ووٹرز کو لبھانے کی کارروائیوں میں دھوپ کی شدت کے ساتھ لفظی جھڑپوں، اسکیمات اور ترقیاتی کاموں کے موضوعات پر انتخابات کی بڑھتی ہوئی گرمی ایک چیلنج
کلبرگی یکم اپریل (ڈاکٹر ماجد داغی کاتجزیہ): لوک سبھا انتخابات سے پہلے کانگریس اور بی جے پی قائدین اپنی اپنی پارٹیوں کی انتخابی مہم میں سرگرم و مصروف ہیں۔ کانگریس امیدوار رادھا کرشن دوڈمنی ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ پانچ گیارنٹیز پر انتخابی مہم چلا رہے ہیں جبکہ رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر امیش جادھو مرکزی حکومت کی اسکیموں اور وزیر اعظم نریندر مودی پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔کانگریس کے رادھا کرشن دوڈمنی گزشتہ تین چار دہائیوں سے ضلع کلبرگی کے رائے دہندگان کی نبض کو جانتے ہیںجبکہ بی جے پی کے ڈاکٹر امیش جادھو روایتی طرز پر اپنی فیلڈ ورک سے شناخت کے ساتھ ساتھ بنجارہ ووٹ پر بڑی گرفت کے حامل ہیں۔
ضلع بھر میں جس تیزی سے گرمی کا اضافہ شدت سے محسوس کیا جارہا ہے، ویسے ویسے انتخابات کی گرمی بھی بڑھتی نظر آرہی ہے۔ دونوں پارٹیوں کے امیدوار اور رہنما ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور جوابی الزامات لگا رہے ہیں۔ ایک جماعت ترقی کے بارے میں دعویٰ و سوال کر رہی ہے، تو دوسری جماعت پوچھ رہی ہے کہ آپ کے دور میں کیا ہوا ہے۔ اس طرح امیدوار کھلے عام چیلنجز پیش کر رہے ہیں۔ضلع انچارج وزیر پریانک کھرگے کے ذریعہ پوچھے جانے پر رکن پارلیمنٹ کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے بیسیوں ترقیاتی کام انجام دئے ہیں۔ اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ لفظی جنگ شروع کر دی گئی ہے. ابتدائی طور پر مندر، مسجد کی بھی باتیں ہوتی رہیں تاہم یہاں کی عوام روزگار اور ترقیاتی کاموں سے متعلق دلچسپی رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ 20,35,806 رائے دہندگان کے اس حلقے میں او بی سی ووٹروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، بعدازاں ایس سی-ایس ٹی، اور مسلم ووٹرز کا شمار ہے۔ اس کے علاوہ کروبا اور کبلیگا برادریوں کے ووٹرز شمار کئے جاتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق یہاں مرد ووٹرز کی تعداد 10,34,376 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 10,31,157 ہے۔ حلقے میں کل 20,35,806 رائے دہندگان پائے جاتے ہیں، جن میں 273 دیگر یعنی تیسری جنس بھی شامل ہے۔ اسمبلی حلقوں کے لحاظ سے رائے دہندگان پر نظر ڈالی جائے تو افضل پور میں 2,34,189 رائے دہندگان ہیں۔ جیورگی – 2,44,495، گرومٹکال – 2,53,489، چیتاپور -2،42،757، سیڈم -2,29,199، کلبرگی گرامن 2،65،136، کلبرگی دکشن – 2،54،601، کلبرگی اتر – 3،11،940، اس طرح جملہ – 20,35,806 ووٹرز اس حلقے پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔
جنتا دل سیکولر کے بی جے پی میں انضمام سے تین رخی مقابلہ دو رخی مقابلہ میں تبدیل ہوگیا ہے اور جنتا دل سیکولر کے ووٹوں کی بڑی تعداد کانگریس کی جانب جھکاؤ رکھتی ہے جس سے رادھا کرشن دوڈمنی کو فائدہ پہنچنے کا امکان روشن ہے ۔پارٹی کارکنوں کی میٹنگوں کے ساتھ ساتھ عوامی میٹنگیں بھی منعقد ہو رہی ہیں۔ پد یاتراؤں کا دور دورہ چل رہا ہے۔ لیکن عام رائے دہندگان کا بڑا طبقہ ابھی تک اپنے موقف کو پوری طرح صاف نہیں کر پایا ہے۔ جس سے صورتِ حال ہنوز غیر واضح ہے.
الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ لوک سبھا انتخابات 2024ء سات مرحلوں میں مقرر ہے جس کے پہلے مرحلے کا آغاز 19 اپریل کو ہوگا جس میں 102 سیٹیں شامل ہیں اسی طرح دوسرا مرحلہ 26 اپریل کو مقرر ہے جس میں 89 سیٹیں شامل ہیں، 07 مئی کو مقرر تیسرے مرحلہ میں 94 سیٹیں ہیں اور چوتھے مرحلہ میں جو 13 مئی کو مقرر ہے 96 سیٹیں شامل ہیں. پانچویں مرحلے میں 49 سیٹوں کے لیے 20 مئی کو انتخابات ہونگے جبکہ چھٹویں مرحلے میں 57 سیٹوں کے لیے 25 مئی کو اور ساتویں مرحلے میں 57 سیٹوں کے لیے یکم جون کو انتخابات مقرر ہیں.
2024ء کے عام انتخابات کیلئے 97 کروڑ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 5 سے 6 لاکھ ایسے ووٹرز کے نام شامل کئے گئے ہیں جو یکم اپریل 2024ء کو 18 سال کی عمر مکمل کر رہے ہیں 85 سال سے زائد عمر کے ووٹرز اور 40 فیصد سے زائد جسمانی معذوری کے حامل افراد کو گھر بیٹھے ووٹ ڈالنے کااختیار حاصل ہے. انتخابی انتظامیہ کے مطابق متعلقہ شکایات 100 منٹ میں حل کی جائیں گی الیکشن کمیشن انتخابات میں تشدد اور خونریزی روکنے کیلئے پرعزم ہے انتخابی عمل میں کنٹریکٹ اور پارٹ ٹائم ملازموں کو الیکشن ڈیوٹی نہیں دی جائیگی. انتخابات میں پیسوں کی طاقت کے تدارک کے لئے موثر اقدامات کئے گئے ہیں. الیکشن کمیشن نے غلط اطلاعات کی وضاحت کیلئے ایک ویب سائٹ روشناس کرائی ہے۔ جس سے صحیح اطلاعات سے واقف ہونے میں مدد حاصل ہوسکے گی. لوک سبھا انتخابات کے دوران 26 اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات بھی ہوں گے۔ یہ تجزیہ ڈاکٹر ماجد داغی نے کیاہے۔
