مسلم کمیونٹی کے وفد نے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سے مل کر گورنر کو مخاطب ایک میمورنڈم پیش کیا۔

(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: ضلع میں پولیس اہلکار بغیر کسی حکم کے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے زبردستی مائک کا ہار ن ہٹانے کی کارروائی کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں میں خوف اور غصہ کا ماحول ہے۔

آج صبح 11 بجے مسلم رہنماؤں اور لیڈروں کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کر مسلمانوں کے ساتھ پولیس انتظامیہ کے امتیازی رویہ کے متعلق گورنر کو مخاطب ایک چار نکاتی میمورنڈم پیش کیا۔ جس میں مسلم کمیونٹی کے لوگوں کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات 11.01.2024 کی شام تقریباً 7 بجے پولیس اہلکاروں کی طرف سے ہیڈ کوارٹر پر واقع بیشتر علاقوں کی مساجد میں زبردستی مائیک کا ہارن ہٹانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں میں خوف اور غصے کا ماحول ہے۔ سی او صدر سے ٹیلی فون پر اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک ایسا کوئی حکم نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ ایسے میں پولیس انتظامیہ کا مسلمانوں کو نشانہ بنانا اور ہراساں کرنا اور ان کے ساتھ امتیازی رویہ اور دوہری پالیسی اپنانا انتہائی قابل مذمت ہے۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ 24 گھنٹوں میں پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی کے لیے مساجد میں اوسطاً 10-15 منٹ کے مائیک کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر روز سیاسی پروگراموں، مختلف تہواروں، شادی کے پروگراموں اور دیگر جلسہ جلسوں میں لوگ کئی کئی گھنٹے کان فاڑو ڈی جے اور ہارن و ساؤنڈ کا استعمال کرتے ہیں۔ وہاں پولیس انتظامیہ مکمل طور پر خاموش تماشائی نظر آتی ہے اور اپنے فرائض سے لاتعلق نظر آتی ہے۔ وہاں پولیس محکمہ فعال ہونے کے بجائے مکمل طور پر غیر فعال ہو جاتا ہے۔
پولیس انتظامیہ پورے ضلع میں صرف مسلمانوں کے تہواروں پر یکطرفہ قانونی کارروائی کرکے مسلم کمیونیٹی کو ہراساں کرتی ہے جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ میمورنڈم میں یہ بھی کہا گیا کہ ضلع کی کئی مساجد کی کمیٹیوں نے مائک کے استعمال کی اجازت کے لیے آن لائن درخواستیں دی ہیں، سالہا سال سے ان پر تادم تحریر کوئی رپورٹ نہیں لگائی گئی ہے پھر بھی پولس انتظامیہ مسلمانوں کو آخر کیوں ہراساں کر رہی ہے یہ ایک سنجیدہ تحقیقات کا معاملہ ہے۔

آخر میں مسلم کمیونیٹی کے وفد نے پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ برائے مہربانی صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے روکا جائے تاکہ معاشرے میں سماجی ناانصافی کی فضا پروان نہ چڑھے اور پولیس انتظامیہ بلا تفریق کے کام کرے۔ ہر شہری ضلع کا خواہ کسی بھی مذہب، فرقے یا ذات کا ہو سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔
ضلع مجسٹریٹ نے مسلم کمیونٹی کے وفد کو یقین دلایا کہ کسی کے ساتھ کسی بھی طرح کی ناانصافی نہیں کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بھی مسلم کمیونٹی کے وفد کو یقین دلایا کہ مائیک ہارن ہٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر آواز کو کم کیا جائے تو کسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
میمورنڈم دینے والوں میں جامع مسجد کے امام سید سہیل احمد، کھجوریا کے امام حافظ قطب الدین، بیلسڑ کے امام مولانا مہرالدین، مریلا کے امام مولانا کلام الدین، مولانا فرید احمد، رمضان علی، عبدالمبین منصوری، احسان احمد، ایس پی لیڈر خورشید احمد خان، کانگریس لیڈر صادق احمد، ایس پی لیڈر رمضان علی، محمد نسیم خان، محمد ظفر، چری پردھان، محمد حسینی، محمد احمد، محمد اسلام، مہتاب حیدر رضوی، کامیاب ایڈووکیٹ، شاداب احمد ایڈوکیٹ، ساجد علی، جاوید، عمران وغیرہ کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگ موجود رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے