رپٹن پی یواینڈ ڈگری انسٹی ٹیوٹ بیدر میں اردو زبان اور تہذیب سے متعلق محمدیوسف رحیم بیدری اور رحمت اللہ رحمت شیموگوی کا خطاب

بیدر۔ 17؍اپریل (پریس نوٹ): رپٹن پی یواینڈ ڈگری انسٹی ٹیوٹ اور یہاں کے طلبہ اس بات کے لئے قابل مبارک باد ہیں کہ وہ اردوزبان ، اردو رسم الخط و اردو کتابت اور اسی سے متعلق دیگر سرگرمیوں کو اپنے ادارہ میں انجام دیتے ہیں۔ یہ بات شیموگہ کے جواں سال شاعر جناب رحمت اللہ رحمت ؔ شیموگوی نے کہی۔ وہ آج رپٹنپی یواینڈ ڈگری انسٹی ٹیوٹ ، موقوعہ باورچی گلی بیدرمیں ایک غیرنصابی سرگرمی ’’اردو طغریٰ‘‘ کا ممتاز شاعر وادیب، افسانچہ نگار اور نقاد جناب محمدیوسف رحیم بیدری کے ہاتھوں افتتاح ہونے کے بعد طلبہ سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے مزید کہاکہ زبانیں اپنی تہذیب اور اپناکلچر ساتھ لے آتی ہیں۔ آج عیدین سے زیادہ ’’برتھ ڈے‘‘ پرکپڑے اس لئے خریدے جارہے ہیں کہ آج کامسلمان انگریزی کی طرف راغب ہے اور اردو زبان وادب کو چھوڑ رہاہے۔ اسی طرح ویلنٹائن ڈے کاکلچر بھی خوب پنپ رہاہے۔ جو انگریزی تہذیب کی دین ہے۔

جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے رپٹن پی یواینڈ ڈگری انسٹی ٹیوٹ بید رنامی’’اردو طغریٰ ‘‘ کا افتتاح کرنے کے بعد طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آدمی بھلے جتنی چاہے ترقی کرجائے لیکن اپنی مادری زبان کے ساتھ وفاداری برتے یہی وہ اقدار ہیں جواداروں کو اپنے طلبہ تک پہنچانے چاہیے۔ لیکن آج معاملہ یہ ہے کہ اردو کو خود اردو والے ختم کرنے کے درپے ہیں۔ انگریزی اسکول اس لئے کھولے جارہے ہیں تاکہ اولیائے طلبہ سے رقم کمائی جاسکے۔ نتیجہ کے طورپر’’رومن اردو‘‘ پڑھنے کومل رہی ہے۔ انگریزی تعلیمی اداروں کا نتیجہ ’’رومن اردو‘‘ ہے لیکن یہاں رپٹن پی یو اینڈ ڈگری انسٹی ٹیوٹ بید رمیں اردو زبان کی اہمیت کوسمجھااور طلبہ وطالبات کو سمجھایاجاتاہے۔

انھوں نے طلبہ کو بتایاکہ کس طرح ٹہرنا چاہیے۔ موصوف نے کہاکہ جوطلبہ بیس منٹ سیدھے ٹہر نہیں سکتے وہ دراصل صحت مند نہیں ہوسکتے۔ انھوں نے دونوں پاؤں پر وزن رکھ کر ٹہرنے کی ٹرک بتائی اور کہاکہ ہمارے لڑکے اور لڑکیاں اس طرح کی ٹرک کو آزما ئیں اور باوقاراندازمیں زندگی کریں۔ جناب محمد امجد حسین اڈمنسٹریٹر نے بھی مختصر ساخطاب کیااور طلبہ وطالبات کو تلقین کی کہ وہ اپنی مادری زبان اردوسے جڑے رہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے