چٹگوپہ ۔ یکم اپریل (محمدعبدالقدیر لشکری): ہم نے کل 31؍مارچ کو چٹگوپہ مستقر کے مینارٹیز سے ملاقات کرتے ہوئے پارلیمانی انتخابات کے بارے میں ان کی پسند ناپسند، ان کے مسائل اور دیگرچیزیں دریافت کرنے کی کوشش کی ۔ افسوس یہ رہاکہ جتنے افراد سے ہم نے بات کی ، سبھی اقلیتی نوجوانوں ، مولانالوگ اور بوڑھے حضرات نے ہم سے تعاون نہیں کیا۔اور واضح طورپر کوئی بات نہیں بتائی۔ جس کامطلب یہی نکالاجاسکتاہے کہ یہاں اقلیتی طبقہ ابھی بھی تذبذب میں ہے کہ کانگریس کو ووٹ دے یا بی جے پی کو؟ چٹگوپہ میں جنتادل (یس) کاکافی اثر یہاں کی اقلیتوں پر ہے۔ اسی طرح چند اقلیتی نوجوان بی جے پی میں بھی ہیں۔ اسلئے فوری طورپر کانگریس کوچٹگوپہ کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر چٹگوپہ مستقر چھوٹ گیاتو اس کااثر بیدر پارلیمانی انتخاب پر پڑسکتاہے۔
ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ ساڑھے تیرہ گھنٹے والے روزے چل رہے ہیں۔ 11؍اپریل کے بعد ہی مسلمان کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ لیکن اس بات سے بے خوف ہوجانا کہ یہاں کی اقلیت کانگریس کو ووٹ دے گی ایسانہیں ہے۔ یہاں کے ووٹ بڑی تعداد میں جنتادل (یس) کو گئے ہیں ، جس کی وجہ سے راج شیکھرپاٹل ہمناآباد ایم ایل اے انتخاب مبینہ طورپر ہارگئے تھے اور بی جے پی کے سدوپاٹل نے جیت حاصل کی تھی۔
