آر ٹی آئی ماہر کارکن سراج احمد ایڈوکیٹ نے ضلع انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ سے کئی نکات پر مانگی تھی جانکاری
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: گزشتہ جنوری کے دوسرے ہفتے میں ایک مسلم وفد نے ضلع مجسٹریٹ سدھارتھ نگر کے ذریعے گورنر کو مخاطب ایک میمورنڈم اور درخواست پیش کیا تھا جس میں محکمہ پولیس کی جانب سے ضلع کے ہیڈکوارٹر پر واقع بیشتر مساجد سے زبردستی مائک/ ہارن اور ساؤنڈ ہٹانے کے بارے میں تھا اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سدھارتھ نگر کو درخواست بھی پیش کی گئی تھی۔ اس کے اگلے ہی دن ضلع کے ہر چھوٹے بڑے اخبار نے اپنے اخبارات میں اسے نمایاں طور پر شائع بھی کیا تھا۔ اس کے باوجود ضلع انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے مساجد میں مائیک/ساؤنڈ کے استعمال پر پابندی لگانے کے لیے دباؤ ڈالا جانے لگا۔ جس کے بعد دوبارہ مسلم وفد نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے ملاقات کیا اور اپنا موقف پیش کیا، جس پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے کہا کہ آپ لوگ ایس ڈی ایم کو درخواست دیں، اس کے بعد ہم کوئی کارروائی کریں گے۔
اس کے بعد مساجد کمیٹیوں نےایس ڈی ایم کو درخواست دیا لیکن سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اس درخواست پر کوئی رد عمل نہیں دیا اور نہ ہی پولیس انتظامیہ کی جانب سے مسجد کمیٹیوں کی طرف سے دی گئی درخواست پر کوئی توجہ ہی دی گئی۔
اس کے بعد مجبور اور حیران و پریشان ہو کر آر ٹی آئی ماہر کارکن اور ایڈوکیٹ سراج احمد نے ضلع مجسٹریٹ، پولیس سپرنٹنڈنٹ، سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور پولیس اسٹیشن سدھارتھ نگر کو خط لکھ کر حق اطلاعات قانون 2005 کے تحت کئی نکات پر جانکاری مانگی۔
آر ٹی آئی ماہر کارکن اور ایڈوکیٹ سراج احمد کے ذریعے عوامی معلومات کے حق ایکٹ 2005 کے تحت مانگی گئی معلومات درج ذیل ہیں:
1- یہ کہ ضلع ہیڈ کوارٹر سمیت پورے ضلع کے اکثر و بیشتر مساجد سے پولیس انتظامیہ کے ذریعے زور زبردستی کے بل پر مسجدوں سے مائیک/ ہارن ہٹانے کے حوالے سے معزز ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے حکم کی تصدیق شدہ فوٹو کاپی فراہم کی جائے۔
2- یہ کہ شور شرابہ کی آلودگی کے معیارات واضح طور پر بیان کیے جائیں۔
3- یہ کہ ضلع کے اعلیٰ افسران کی گاڑیوں میں کتنے ڈیسیبل کے ہوٹر استعمال ہوتے ہیں؟ کیا وہ صوتی آلودگی کے معیار کے مطابق ہوتے ہیں۔
4- یہ کہ شادی بیاہ کے تمام تقریبات، تہواروں اور سیاسی پارٹیوں اوردیگر پروگراموں میں کس کی اجازت یا حکم سے شور مچانے والا ڈی جے/ہارن/مائیک دن رات اور کس قانون کے تحت بجائے جاتے ہیں یا استعمال ہوتے ہیں؟
5- یہ کہ سال 2024 میں ضلع میں شور کی آلودگی کے خلاف اٹھائے گئے احتیاطی اقدامات کی تفصیلی جانکاری اُن کا نام، پتہ، عہدہ اور تنظیم کے ساتھ فراہم کریں۔
6- یہ کہ مسجد کمیٹیوں کے ذریعے اجازت کے لیے آن لائن اور آف لائن درخواستیں دینے کے بعد بھی اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی اجازت اب تک نہیں دیئے جانے کی وجہ تفصیل سے بتائیں۔
7- یہ کہ ضلع ہیڈ کوارٹر سمیت پورہے ضلع کی اکثر و بیشتر مساجد میں لگے مائک اور ساؤنڈ محکمہ پولیس کے ذریعے زور زبردستی سے ہٹوائے جانے کو لیکرضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو 12.01.2024 اور 05.02.2024 کو ایک شکایتی خط پیش کیا گیا تھا برائے کرم اس پر واضح طور پر ضلع انتظامیہ کے ذریعے کیا کارروائی کی گئی اس کی تفصیلی رپورٹ فراہم کریں۔
مذکورہ بالا حق اطلاعات قانون-2005 کے تحت مانگی گئی معلومات کے جواب میں پولیس انتظامیہ کی طرف سے ضلع کے تمام سی او آفس کے ذریعے جواب فراہم کیا گیا۔ جس میں کہا گیا کہ درخواست گزار سراج احمد ایڈوکیٹ ولد شہاب الدین کی جانب سے سرکل صدر تھانہ سدھارتھ نگر، اسکا بازار، موہا نہ، لوٹن اور کپل وستو سے مانگی گئی پوائنٹ وار معلومات کی بنیاد پر مطلوبہ معلومات کا جواب درج ذیل ہے:
نکتہ نمبر 01، 02، 03 اور 05 کے سلسلے میں یہ بتایا گیا کہ معلومات کے حق ایکٹ-2005 کے قواعد کے سیکشن 4(2)(a) کے مطابق جو معلومات مانگی گئی ہیں وہ ان کے پاس رکھے گئے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے اور عوامی اتھارٹی یا اس کے کنٹرول کا ایک حصہ ہونا چاہیے جو دفتر میں دستاویزی شکل میں معلومات دستیاب ہونا چاہیے جو نہیں ہے۔ اس لیے تسلی بخش جواب مہیا نہیں کرایا جا سکتا ہے۔
پوائنٹ نمبر 04 کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نکتے کی اطلاع عوامی شکایات سیل سے موصول ہوئی تھی۔ موصول ہونے والی معلومات کو اس کی اصل شکل میں منسلک کرکے بھیج دیا گیا ہے۔
پوائنٹ نمبر 06- سرکل صدر کے سدھارتھ نگر، اسکا بازار، موہا نا، لوٹن اور کپل وستو تھانوں سے صوتی آلودگی کے سلسلے میں کوئی احتیاطی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ لہذا معلومات صفر ہے۔
نکتہ نمبر 07 کے حوالے سے یہ بتایا گیاکہ حق اطلاعات قانون 2005 کے سیکشن 4(2) (b) کے مطابق کسی بھی کام کو کرنے یا نہ کرنے کا جواز طلب کیا گیا ہے۔ مواد نہیں ہونا چاہئے. اس لیے معلومات فراہم نہیں کی جا سکتی۔
اسی طرح ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کے ذریعہ سدھارتھ نگر ضلع کی مساجد سے زبردستی مائیک ہارن ہٹانے کے سلسلے میں پولیس سپرنٹنڈنٹ سدھارتھ نگر کو 12.01.2024 سے 05.02.2024 تک دی گئی شکایتی درخواست کے سلسلے میں بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں عوامی شکایات سیل کے ریکارڈ سے درخواست گزاروں کے نام اور پتہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے تحقیقاتی رپورٹ دینا ممکن نہیں ہے۔
جبکہ درخواست گزار کی جانب سے بتایا گیا کہ مذکورہ بالا کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع کے مقامی اخبارات نے اپنے متعلقہ اخبارات میں اسے نمایاں طور پر شائع کیا تھا اور معزز گورنر کو ایک میمورنڈم بھی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو پیش کیا گیا تھا۔ ضلع مجسٹریٹ اور کئی بار مسلم وفد نے براہ راست ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سے بھی ملاقات کی تھی اور مذکورہ معاملے پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا تھا مگر مسلم وفد کو کوئی بھی تسلّی بخش جواب نہیں دیا گیا تھا۔
حد تو اس بات کی ہے کہ حکومت کی جانب سے یا ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا کوئی بھی حکم نامہ پولیس انتظامیہ پیش کرنے سے قاصر رہا جو مسجدوں سے مائک یا ہارن کو کو اتارنے کے متعلق ہوتا۔ پھر بھی پولیس انتظامیہ نے زور زبردستی کے بل پر مسجدوں سے مائک کی آواز کو بند کرنے کا فرمان جاری کیا جا رہا تھا اور اس طرح ایک خاص طبقے کو ہراساں کرنے کا کام کیا جا رہا تھا۔
بہرحال اس دوران راحت بخش خبر یہ ہے کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے مسجدوں سے مائک سے اذان دینے کو لیکر اجازت دینے کی کارروائی شروع کر دیا ہے۔ کئی مہینوں سے اکثر و بیشتر مسجدوں سے مائک کی آواز ہی بند کرا دی گئی تھی لیکن اب دوبارہ پھر سے ضلع انتظامیہ نے اسے شروع کرنے کی کارروائی جاری کر دی ہے۔
جب کہ آر ٹی آئی کارکن سراج احمد ایڈووکیٹ نے پولیس محکمہ کے ذریعے دیئے گئے جواب پر اپنے غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس انتظامیہ نے مسلموں کے ساتھ دوہرا رویہ اختیار کیا اور ہمارے سوالوں کا اطمینان بخش جواب نہیں دیا ہے، میں اب آگے اپیل کروں گا اور وہاں سے بھی اگر مجھے تسلّی بخش جواب فراہم نہیں کیا گیا تو میں سوچنا آیوگ جانے کو مجبور ہوں گا۔ جس کی ساری ذمّہ داری ضلع انتظامیہ اور پولیس محکمہ کی ہوگی۔
