اب وہاں کے قبرستان کو زیر و زبر کرنے کی تیاری ہے۔ بقول شاعر؛

آباد کرکے شہر خموشاں ہرچار سو

کس کھوج میں ہے تیغ ستمگر لگی ہوئی

یہ بات تین دن پہلے کی ہے۔ غزہ شہر کے مشرق میں واقع "التفاح” نامی محلے کے قبرستان کو اسرائیلی فوج نے بلڈوز سے تہس نہس کر دیا ہے، شہداءکی لاشیں نکال کران کے باقیات کو زمین پر پھیلا دیا ہے، انہیں روندا گیا ہے، گیارہ سو قبریں اکھیڑ دی گئی ہیں۔ پچاس شہداء کی لاشیں غائب بتائی جارہی ہیں۔

گورستان کے اس منظر نے پوری دنیا کے لوگوں میں بے چینی پیدا کردی ہے، اس تکلیف دہ منظر نے مردہ دلوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، پوری انسانی برادری شرمسار ہوئی ہے، سننے والوں کو یہ واقعہ افسانہ محسوس ہوتا ہے لیکن انسانیت کے لئے ایک سوالیہ نشان قائم ہوگیا ہے کہ کیا ایک انسان اس حد کوبھی پار کرسکتا ہے؟ کیا کسی مذہب میں اس حد تک گزرنے کی بھی گنجائش ملتی ہے؟ اس کا جواب ہر حال میں نفی میں آئے گا۔

مذہب اسلام میں انسان کی تکریم کا حکم ہے، قرآن میں ارشاد باری تعالٰی ہے کہ؛ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے (قرآن) اس لئے انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے، خواہ وہ کسی برادری اور کسی مذہب سے وابستہ ہوں، بحیثیت انسان اس کے حقوق ایک مسلمان پر لازم ہیں، ان کا خیال کرنا ہی مسلمانی ہے۔ خانہ کعبہ جو خدا کا اس دھرتی پر پہلا گھر ہے، اپنی نمازوں میں مسلمان جس کی جانب رخ کرتے ہیں، ایک انسان کی عظمت اس گھر سے بڑی چیز ہے۔انسان زندگی میں بھی انسان ہے ،اور مرنے کے بعد بھی وہ عزت و تکریم کا حقدار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں انسانی لاش کی بے حرمتی سے منع فرمایا ہے۔ جنگ کے میدان میں بھی اس کی اسلام میں قطعا اجازت نہیں ہے کہ دشمنوں کی لاش کی بے حرمتی کی جائے، بخاری شریف کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار اور لاش کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ مذہب اسلام کیا کوئی بھی مذہب اس بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتا ہے اور نہ عالمی جنگی قانون میں اس کی گنجائش ہے۔ باوجود اس کے اسرائیل اس حد تک صرف اور صرف اسی لئے اتر گیا ہے کہ فلسطینیوں کے جد و جہد کو کمزور کر دہے اور ان کے عزم و استقلال کو متزلزل کردے۔درحقیقت اس کوشش میں اسرائیل ناکام ونامراد ہوچکا ہے۔اس کی بڑی دلیل فلسطین سے متعلق موجودہ مقامی و عالمی حالات ہیں جو اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ فلسطینیوں کے عزائم مزید پہاڑ جیسے مضبوط ہوتے چلے جا ریے ہیں، اب قبرستان پر شہداء کی لاشوں کے ساتھ صہیونی توہین سے یہ گھبرانے والے نہیں ہیں۔ اب تو ان کا جد و جہد اور صبر بھی اسلام کی دعوت بن گیا ہے اور اس کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہورہی ہے۔ ہفتہ عشرہ کے اندر ایک وقیع تعداد نے یہ سب دیکھ کر اسلام قبول کیا ہے ۔ڈیوڈ گولڈ نامی پادری جنہوں نے پینتالیس سال مسلسل چرچ کی خدمت کی ہے اب وہ اسلام کے لیے وقف ہو چکے ہیں اور اپنا نیا اسلامی نام عبدالرحمن تجویز کر چکے ہیں، اسٹریلیا کی تیس خواتین نے ایک ساتھ اسلام قبول کیا ہے، جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اسلام میں کس وجہ سے داخل ہوئی ہیں تو انہوں نے یہ بتلایا ہے کہ "فلسطینی مسلمانوں کے جد وجہد نے ان کے دلوں کو چھو لیا جس کے باعث انہوں نے اسلام قبول کیا ہے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے مسائل انہیں روزانہ کی بنیاد پر رلاتے ہیں”۔

ان واقعات کی روشنی میں یہ برملا کہا جا سکتا ہے کہ یہ قبرستان کی کاروائی بھی دعوت اسلام کا بڑا ذریعہ سبب بنے گی، ان شاء اللہ العزیز۔

قران کریم میں ارشاد ربانی ہے؛ دنیاوی ساز و سامان پر فخر نے تم کو اخرت سے غافل کیے رکھا ہے یہاں تک کہ تم قبرستان پہنچ جاتے ہو، ہرگز نہیں تم کو بہت جلد قبر میں جاتے ہی معلوم ہو جائے گا، پھر دوبارہ تم کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ تمہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا، اب تو تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے، پھر تم اس کو اس طرح دیکھو گے جو تم کو پختہ یقین ہوجائے گا، پھر اس روز تم سے نعمت کی پوچھ ہوگی( قرآن )

آج غزہ کو قبرستان بنانے والے اور وہاں کے قبرستان پر بلڈوزر چلانے والے صہیونیوں کا انجام بھی دوزخ ہے۔

انہیں اپنے جنگی ساز و سامان اور بلڈوزر پر بڑا نشہ ہے، ان سے تعمیر کا کام نہ لیکر یہ تخریب کاری میں لگے ہیں، اب اس ناپاک عزائم کو لیکر قبرستان بھی پہونچ گئے ہیں۔بار بار اسرائیل کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ وہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی نہ کرے باوجود اس کے وہ اس کا بار بار مرتکب ہو رہا ہے، اقوام متحدہ کی ہدایت بھی اس کی سمجھ میں نہیں آتی ہے، جس طرح قرآن ایسے لوگوں کو بار بار خبردار کرتا ہے کہ اس حد تک زیادتی کا مطلب اخرت کی تباہی ہے، عنقریب وہ اپنے انجام کو پہونچ جائیں گے۔پھر اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیں گے کہ ظلم کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے