اٹوا(سدھارتھ نگر): بزم اربابِ ادب اٹوا کی 85ویں ماہانہ طرحی ادبی نشست جناب ڈاکٹر ایاز اعظمی صاحب کی صدارت اور جناب ارشد اقبال صاحب کی نظامت میں جمال ٹریڈرس پر منعقد ہوٸی جس میں قرب وجوار کے شعراء کرام نے شرکت کی جس میں بطور مہمانِ خصوصی جناب نسیم زاہد صاحب راماپوری شریک رہے، اور شب میں آن لاٸن طرحی مشاعرہ ہوا جس میں دور دراز کے شعرٕاء نے بھی اپنی طرحی غزلیں پیش کیں چنندہ اشعار اردو دوست، ادب نواز باذوق قارٸین کی نذر ہیں:

خوشی سے کیوں نہ جھومے تیرگی بغض و عداوت کی

ضیاء عشق و محبت کی اگر کم ہوتی جاتی ہے

نسیم زاہد

کسی کے شبنمی ہونٹوں سے نکلی گفتگو اکثر

دلِ مہجور کے زخموں پہ مرہم ہوتی جاتی ہے

ڈاکٹر ایاز اعظمی

ہمارے خون کی یہ برکتیں ہیں ظلِّ سبحانی

حکومت آپ کی جو اور محکم ہوتی جاتی ہے

جمال قدوسی

کسی کا خوف ہے یا مصلحت پیش نظر شمسی

فقیہِ شہر کی آواز مدَّھم ہوتی جاتی ہے

ہدایت اللہ خان شمسی

شبِ فرقت نےمجھ کو لے لیا آغوش میں اپنی

خوشی بھی دھیرے دھیرے غم میں مدغم ہوتی جاتی ہے

ہماری  پرمیزبانی یہ دنیا رشک کرتی تھی

مگر افسوس ہے اب وہ بہت کم ہوتی جاتی ہے

التجاحسین نورصدیقی

تمہاری لاابالی سے معالج فرق ہے اتنا

ہماری نبضِ ہستی خود ہی بےدم ہوتی جاتی ہے

جمیل چوکھڑاوی

خداکی عظمتوں سے غفلتوں کاہی نتیجہ ہے

جوگردن ہرکسی کےسامنےخم ہوتی جاتی ہے

سیدعزیزالرحمٰن عاجز

مٹادیتی ہے دنیاسے جہالت کی وہ تاریکی

ضیاباری اگرقرآں کی پیہم ہوتی جاتی ہے

جمال اجمل

کہاں بیوی کو شوہرکےلیےہنسناعبادت ہے

مگرافسوس شوہرپروہ برہم ہوتی جاتی ہے

عبدالرب جوہر

نظرہےمنتظردل مضطرب وہ کاش دکھ جاۓ

ہماری بزم کی بھی روشنی کم ہوتی جاتی ہے

عبدالمبین مبیں

اگرتعریف ہوتی ہے توبس منہ پرترےراہی

براٸی پیٹھ جاۓ تیری پیہم ہوتی جاتی ہے

رحمت علی راہی

ان کے علاوہ عبدالرقیب پردھان نے بھی کلام پڑھا،اس موقع پر عبدالرحیم، عبدالرحمٰن عباسی، عبداللہ ،سروج کمار،انوراگ شری واستو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے