روزہ جسم کو فٹ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے: ڈاکٹر امتیاز احمد

(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر۔

ماہ رمضان میں تیس دن کے روزے رکھنے سے انسان کی جسمانی اور روحانی قوت بڑھتی ہے۔ روزہ رکھنے سے بھوک اور پیاس کی شدت کا جہاں احساس ہوتا ہے وہیں غریب، نادار اور مفلس طبقے کے لوگوں کے طرز عمل کو نمایاں طور پر عیاں کرتا ہے۔

روزہ انسانیت کا درس بھی دیتا ہے۔ روزہ جسم کی اندرونی بیماریوں کو ختم کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں انسان کو اپنے طریقے سے روزہ رکھنے کے لیے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ روزے کو میڈیکل سائنس نے بھی انسانی جسم کے لیے بہُت مفید بتایا ہے۔اس حوالے سے کولکتہ کےڈاکٹر امتیاز احمد نے بتایا کہ تیس دن کے روزے کی اہمیت کو میڈیکل سائنس نے بھی ثابت کیا ہے جو درج ذیل ہے:-
پہلے دو روزوں کے دوران بلڈ شوگر لیول گر جاتا ہے یعنی خون میں شوگر کے خطرناک اثرات کم ہو جاتے ہیں۔ دل کی دھڑکن سست ہوجاتی ہے اور بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے۔ اعصاب ذخیرہ شدہ گلوکوز کو آزاد کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے جسم میں کمزوری کا احساس ہونے لگتا ہے۔ زہریلے مادوں کی صفائی کا پہلے مرحلے میں سر درد، چکر آنا اور سانس کی بدبو کا خاتمہ کرتا ہے۔

تیسرے سے ساتویں روزے میں جسم کی چربی ٹوٹنے پھو ٹنے لگتی ہے اور پہلے روزے سے گلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کی جلد نرم اور چکنی ہو جاتی ہے۔ جسم بھوک کا عادی ہونے لگتا ہے اور اس طرح سال بھر مصروف رہنے والا نظام ہاضمہ ٹھیک رہتا ہے۔ خون کے سفید خلیات اور قوت مدافعت بڑھنے لگتی ہے۔ ممکن ہے روزہ دار کو پھیپھڑوں میں معمولی تکلیف ہو کیونکہ اس دوران زہریلے مادوں کی صفائی کا کام شروع ہو نے لگتا ہے۔ آنتوں کی مرمت کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ آنتوں کی دیواروں پر جمع ہونے والی پیپ ڈھیلی ہونے لگتی ہے۔

آٹھویں سے پندرہویں دن تک روزہ دار پہلے سے زیادہ متحرک محسوس کرنے لگ جاتے ہیں۔ آپ ذہنی طور پر بھی متحرک اور ہلکا محسوس کرتے ہیں۔ ممکن ہے کوئی پرانی چوٹ یا زخم محسوس ہونے لگے۔ کیونکہ روزہ در کا جسم اپنی حفاظت کے لیے پہلے سے زیادہ متحرک اور مضبوط ہو جا تا ہے۔ جسم اپنے مردہ خلیات کو کھانا شروع کر دیتا ہے جنہیں کیموتھراپی عام طور پر مارنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کی وجہ سے خلیات میں پرانی بیماریوں اور درد کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ اعصاب اور ٹانگوں میں تناؤ اس عمل کا فطری نتیجہ ہے جو کہ قوت مدافعت کے جاری کام کی علامت ہے۔

سولہویں سے بیسویں روزے تک انسانی جسم بھوک اور پیاس کو برداشت کرنے کا مکمل طور پر عادی ہو جاتا ہے۔ روزہ رکھنے والے لوگ خود کو فٹ اور صحت مند محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ان دنوں روزہ داروں کی زبان بالکل صاف ستھری ہو جاتی ہے۔ سانس بھی تازہ ہوجاتی ہے۔ جسم کے تمام زہریلے مادے ختم ہو چکے رہتے ہیں۔ نظام ہاضمہ ٹھیک ہو چکا رہتا ہے۔ جسم سے فاضل چربی اور فاضل مواد نکل جاتے ہیں۔ جسم اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دینے لگتا ہے۔

بیس دن کے بعد دماغ اور یادداشت تیز ہو جاتی ہے۔ توجہ مرکوز کرنے اور سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ بلاشبہ جسم اور روح تیسرے عشرہ کی برکات کو پوری طرح ادا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ یہ دنیا کا فائدہ ہے جو بلاشبہ مولائے کائنات نے مسلمانوں کی ہر طرح کی بھلائی کے لیے فرض قرار دیا ہے۔

رمضان المبارک میں دن میں پانچ وقت کی نماز کی پابندی سے جسمانی اور ذہنی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ نفس پر قابو پانے کی حکمت مضبوط ہو جاتی ہے۔ روزہ برائیوں کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ جسم میں بڑھنے والے پرجیویوں کو ختم کرتا ہے۔ روزہ رکھنے سے قوتِ برداشت کی صلاحیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

چنانچہ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ دین اسلام پر چلنے والے مسلمانوں کو اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ روزے جیسی عبادت کو فرض قرار دے کر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی دنیا و آخرت سنوارنے کا بہترین انتظام کیا ہے۔

رمضان المبارک کو تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ رمضان المبارک کو اللہ کی رحمت کا مہینہ کہا جاتا ہے۔ اس پورے مہینے میں مسلمان اللہ کی عبادت اور بندگی میں مشغول رہتے ہیں اور پورا مہینہ روزے رکھتے ہیں۔ یہ مہینہ ہر مسلمان کے لیے بہت خاص سمجھا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں 29 یا 30 دن کے روزے رکھے جاتے ہیں ان تیس دنوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جنہیں عشرہ کہتے ہیں۔ اس طرح ماہ رمضان کو تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر عشرہ کی الگ اہمیت ہے۔ عشرہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے 10 دن ہوتا ہے۔

اس طرح ماہ رمضان کے 30 دنوں کو 10 دنوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جنہیں پہلا عشرہ، دوسرا عشرہ اور تیسرا عشرہ کہا جاتا ہے۔ پہلے دس دنوں کو پہلا عشرہ کہتے ہیں۔ دوسرا عشرہ 11ویں دن سے 20ویں دن تک اور تیسرا عشرہ 21ویں دن سے 29ویں یا 30ویں دن تک ہے۔ پہلا عشرہ رمضان المبارک کے پہلے ایام کو رحمت کے نام سے جاناجاتا ہے۔ ان 10 دنوں میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر اپنی رحمتیں نازل کرتا ہے جو زیادہ سے زیادہ نیک کام کرتے ہیں، ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں، خیرات کرتے ہیں اور لوگوں سے محبت سے پیش آتے ہیں۔

دوسرے عشرہ کو مغفرت کا عشرہ کہتے ہیں۔ یہ عشرہ گیارہویں روزے سے بیسویں روزے تک رہتا ہے۔ ان دنوں اگر مسلمان اللہ کی عبادت کریں اور سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں تو اللہ ان کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اس مدت میں کوئی ایسا کام غلطی سے بھی نہ کیا جائے جس سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرے۔

تیسرا عشرہ بہت خاص سمجھا جاتا ہے جو نجات کے نام سے منسوب ہے۔ یعنی جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے ہے۔ تیسرا عشرہ 21 ویں دن سے 29 یا 30 ویں دن تک رہتا ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں بہت سے مسلمان مرد اعتکاف میں بیٹھتے ہیں۔ اعتکاف میں شرکت کرنے والوں پر اللہ کی خاص رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ اعتکاف کے دوران کوئی بھی شخص یا علاقے کے جتنے بھی لوگ چاہیں رمضان المبارک کے آخری عشرے ان 10 دنوں تک مسجد میں ایک جگہ بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ وہاں سوتے، کھاتے اور نماز پڑھتے ہیں۔

مشہور صحابی رسول اللہ عبداللہ ببن عمر رضی اللہ عنہ کے مطابق اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عید کی نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں روزے رکھنے اور اللہ کی عبادت کے علاوہ مسلمانوں کو غریبوں کا خاص خیال رکھنے کا بھی حکم فرمایا ہے۔ ایسی حالت میں صدقہ فطر، زکوٰۃ اور زکوٰۃ جیسی چیزیں ہیں۔ جس کے تحت مسلمانوں کو چندہ دیا جاتا ہے۔ شریعت مطہرہ کے اعتبار سے کسی ضرورت مند کو اللہ کی رضا کے لیے پریشانیوں اور برائیوں سے بچنے کے لیے یا کسی خاص چیز پر شکر ادا کرنے کو صدقہ کہتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کسی کو پیسے دیں۔ بلکہ ضرورت مندوں کی ضرورت کے مطابق ضروری اشیاء بھی دے سکتے ہیں۔ اس میں خوراک، آٹا، چاول اور کپڑا جیسی ضروری اشیاء بھی شامل ہیں۔

صدقہ فطر امومن علما اکرام نے اس بار 2.47 کلو گندم کے بدلے 60 روپے فی کس مقرر کیا ہے۔ صدقہ فطر ہر مسلمان مرد، عورت اور بچوں کی طرف سے دینا واجب ہے۔ اس میں فطرہ ہر فرد کو اس کے بچوں سے لے کر ضرورت مندوں تک تمام گھر والوں کے نام دیا جاتا ہے۔

صدقہ فطرہ کی رقم غریبوں، بیواؤں، یتیموں اور تمام ضرورت مندوں کو بھی دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عید کا تہوار امیر غریب سب کے لیے بنایا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ غربت کی وجہ سے لوگوں کی خوشیوں میں کمی نہ آئے اللہ تعالیٰ نے ہر خوشحال اور اہل ثروت مسلمانوں پر زکوٰۃ اور فطرہ دینا فرض کیا ہے۔

زکوٰۃ کی بات کریں تو یہ صدقہ فطر کی طرح نہیں ہے۔ یہ اسلام کے 5 ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ یہ ہر مسلمان پر فرض نہیں ہے۔ صرف خوش حال اور اہل ثروت حضرات کو ہی اُسے ادا کرنے کہا حکم دیا گیا ہے۔ زکوٰۃ ایک مالی ذمہ داری ہے جو بعض شرائط کے تحت ضروری ہے۔ اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ یہ صرف اسی شخص کو دینا ہے جس کے پاس ساڑھے 7 تولہ سونا یا 52.5 تولہ چاندی یا اتنی چاندی کی قیمت کے برابر نقدی یا زیورات ہوں۔ اگر سال یا اس سے زیادہ گزر جائے تو ضروری ہے کہ پورے مال کا ڈھائی فیصد غریبوں اور مساکین کو دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے