ملک میں نئے نظام کے تحت مسجدوں ،مدارس اور مزارات پر بلڈوزر کلچر کو غالب کرنے کی کوشش!

سہارنپور( احمد رضا): پردہ نشین خواتین کو ہلدوانی ضلع انتظامیہ نے بنِ پھول پورا علاقہ میں مسلم افراد کی ہوئی جانی اور مالی تباہی کا زمہ دار مسلم مرد اور خواتین کو قرار دیتے ہوئے بچوں کے ساتھ ساتھ پردہ نشین خواتین کو بھی دنگے فساد کا ملزم قرار دیتے ہوئے اپنی سو چ اور نظریہ کو ملک کے عوام پر اعلانیہ طور سے ظاہر کر دیا ہے واضع رہے کہ ہریانہ ،راجستهان ، دہلی ، گجرات ، مہا راشٹر ، آسام ، مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ  کے بیشتر علاقوں میں مسلم افراد کے ساتھ یہی سو چ اور حكمت عملی کام کر رہی ہے خد کو مہذب اور سیکولر ثابت کرنے والے گروپ ایسی سنگین صورت حال پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں سنگین فوجداری مقدمات کی اذیتیں برداشت کر رہے ہیں مسلمان اور لٹ پٹ رہا ہے صرفِ اور صرفِ مسلم طبقہ! یہ سو فیصد حقیقت ہے کہ ملک بھر میں گزشتہ دس سال کے دوران مسلم طبقہ کے افراد نے اپنے ووٹ کی تقسیم کر نے کے ساتھ ساتھ آپسی مسلک اور سیاست دانوں کی میٹھی میٹھی باتوں میں آکر خد کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے نتیجہ سامنے ہے مدارس پر حملہ ، مساجد اور مزارات پر بلڈوزر وں کی یلغار عام ہو گئی ہے مسلم آبادی پر پوری پلاننگ سے کئے جانے والے ظلم و جبر کے حملہ اہل حق کو خون کے آنسو بہاتے پر مجبور کر رہے ہیں! عام رائے ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دوری اور رسول اکرم کی نصرت سے محروم ہو نے کے سبب جس قدر ذلت اور رسوائی کا شکار آج مسلمان بن رہے ہیں اتنی پستی کا شکار تو آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد سے آج تک خانہ بدوش لوگ بھی نہی بن پائے ہیں مسلم طبقہ مخبروں میں ،جھوٹ ،فریب اور خد غرضی میں گھٹنے گھٹنے دھنس گیا ہے دنیائے فانی کی چمک د ھمک کو ہی اپنا حاضر اور مستقبل تسلیم کرنے لگا ہے رب العالمین کی رحمتوں اور نعمتوں سے دور ہوکر بھی غمزدہ نہی ہو رہا ہے ، اس رسوائی کی وجہ صاف ہے کہ کلام اللہ سے دوری رکھنے کے علاوہ دنیا کی چمک د ھمک کو  سب سے مقدم سمجھنے کے تصور نے اس قوم کو بے حص اور گمراہ کر کے رکھ دیا ہے ایک سروے کے مطابق چہا ر سو آج یہ بڑی آبادی والی قوم اپنے گھروں کے ساتھ ساتھ اپنی مساجد اور مدارس کی حفاظت کرنے کی ہمت بھی گنوا بیٹھی ہے ووٹ اسکا حکومت غیر کی اور جنگ آزادی میں قربانیاں انکی عزت اور وقار غیر لوگوں کا آخر یہ حالات کیسے بن گئے ہیں اس جانب آج بھی ملی رہبروں اور علماء کرام کی نظر اس خطرناک صورت حال پر نہی پڑ رہی ہے؟ جنگ آزادی کے دوران جس قدر جانی اور مالی قربانیاں انگریزی فوج کے سامنے مسلم افراد نے پیش کی ہیں وہ وطن عزیز کی محبتِ کی لازوال مثال ہے اس حقیقت کو کبھی بھی بھلایا نہی جا سکتا ہے واضع ہو کہ 40 کروڑ مسلم قوم کے افراد کے لئے بھی وہی مساوات ، حق و حقوق کی آزادی ہمارے ملک کے صاف شفاف قابل احترام دستور ہند کے مطابق میسر ہے اسی سو چ و یقین کے ساتھ ملک کا کل مسلم طبقہ قانون کے تحت ہی اپنی زندگی بسر کرنے میں یقین رکھتا ہے کیونکہ یہ ملک ہمارا ہے ہمارے اکابرین ، علمائے کرام اور ہمارے بزرگوں نے ہی اپنا خون بہا کر اپنے ہندوستان کو آزاد کرایا ہے یہ بھی سچ ہے کہ مسلم طبقہ دنگا فساد سے بچ کر پر امن ماحول میں رہتے ہوئے زندگی گزر بسر کرنا چاہتا ہے مگر دیگر طبقہ کے افراد جب ایک خاص مقصد کے لئے اس معصوم طبقے کے لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے تو مخالفت ہونا ضروری ہے جیسے جیسے "شہید کی گئی بابری مسجد کے مقام پر آستھا کے نام پر  بنائے جا رہے رام مندر کے افتتاحی پروگرام” کی تاریخ قریب آرہی ہے ٹو دیکھا جا رہا ہے کہ اس کام سے ہندو شدت پسند گروپ میں حد سے زیادہ جوش و خروش پھیلا ہوا ہے اتنا ہی نہیں بلکہ یہ گروہ بند افراد اپنی خوشی اور جوش کا اظہار مسلم طبقہ کے افراد کو چڑا چڑا کر کر رہے ہیں مسلم افراد کے سامنے ریلوے اسٹیشن پر بس اڈوں پر ریل کے ڈ بوں میں اور بسوں کے اندر یہ افراد مسلم طبقہ کے افراد کے خلاف اشتعال انگیز جملوں اور نعروں کی بوجھار کرنے سے قطعی گریز نہیں کرتے انکی حکمت عملی میں بھی لگاتار بلا کی تیز ی نظر آ تی جا رہی ہے جو ایک خطرناک رحجان کی جانب اشارہ ہے! وقت رہتے اس طرح کے بیان دینے والے افراد کے خلاف فوری طور سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے یہ ملک سبھی کا ہے ملک میں سبھی کے حقوق برابر ہیں ایک فرقہ کو بات بات پر د با نا آور نفرت کا نشانہ بنانا ہر صورت قابل مزمت  عمل ہے اس طرح کے معاملات میں سرکار اور سرکاری مشینری کی خاموشی بہت سے سوال پیدا کر تی ہے! سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے حالات حاضرہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مسلسل پچہلے دس سال سے مسلم آبادی ، مدارس اسلامیہ اور مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے مرکزی سرکار اور ریاستی سرکار کے بڑے عہدیدار ایسی شرمناک حرکتوں پر خاموش رہکر وقت بہ وقت ہندو شدت پسند افراد کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں جس وجہ سے ملک کی تیس کروڑ سے زائد مسلم آبادی خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے ہیں! ہم بار بار کہ چکے ہیں کہ ان غیر قانونی حرکات اور بیان بازی کرنے والے شدت پسند افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ ملک کا امن و سکون محفوظ رہ سکے مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب جب مسلم طبقہ کے افراد نے اس غیر قانونی اور خلاف دستور کار کر دگی پر اپنے غم اور غصہ کا اظہار کیا تب تب پولیس اور سرکاری مشینری نے الٹے مسلم افراد کے خلاف ہی مقدمات قائم کر کے مسلم طبقہ کو ہی ٹارچر کیا اور انکے خلاف فوجداری مقدمات قائم کر د ئے ایسی سیکڑوں مثالیں ملک بھر میں موجود ہیں جس وجہ سے آجتک شرجیل امام اور عمر خالد جیسے مہذب نوجوان سرکاری مشینری کا عتاب برداشت کرنے پر مجبور ہیں جبکہ ہندو مذہب کے شاطر ملزمان اور سزا یافتہ افراد باہر عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں سرکار کے اس طرح کے من مانی کرنے کے عمل سے ہندو شدت پسند افراد کے حوصلہ آسمان کو چھونے لگے ہیں اور مسلم آبادی کے شریف افراد ایسے موقعے پر شرمندہ ہو کر رہ جاتے ہیں اس ناز یبہ کارکردگی کے چلتے اب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اندنوں ہمارے با عظمت با وقار مزارات ،ہماری مساجد اور دینی تعلیمی اداروں نیز دار العلوم  دیوبند کو بھی ایک سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے الزام لگایا گیا کہ مدرسہ نے جو زمین خریدی ہے وہ زمین سرکاری ہے بھگوا بریگیڈ کی نیت صاف ہے کہ وہ مساجد اور مدا رس کے جائز کاموں میں بڑی اڑ چن پیدا کر نے کی تیاریاں کر رہے ہیں جو خطرناک رحجان کی جانب بڑا اشارہ ہے!

واضع ہو کہ یہاں عالمی شہرت یافتہ دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے خلاف رک رک کر بار بار نئے نئے تنازعات ابهار کر ہماری ادارہ کے وقار کو مجروح کرنے کی ناکام کوشش ہو رہی ہیں جابر اور شدت پسند بھگوا بریگیڈ بجرنگ دل کے ریاستی کوآرڈی نیٹر وکاس تیاگی نے مقامی ڈی ایم ڈاکٹر دنیش چندر کو  لگاتار بہت سے مکتوب بھیج کر دارالعلوم دیوبند پر سرکاری زمین قبضا  نے تک الزام لگائے مگر سبھی 6شکایات جھوٹی ثابت ہوئیں مگر بھاجپا کے سرپرست مسلم مساجد اور مدارس کو اب کسی بھی صورت برداشت نہیں کر پا رہے ہیں جس وجہ سے ملک میں نفرت اور تعصب سر چڑ ھ کر بول رہا ہے جگہ جگہ مساجد ،مدارس اور مزارات کو زمین بوس کیا جا رہا ہے جاہل اور گھمنڈی سیاست داں یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ تمام عمر اقتدار میں ہی رہیں گے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ فنا ہو نے والا ہے باقی ذات اقدس اللہ تعالیٰ ہی کی باقی رہنے والی ہے وہی ربِ کائنات اور خالق حقیقی ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے