خراج عقیدت ممتاز عالم دین معروف شاعر اسلام جناب مولانا ممتاز احمد سالک بستوی رحمہ اللہ

اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرام نزلہ ووسع مدخلہ ،،،،

غمزده: انصر نیپالی

آہ ! سالک زندگی اک حادثہ کا نام ہے

تیری موت ناگہاں سے ہر کوئی مغموم ہے

موت کا جو وقت ہے رونے سے بھی ٹلتا نہیں

” فإذا جاء اجلهم” قرآن میں مرقوم ہے

نوجوانو! پوچھ کر آتی نہیں وقت اجل

موت کیا آئی کہ سارا سلسلہ معدوم ہے

چھا گئی ہے "جامعۃ الاصلاح” میں باد خزاں

آج "غوری "کی فضا بھی کس قدر مسموم ہے

خدمت انسانیت سے زندگی معمور تھی

کہتے تھے خود غرضی کی عادت بہت مذموم ہے

ہر کسی سے مسکرا کر آپ ملتے تھے سدا

سچ ہے "سالک” دوست داری کا یہی مفہوم ہے

کون باتیں کرتا تھا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر

قابلِ رشک صداقت آپ سے موسوم ہے

فکروفن میں عزم و ہمت کی فراوانی رہی

اس لیے پوری حیات طیبہ منظوم ہے

 قبلۂ علم وہنر تھے نازش اردو ادب

ساری تخلیقات بھی بے باکی سے ملزوم ہے

یا الہی! بخش دے "سالک” کی تو ساری خطا

سن لے انصر کی صدا حرف دعا معصوم ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے