ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری
میری انکھوں نے یہ منظر پہلی بار دیکھا ہے کہ ضلع ارریہ کی بزرگ ترین شخصیت جناب قاری سلیمان صاحب کا جنازہ ان کے ابائی گاؤں "بانسباڑی” میں ذاتی دروازے پر رکھا ہوا ہے، اب جنازہ گاہ پر جانے کی تیاری ہے مگر کواڑی بازار کے لوگ ہچکیاں لے لے کر رو رہے ہیں، تدفین کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر رہے ہیں اور جنازے کی بھیک مانگ رہے ہیں کہ ہمیں قاری صاحب کا جنازہ عنایت کر دیجئے، ہم ان کی قبر اپنے یہاں بنانا چاہتے ہیں۔ افہام و تفہیم کے بعد کسی طرح یہ لوگ رضا مند ہوئے، پھر جنازہ گاہ پر صف بندی کے بعد اس بات کی وضاحت کی گئی کہ آپ لوگوں کی محبت بجا ہے مگر مشورے میں خیر ہے، گزشتہ کل یہ مشورہ ہو چکا ہے کہ قاری سلیمان صاحب کے استاد جناب حضرت مولانا صوفی کمالی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو اسی قبرستان میں مدفون ہیں، لہذا شاگرد کی بھی تدفین اسی قبرستان میں ہونی ہے، اس بات پر اتفاق بھی ہوچکا ہے، اب اس کے خلاف اور اس میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ چنانچہ جنازے کی نماز پڑھا دی گئی، اور اس طرح ایک شاگرد مرنے کے بعد بھی اپنے استاد کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔
آخر گل اپنی صرف در میکدہ ہوئی
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
قاری سلیمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالی نے لمبی عمرہ عطا فرمائی تھی۔ محض 20/سال کی عمر میں سند فراغت حاصل ہوئی، اس کے بعد اپنی زندگی کے مکمل 63/سال درس و تدریس اور لوگوں کی اصلاح و تربیت کے لیے آپ نے وقف کر دی، اپنے استاد گرامی قدر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نیپال سے متصل علاقہ کرسا کانٹا اور سکٹی بلاک کی جہالت کے خاتمہ کے لیے تاحیات کمر بستہ رہے ۔ کواڑی بازار میں دینی تعلیم کے فروغ کے لئے مدرسہ مفتاح العلوم کی بنیاد ڈالی اور وہاں کی جہالت کی خاتمہ کے لیے تقریبا 45 /سال تک آپ نے محنت کی ہے۔باری تعالٰی شرف قبولیت سے نوازے اور ان خدمات جلیلہ کو آپ کے حق میں صدقہ جاریہ بنادے، آمین۔
بدعات و خرافات کے قلع قمع میں قاری صاحب کی کاوشیں آب زر سے لکھنے لائق ہیں ۔پیر و فقیر کا مذکورہ علاقے میں بڑا زور تھا، لوگ تعویذ گنڈہے کے نام پر شرک و بدعات میں گرفتار اور ان جعلی پیر و فقیر کا شکار ہو جایا کرتے تھے ۔ حضرت قاری صاحب نے ایسے لوگوں کی دکانیں بند کرائی ہیں،نیز اس کا صحیح متبادل بھی فراہم کیا ہے، قران کریم کی آیات سے دعا و درود کا وہاں مزاج بنایا ہے، لوگوں کی نفع رسانی اور بھلائی کی خاطر خود کو بھی پیش کیا ہے۔ جمعہ کا دن ہفتے کی عید ہے اور مدارس اسلامیہ میں یہ چھٹی کا دن ہے باوجود اس کے قاری سلیمان صاحب نے کبھی جمعہ کی بھی چھٹی نہیں لی ہے،بلکہ یہ دن لوگوں کی ملاقات کے لئے آپ نے خاص کر رکھا تھا، قرب و جوار اور دور دراز سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد مدرسے میں حاضر ہوتی، باری باری قاری صاحب سب کے مسائل سنتے اور قران سے ان کا حل بتلاتے ، یہی وجہ ہے کہ اج جب کہ یہ مشورہ ہو چکا ہے کہ قاری سلیمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تدفین ان کے آبائی گاؤں میں ہونی ہے باوجود اس کے کواڑی بازار کے لوگ حضرت کے معمول کے مطابق جمعہ کے دن انہیں مدرسہ لے جانا چاہتے ہیں اور موصوف کی چھٹی منظور نہیں کررہے ہیں۔ بقول شاعر:
کتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
یہ درحقیقت قاری سلیمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی محبت ہے جسے خدا نے لوگوں کے دلوں میں پیوست فرمادی ہے،قرآن کریم میں ارشاد باری تعالٰی ہے؛
"بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے بھلے کام کیے خدا ان کے لیے ایک محبت پیدا کر دے گا”( سورہ مریم )
حدیث قدسی میں ہے کہ جب اللہ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو فرشتہ جبریل سے کہتا ہے کہ "مجھے فلاں بندے سے محبت ہے،تم بھی اس سے محبت کرو، وہ دوسرے فرشتوں سے کہتے ہیں، پھر اوپر کے آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو یہانتک کہ اس کی محبت دریا کی مچھلیوں اور سوراخ کی چوٹیوں تک سرایت کر جاتی ہے "(صحیحین)
اج کھلی انکھوں سے ہم اس چیز کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالٰی نے قاری صاحب مرحوم کے اعمال صالحہ کو قبولیت بخشی ہے اور ان کی محبت زمین پر پھیلا دی ہے ، اتنا بڑا مجمع اس بات کی شہادت دے رہا ہے، میرے علم کے مطابق بانسباڑی گاؤں کا یہ پہلا جنازہ ہے جس میں انسانوں کا اتنا بڑا سیلاب آیا ہوا ہے، جدھر دیکھئے لوگ ہی لوگ نظر ارہے ہیں، یہاں کی تمام مساجد آج بھر چکی ہیں، صحن پر،سڑک پر ہر جگہ نماز ہورہی ہے، مساجد میں جگہ نہیں ہونے پر آج جمعہ کی نماز لوگوں نے جاکر عیدگاہ کے میدان میں پڑھی ہے۔ سخت ٹھنڈک ہے، باوجود اس کے مرحوم کی محبت و عقیدت میں سبھی کشاں کشاں چلے آرہے ہیں، محسوس یہ ہوتا ہے کہ موسم بھی اس ولی کامل کے انتقال پر ملال پر سوگوار ہے اور یہ بھی صدمہ میں اپنا مزاج بدل لیا ہے۔ ضلع ارریہ ہی نہیں بلکہ خطہ سیمانچل اور نیپال سے بھی لوگ جنازہ میں شریک ہیں، واقعی جناب قاری سلیمان صاحب کے انتقال سے ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے، دور دور تک سناٹا ہے، ایک بزرگ ترین شخصیت سے ہماری یہ بڑی ابادی خالی ہو گئی ہے، باری تعالی قاری صاحب کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کا نعم البدل نصیب کرے،آمین یارب العالمین ۔
