جماعت اسلامی ہند شہر لکھنؤ کی جانب سے خطاب عام
لکھنؤ: فرد معاشرہ کی ایک اکائی ہے، فرد صالح ہو تو خاندان صالح بنتا ہے۔ اگر خاندان صحیح راستہ پر گامزن ہے اس کے اندر صالحیت ہے تو خودبخود معاشرہ صالح اور ترقی پذیر ہوگا۔ اگر معاشرہ خوبیوں سے آراستہ ہوگا تو یقینا قوم و ملت بھی کامیاب ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار مولانا طاہر جمال نے کیا۔
جماعت اسلامی ہند شہر لکھنؤ کی جانب سے ’’معاشرتی تبدیلیوں کے تقاضے اور ہم، موجودہ حالات کے پس منظر میں‘‘ کے عنوان پر ہونے والے ماہانہ خطاب عام میں مولانا طاہر جمال جنرل سکریٹری حلقہ یوپی مشرق نے کہا کہ اگر فرد کے اندر کسی طرح کی کوئی حِس باقی نہ ہو، برائیوں سے نفرت نہ ہو تو گھروں کے اندر بھی شر داخل ہوگا، جس سے صرف وہ فرد ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ زوال پذیر ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو معاشرہ اور سماج حق کا طرفدار ہو، جس میں انسانوں کے حقوق محفوظ ہوں، انسانی مساوات کا قائل ہو، کوئی کسی کا حق نہ چھینتا ہو،انصاف کے یکساں مواقع سبھی کو میسر ہوں، تو صحیح معنوں میں ایسا معاشرہ اور سماج کامیابی کی طرف گامزن ہوگا۔ اگر ان صفات سے معاشرہ اور فرد عاری ہو تو اس کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ یقینا معاشرے کی کامیابی و ناکامی کا دارومدار افکار و نظریات پر ہی مبنی ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا ہدایت الہٰی پر مبنی ہونا بہت ضروری ہے۔
مولانا طاہر جمال نے کہا کہ اس وقت معاشرہ جس تیزی کے ساتھ تبدیلی کی طرف گامزن ہے اور ایک دوسرے سے دشمنی اور نفرت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ان حالات میں ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ہدایات الہٰی پر عمل پیرا ہوکر معاشرہ کی بہتری کی راہیں ہموار کریں۔دنیوی زندگی حقیقی معنوں میں ہماری کُل زندگی کا ایک مختصر حصہ ہے، ہمارا اصل مطمح نظر صرف اور صرف آخرت ہے۔ اس لیے تبدیلیوں اور آزمائشوں سے گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے کیوںکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام چیزیں اللہ کی مرضی سے رونما ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو بس ہماری جدوجہد دیکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں اہل ایمان کو ان کے عقیدہ سے پھیرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، چاہے وہ عقیدۂ توحید ہو، عقیدۂ رسالت ہو یا عقیدۂ آخرت ہو۔ ان حالات میں عقیدہ کی پختگی اور مضبوطی کی وجہ سے کسی طرح کی معاشرتی تبدیلی ہم پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ان بدلتے ہوئے حالات میں ہمیں ترجیحی طور پر جن امور پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے، ان میں عقیدہ کی اصلاح، تعلیم، معاش اور صفائی ستھرائی پر توجہ بے حد ضروری ہے۔
اس سے قبل مولانا عبید الرحمان ازہر نے سورۃ آل عمران کی آیات کا درس دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کا کمال یہ ہے کہ جہاں سے قرآن کو کھول کر پڑھا جائے وہاں سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے۔ موجودہ حالات میں سورۃ آل عمران کی یہ آیات ہماری رہنمائی فرماتی ہیں کہ صرف اللہ ہی ایسی ذات ہے جس سے ڈرنے کی ضرورت ہے، کسی اور طاقت سے نہیں۔ قرآن اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ وہی لوگ سربلند رہیں گے جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں اور حالات سے مایوس نہیں ہوتے ہیں۔ دین پر استقامت کی بدولت ہی اصل کامیابی ہے۔
مولانا عبید الرحمان ازہر نے کہا کہ قرآن ہمیں اس بات کی بھی تعلیم دیتا ہے کہ سخت حالات میں بھی ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو لوگوں کو دین پر بلاتی رہے اور اس کے برعکس کفر و ضلالت، گمراہی و بے راہ روی سے روکتی رہے۔ اسی بات کو قرآن میں معروف و منکر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ہر مسلمان کا یہی مشن ہونا چاہیے کہ وہ بھلائیوں کا فروغ دے اور برائیوں سے روکے تبھی ہمیں دین و دنیا کی کامیابی مل سکتی ہے۔
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر امجد سعید فلاحی نے کیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں مرد و خواتین شریک رہے۔
مذکورہ اطلاع جماعت اسلامی ہند، شہر لکھنؤ کے شعبۂ میڈیا نے جاری کردہ پریس ریلیز میں دی ہے۔
