غزل

جنوری 23, 2024

میرؔبیدری

اُس سے ہی لوگ جاکر ملے
جونہیں آئے باہر ملے

آرزو شب کی دیکھاکئے
چاند کوئی ہو شب بھرملے

اک زمانہ ہے شاکی ذرا
دوست سارے ہی لوفرملے

ہم کہ واحد الہٰ کے ہیں بھکت
رام آئیں کہ شنکرملے

دیکھئے ! چل پڑے راستے
کار کو جب بھی شوفرملے

حشر برپا ہواہے خدا
آج شاید وہ دلبر ملے

ہوں پرے ایسی خواہش سے میرؔ
داد مجھ کو مکرّر ملے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے