از قلم: محمد صالح انصاری
جامعہ ملیہ اسلامیہ: ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جمہوریت کی سب سے بڑی خصوصیت ملک کے لوگوں کو ملنے والے اظہارِ رائے کی آزادی ہے۔ ملک آزاد ہونے سے پہلے ہمارے مجاہدین آزادی کو بولنے، بات کرنے، جلوس کرنے، اور اپنی بات لکھ دینے سے جیل میں ڈال دیا جاتا اور غداری کا الزام اُن کے سر ڈال دیا جاتا۔ آزادیِ ہند کی تحریک میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے کئی کئی سال گزارنے والوں میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن، مولانا شوکت علی، مولانا محمد علی جوہر، حسرت موہانی، مولوی محمد باقر اور مولانا ابوالکلام کے ساتھ پنڈت جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی، لال بہادر شاستری، بھگت سنگھ، سکھ دیو، اشفاق اللہ خان اور رام پرساد بسمل جیسے کتنے اور نام ہیں۔ ان سب کا گناہ یہ تھا کہ انہوں نے انگریز حکومت کے انسانیت سوز مظالم کی مخالفت کی اور عوام کو بیدار کرنے کا کام کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کی آزادیِ کی طویل جد و جہد کے بعد ملک کے لوگوں کو بولنے اور بات کرنے کا بنیادی حق ملا۔ عرصوں کی غلامی سے آزادی ملی۔ ایک طرف نوجوانوں کو یہ حق ملا کی وہ بغیر کسی تعصب کے ملازمت کے مختلف عہدوں پر فائض ہونے کے حقدار ہوئے تو دوسری طرف ملک کے کاشتکاروں کو یہ حق ملا کہ اب وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی زمین پر جو چاہئے فصل لگا سکتے۔ کوئی طاقت اُن کو اس حق سے محروم کرنے والی نا رہی۔ ملک دن بہ دن ترقی کے نئے منازل طے کرنے لگا۔ تعلیم حاصل کرنے کی نا صرف آزادی ملی بلکہ آئین میں اس کے لیے الگ سے انتظامات کیے گئے۔ ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے آزادی کا اصلی تصور عوام کے سامنے رکھا اور ملک کے لوگوں کے لیے نئے تعلیمی نظام کی نا صرف بنیاد رکھی بلکہ الگ الگ ادارے قائم کر کے عوام کے حوالے کیا۔ جس کا ثمرہ ہے کہ آج ملک کے الگ الگ حصوں میں تعلیمی اداروں کی موجودگی ملک کے تعلیمی نظام کو ترقی کے نئے منازل پر پہنچا رہی ہے۔
آزادیِ ہند کے پیش رو میں ایک مشہور و معروف نام صحافی مولوی محمد باقر کا ہے۔ انھوں نے اس ملک کے لوگوں کو ان کا اصلی حق دلانے کے لیے اپنی صحافت کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ عوام کو بیدار کر اُن کے دلوں سے ظالم انگریز حکومت کا ڈر ختم کیا۔ اظہارِ رائے کی آزادی تھی کہ وہ اپنی بات عوام تک اپنے اخبار کے ذریعہ پہنچاتے رہے لیکن وہ وقت دور نہیں تھا جب حکومت نے یہ حق چھین لیا۔ اُن پر غداری کا الزام لگا کر سزائے موت دی۔
تاریخ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولوی باقر حسرت موہانی کے مثالوں سے بھرا ہوا ہے لیکن ناانصافی یہ ہے کہ آج آزادی کے 70 سال بعد ہماری اپنی حکومت اپنے ہی عوام کو اظہارِ رائے کی آزادی دینے سے انکار کر رہی ہے۔ يا اس راہ کی رکاوٹ بن رہی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جب حکومت میں اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کی اور اس میں کامیاب ہوئی۔ اس سے پہلے کی ہماری حکومتوں نے بھی یہ کام کیا۔ یہاں تک کہ لوگوں سے اظہار رائے کی آزادی سلب کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ کبھی کسی اخبار کے مالک پر ایف آئی آر کر کے تو کبھی کسی سماجی ذرائع ابلاغ پر کچھ لکھ دینے یا کسی وزیر کی تنقید کر دینے بھر سے اس پر فوری قانونی کارروائی عمل میں آئی ہے۔
حالیہ دنوں میں حکومت کی طرف سے اسی طرح کے کی اقدام کیے گئے جس کو عوام کے اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگانے سے تعبیر کیا گیا۔
بولتا ہندوستان نام سے ایک سماجی ذرائع ابلاغ ادارے پر حکومت نے قانونی نوٹس جاری کر کے روک لگا دی۔ پہلے تو اس کے انسٹاگرام ہینڈل کو معطل کیا گیا اس کے کچھ دنوں بعد ہی یو ٹیوب چینل کو بھی حکومت کے حکم پر معطل کر دیا گیا۔ حکومت کی من مانی اس حد تک چلی گئی کہ حکومت نے یہ تک نہیں بتایا کہ کس وجہ سے یو ٹیوب چینل کو معطل کیا گیا۔ بنا کسی جائز وجہ کے حکومت کا یہ قدم لوگوں کے دلوں میں سوالات پیدا کرتا ہے۔ حکومت کی منشا جگ ظاہر ہو جاتی ہے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی پوری کوشش میں ہے کہ کوئی بھی آزاد آواز حکومت کے کسی بھی فیصلے پر سوال نہ کرے۔ جو جمہوریت میں عوام کا بنیادی آئینی حق ہے۔
گاؤں سویرا نام کا ایک اور سماجی ذرائع ابلاغ ادارہ جس کے بانی "مندیپ پنیا” ہیں، انہوں نے خبر دی کہ کچھ دنوں پہلے اُن کے فیس بک پیج کو حکومت کے حکم پر معطل کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتی کارروائی کے بعد فیس بک تو واپس آ گیا لیکن ایسا ایک لمبی لڑائی کے بعد ہوا ہے۔ حکومت نہیں چاہتی کہ کوئی شخص عوام، کاشتکار، عورت اور اقلیت کے حقوق کی بات کرے۔ اس لیے حکومت ہم سے ہمارے اظہارِ رائے کو سلب کرنا چاہتی ہے۔اب ہم سب کو ایک ساتھ آنا ہوگا اور اپنے حق کی لڑائی لڑنی ہوگی۔
آرٹیکل 19 نام کے ایک اور سماجی ذرائع ابلاغ ادارہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ حکومت کے صرف ایک حکم نامے پر اس کو بھی معطل کر دیا گیا۔ آرٹیکل 19 نے صحافت کی دنیا میں خوجی صحافت اور تحقیقی رپورٹ پر بہترین کام کیا ہے۔ کئی ایسی رپورٹیں ہیں جن کو لوگوں کے بیچ میں خوب تعریف ملی اور حکومت کے کئی غلط عمل کا پردہ فاش ہوا۔
گاوں سویرا، بولتا ہندوستان یا آرٹیکل 19 ایسے صحافتی ادارے ہیں جو آج کے زمانے میں جب عام صحافتی ادارے حکومت کے ہر فیصلہ پر سجدہ ریز نظر آتے ہیں، حکومت کے کاموں پر سوال کرتے اور عوام کے مسائل پر بات کرتے نظر آتے ہیں۔اقلیتی حقوق، نوجوان نسل کی بہتری، بدعنوانی جیسے مسائل، جو آج کے ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اس پر بات کرتے ہیں۔ انہیں سوالالت کی وجہ سے حکومت ان پر روک لگاتی ہے تاکہ عوام حقیقت کی دنیا سے میلوں دور رہے اور تختنشینی کی چاشنی چند مٹھی بھر حکمرانوں کے حصے میں رہ جائے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اتنے روک ٹوک اور سرکاری بادشاہت کے بعد بھی عوام اور خاص کر آزاد صحافیوں کے حوصلے بلند ہیں۔ حکومت سے اُن کے عمل کا حساب مسلسل لے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ مودی حکومت اور میڈیا کے لاکھ کوشش کے بعد بھی حال میں جاری ہوئے لوک نیتی سی.ایس. ڈی. ایس. رپورٹ میں عوام اپنے مسائل کی فہرست میں بے روزگاری، اضافی قیمت اور ترقی کو یاد دلایا ہے۔ جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ موجودہ پارلیمنٹری انتخابات میں عوام ایک ایسی حکومت کو ووٹ دے کر برسرِ اقتدار دیکھنا چاہتی ہے جو زمینی سطح پر عوام کے مسائل، بے روزگاری، ملک کی خستہ حال معیشت، کاشتکاروں کے مسائل، تعلیم کی عام فراہمی کے مواقع، عورتوں کی عصمت کی حفاظت، اظہارِ رائے کی آزادی، اقلیتی طبقہ خاص کر مسلمانوں پر بڑھتے مظالم اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی بہترین شناخت جیسے مسائل کا جواب رکھتی ہو۔
