جمعیت علمائے روتہٹ نیپال کے ترجمان اور سماج وادی مسلم سنگھ نیپال کے رکن مولانا انوار الحق قاسمی نے کہا کہ یقینا اس روئے زمین پر عزت و شوکت اور انفرادیت کے حصول کے دو اہم اسباب ہیں:(1) علم اور (2) مال۔
مگر ان دونوں کے باہم ایک بڑا فرق یہ ہے کہ انسان کو جو عزت، مال و زر کے توسط سے حاصل ہوتی ہے، وہ بالیقین عارضی ہوتی ہے؛ کیوں کہ عموماً یہی دیکھا گیاہے کہ مال و زر والی عزت، مال و زر کے ختم ہوتے ہی ختم ہو جاتی ہے ؛مگر علم سے ملنے والی عزت دائمی ہوتی ہے؛ کیوں کہ گزرتے دنوں کے ساتھ علم میں زیادتی ہی ہوتی رہتی ہے، نہ کہ کمی۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ علم ایک ایسی چیز ہے کہ جس میں نقصان کے وقوع کا امکان بہت کم ہوتا ہے؛اس لیے ہم بالیقین کہہ سکتے ہیں کہ علم سے حاصل ہونے عزت دائمی ہوتی ہے۔
ترجمان جمعیت نے انتہائی درد بھرے لہجے میں کہا کہ: خداوند متعال نے ہر شخص کو عارضی اور دائمی اشیاء کے درمیان فرق و امتیاز کے لیے عقل سلیم عطا کیا ہے؛مگر حیرت ہے کہ اس عظیم سرمایہ کے حصول کے باوجود انسان عارضی اور دائمی چیزوں کے مابین فرق و امتیاز نہیں کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان حصولِ علم پر کم اور کسب مال پر زیادہ، توجہ دیتے ہیں۔
ترجمان جمعیت نے مزید کہا کہ:ہر مسلمان کو چاہیے کہ عقل و خرد کو بروئے کار لاتے ہوئے خود بھی دائمی چیز: یعنی حصولِ علم پر زیادہ توجہ دیں، اور اپنی اولاد کو بھی اسی طرف زیادہ توجہ دلائیں ،اسی میں دین و دنیا کی کامیابیاں مضمر ہیں۔
