محمدیوسف رحیم بیدری، کرناٹک
سوامی وویکانند کایوم ِ پیدائش آج 12؍جنوری کو منایاجاتاہے۔ وہ ایک ایسے درویش رہے جس نے ایک عالم کومتاثر کیاتھااور آج بھی متاثر کرنے میں ان کی تحریروں کاکوئی ثانی نہیں ہے۔
سوامی وویکانند کانام نریندر ناتھ دت تھا۔ 12؍جنوری 1863 کو کولکتہ میںپیدا ہوئے۔ اور ان کاانتقال 4؍جولائی 1902 کو 39سال کی کم عمر ی میں ہاوڑہ میں واقع بیلور مٹھ میں ہوا۔ ہندومذہب کے کائستھ طبقہ سے ان کاتعلق تھا۔ ان کے والد وشوناتھ دت کولکتہ ہائی کورٹ کے معروف وکیل تھے۔ ان کے والد کی خواہش تھی کہ ’’بیٹا انگریزی پڑھ کر بڑا آدمی بنے ‘‘۔پریزیڈنسی یونیورسٹی کولکتہ اور اسکاٹش چرچ کالج کولکتہ سے انھوں نے اپنی تعلیم حاصل کی ۔انہیں بنگلہ اور انگریزی دوزبانیں آتی تھیں۔ وہ ایک راہب ، فلسفی ، مصنف ، شاعر ، معلم ، اورگلوکار تھے۔25سال کی عمرکو پہنچنے تک انھوں نے پوری دنیا کے تقریباً تمام نظریات ، فلسفے اور مذہبی کتابوں کامطالعہ کرلیاتھا۔
سوامی وویکانند نے1897 میں کولکتہ میں رام کرشنا مشن کی بنیاد رکھی۔ اس کے فوری بعد 1898 کو دریائے گنگا کے کنارے بیلور میں رام کرشنامٹھ قائم کیا۔جو آج کولکتہ کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ دونوں ادارے روحانیت کی ترقی کے لئے آج بھی کام کرتے نظر آتے ہیں۔وویکانند کافلسفہ ویدانت کی تجدید سے متعلق تھا۔ عالمی بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے وہ زبردست حامی تھے لیکن دلچسپ تماشایہ ہے کہ سوامی وویکانندکوآرایس ایس اور ان کی فکر کی تنظیموں نے ہائی جیک کرلیا۔اسی لئے سوامی وویکانند سے مسلمان دوردوررہنا پسند کرتے ہیں۔ مسلمانوں کاسوادِ اعظم ان کے خیالات اور افکارسے آج بھی ناواقف ہے۔
کہاجاتاہے کہ سوامی وویکانند نے 30؍سال کی عمر میں شکاگو ، امریکہ میں عالمی مذاہب کانفرنس میں ہندومذہب کی نمائندگی کی اور اسے عالم گیر پہچان دلوائی ۔گویا ہندومذہب کو اس سے قبل دنیا نہیں جانتی تھی۔ جب کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان اور ہندومذہب سے دنیااور عالم عرب پہلے سے واقف تھابلکہ آپسی کاروبار بھی تھے۔ بہرحال 11؍ستمبر (اہم تاریخ یعنی نائن الیون) 1893 کوسوامی وویکانند نے امریکہ کی پارلیمنٹ آف ریلیجنز میں ایک تاریخی تقریر کی۔ رابند رناتھ ٹیگور نے ایک بار کہاتھاکہ اگر آپ ہندوستان کوجاننا چاہتے ہیں تو وویکانند کو پڑھیں ان میں آپ کو ہر چیز مثبت ملے گی ،
منفی کچھ نہیں۔
وویکانند کاکہناہے ’’ سچائی میں آفاقیت پوشیدہ ہے ۔اسے کسی ملک یا نسل یا فردتک محدود نہیں کیاجاسکتا۔ دنیا کے تمام مذاہب مختلف زبانوں اور مختلف طریقوں سے سچائی ہی کااظہار کرتے ہیں(بحوالہ Vedanta : Voice of Freedom صفحہ 17)
سوامی وویکانند کہتے ہیں ’’میرے ہندوستان اٹھو، تمہاری بے پناہ قوت کہاں ہے ؟تمہاری لافانی روح میں سے کمزوری اور توہم پرستی نکال پھینکیں اور نئے ہندوستان کی تعمیر کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ۔ (بحوالہ Enlightenment through Humanity and Sprituality ، صفحہ 229)
اوپر ہم نے ذکر کیاہے کہ 1893 کو شکاگو میں منعقد عالمی پارلیمنٹ آف ریلیجنز میں ایک تاریخی تقریر کی تھی۔ اس میں سوامی جی نے کہاتھا’’مدد کرواور نہ لڑو، استحالہ ہونہ کی تباہی ، ہم آہنگی اورامن ہونہ کہ اختلاف (بحوالہ The Complete Works of Swami Vivekananda ، صفحہ 13) غورکریں کہ غزہ پربمباری اور انسانوں جانوں کے مسلسل ضائع ہونے کو سوامی وویکانند کے موجودہ ماننے والوں نے ان کی تعلیمات کے برخلاف جنگی عمل کوپسند کیااور اسرائیل کی تائید کرتے رہے۔ تاریخ میں بارہا ایساہواہے کہ مامورین نے اپنے امراء کی بات نہیں سنی اورانسانیت ہی نہیں خود اپنی تباہی کوبھی دعوت دی ۔
سوامی وویکانند کی باتیں ایک خدا ، مذہب ، اخلاقیات ، خواتین ،اورمراقبہ سے متعلق ہیں۔ نیا ہندوستان ان کانعرہ تھا۔ اور وہ ایک خدا کی بنیاد پر ویدوں کی بتائی گئی تعلیمات کے مطابق اس نئے ہندوستان کودنیا کے سامنے لانا چاہتے تھے۔جس کاچرچا آج بھی ہواکرتاہے۔ جمیل احمد جائسی نے 1977 کو سوامی وویکانند کے لئے یہ شعر کنیاکماری میں کہے تھے ، جہاں تین سمندر بحر عرب، بحر ہند اور خلیج بنگال ملتے ہیں۔
جہاں سوامی وویکانند کاسنگی مجسمہ موجودہے۔ اشعار ملاحظہ کیجئے ؎
اے خدا !اِن مضطرب موجوں کو ہے کس کی تلاش
کس کے قدموں میں یہ سر رکھنے کو یوں بے تاب ہیں
کون سی ہستی انہیں دیوانہ رکھتی دم بدم
ہے تڑپ کس کی دلوں میں کس لئے سیماب ہیں
وہ وویکانند وہ فکروعمل کا بادشاہ
عزم ہو اس کااگر بحرین بھی پایاب ہیں
سوامی وویکانند کی شہرت پورے ہندوستان میں ہے۔ ان کے کام اور ان کے مشن سے متعلق کتابیں انگریزی،ہندی ، بنگالی، کنڑا، ٹمل ، ملیالم، اور تیلگو میں مل جاتی ہیں۔ ان کے چند مشہور ومعروف اقوال کچھ اس طرح ہیں۔
(۱) تمام مرد پاک ہیں۔ تمام مرد اچھے ہیں۔ان پر کچھ اعتراضات کیے جا سکتے ہیں، اور آپ پوچھتے ہیں کہ کچھ مرد وحشی کیوں ہوتے ہیں؟ جس آدمی کو آپ وحشی کہتے ہیں وہ مٹی اور خاک میں موجود ہیرے کی طرح ہے ۔ خاک کو صاف کریں اور وہ ہیرا ہے، بالکل ایسا پاک ہے جیسے اس پر کبھی خاک ہی نہ پڑی ہو، اور ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہر ذی روح ایک بڑا ہیراہے۔
(۲) ذمہ داریاں دینے سے کمزور ترین آدمی مضبوط اور جاہل آدمی ہوشیار ہو جائے گا۔
(۳) مٹھی بھر آدمی دنیا کو اس کے قلابے سے اتار سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ سوچ، قول اور عمل میں متحد ہوں۔ اس یقین کو کبھی نہ بھولیں۔
(۴)مدد کے خیال کا خلاصہ وہ ہے جسے ہم خدا کہتے ہیں۔ مدد کے تمام تصورات کا مجموعہ خدا ہے۔
(۵)سائنس اور مذہب دونوں غلامی سے نکالنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔البتہ مذہب زیادہ قدیم ہے،وہ اخلاقیات کو ایک اہم نکتہ بناتا ہے اور سائنس ایسا نہیں کرتا۔
(۶)ہر انسان اپنا اپنا آئیڈیل بنائے اور اس کی تکمیل کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ دوسروں کے نظریات کو اپنانے کے مقابلے میں یہ ترقی کا ایک یقینی زینہ ہے۔
سوامی وویکانند کے یومِ پیدائش 12جنوری کو حکومت ہند نیشنل یوتھ ڈے (یوم ِ قومی نوجوان )کے طورپر منانے کااعلان 1984 میں کیا۔یہ اس وجہ سے کیاگیاکہ اقوام متحدہ نے 1984 کو ’’نوجوانوں کاعالمی سال‘‘ قرار دیاتھا جس کے پیش نظر حکومت ہند نے اسی سال یعنی 1984 ہی کو ’’یومِ قومی نوجوان‘‘ منانے کافیصلہ کیا۔
