بلوا سینگر، سنت کبیرنگر (پریس ریلیز): اسلام اور اس کی تعلیمات پر شک و شبہ میں پڑ جاتے ہیں اس لیے یہ حد درجہ لازم و ضروری ہے کہ اپنے بچوں کو بچپن ہی سے دینی تعلیم کی طرف رغبت دلائیں اسلامی تاریخ سے واقف کرائیں ضروری مسائل بتائیں تاکہ وہ دنیا کے ساتھ آخرت بھی سنوار سکیں آپ اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر آفیسر ضرور بنائیں دنیاوی تعلیم بیشک ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ دینی تعلیم کا ہونا بھی اشد ضروری ہے ایک چلن عوام میں یہ ہے کہ اگر بچہ زیادہ شرارت کرے تو کہتے ہیں مدرسہ میں داخل کرادو یا پڑھنے میں کمزور ہو تو اسے مدرسہ میں داخل کر دیتے ہیں جس سے دینی تعلیم کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک ایسا علم ہے جو شریر کو شریف بنا دیتا ہے  ایک اور بات یہ مشہور ہے کہ اگر ہم اپنے بچوں کو مولوی بنائیں گے تو وہ کھائیں گے کیا وغیرہ حالاں کہ اصل یہ ہے کہ آپ کسی بھی عالم دین کو نہیں دیکھیں گے کہ وہ فاقہ کشی کرنے پر مجبور ہے پیسوں کی تنگی ہوسکتی ہے لیکن وہ فاقہ کشی کرنے پر کبھی مجبور نہیں ہوتے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ رزق کا مالک اللہ تبارک و تعالیٰ ہے انسان کے مقدر میں جتنا رزق لکھا ہے اسے اتنا پہنچ کر ہی رہے گا اور پھر ایسا نہیں ہے کہ آپ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتے آپ دینی تعلیم حاصل کرنے ساتھ ڈاکٹر یا انجینئر بھی بن سکتے ہیں اور دنیا کی ہر وہ چیز کر سکتے ہیں جو ایک مسلمان کی شایان شان ہونی چاہیے  ہمارے اسلاف اسلام کی نظر سے دنیا دیکھتے تھے اس لیے ان کی دنیا و آخرت دونوں آباد تھی اور آج کے مسلمان دنیا کی نظر سے اسلام کو دیکھتے ہیں اس لیے ان کا دنیا و آخرت دونوں برباد ہے موجودہ دور میں والدین کو اپنے بچوں سے ایک شکایت یہ ہوتی ہے کہ ان کی بچے ان کے ساتھ اچھی طرح سے پیش نہیں آتے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے