سہارنپور(احمد رضا): مرکزی حکومت نے تمام شکوہ شکایتوں اور مطالبات کے بعد بالآخر بھارت کے اہم ترین اُردو ادارے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان NCPUL کے خالی پڑے عہدہ پر اسی ادارے پبلیشنگ شعبہ کے سابق سربراہ شمس اقبال کو قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کا نیا ڈائریکٹر مقرر کیا جا نا قابل ستائش قدم ھے واضع ہو کہ ایک مدت سے اردو کے شائقین مطالبہ کر رہے تھے، بہر حال اب اس اھم ترین عہدے پر اسی ادارے کے سابق سربراہ کو نئی ذ مہ داری سونپی گئی ہے جو بہر حال بہت ہی نیک قدم ھے ہم شمس اقبال جیسی مہذب اور سنجیدہ شخصیت کا دل کی گہرائیوں خیر مقدم کرتے ہوئے ہم موصوف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں! کل شمش اقبال کیلئے منعقد ہوئے جلسہ تشکّر میں رضوان لائبریری کے سکریٹری جنرل مفتی محمد خبیر ندوی علیگ نے آپکی اردو زبان کے لئے کی گئی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان جیسا باوقار ادارہ مستقل ڈائریکٹر سے محروم تھا اب وزارتِ اعلیٰ تعلیم نے اس پر ایک اہم اور قابلِ قدر شخصیت محترم شمس اقبال صاحب کا تقرر کیا ہے جو اس سے قبل اسی ادارے کے پبلیشنگ شعبہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں، اس لئے اقبال صاحب کا استقبال اس شعر سے کرنے کو جی چاہتا ہے، کہ
اس انجمن میں آپ کو آنا ھے بار بار،
دیوار و دَر کو غور سے پہچان لیجیے۔
خدا کرے شمس اقبال اسم با مسمی بن کر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان جیسے باوقار اردو ادارے کے لئے اقبال مند ثابت ہوں، اور شمس کی طرح اُردو کی روشنی ہر سو پھیلائیں۔ بہر حال میں موصوف کو اس نئی ذمہ داری پر دل کی گہرائیوں س خیر مقدم کرتا ہوں، جلسہ تشکّر رضوان لائبریری تمبور میں مولانا محفوظ احمد صاحب قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مقامی اردو تنظیموں خصوصاً بزم سخن، ارم رفاہ عام کمیٹی، کے عہدیداران شامل ہوئے جس میں قاری عبد المعید، شیخ معراج الحسن، شیخ مسیح الدین، شیخ ماہی ، شیخ عرفان ، شیخ ریاض الحق کے اسمائے گرامی خصوصیت سے قابل ذکر ہیں!
